علاقے کی ترقی کو جب بھی اور جیسے بھی ضرورت پڑجائے، ایس آر ایس پی کو اپنے ساتھ موجود پائیں گے۔شہزادہ مسعود الملک

علاقے کی ترقی کو جب بھی اور جیسے بھی ضرورت پڑجائے، ایس آر ایس پی کو اپنے ساتھ موجود پائیں گے۔شہزادہ مسعود الملک

7 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال ( بشیر حسین آزاد ) سرحد رورل سپورٹ پروگرام کے چیف ایگزیکٹیوافیسر شہزادہ مسعود الملک نے گرم چشمہ سے ملحقہ گاؤں ایژ میں مایکروہائیڈروپاؤر اسٹیشن کی تعمیر کے سلسلے میں مقامی تنظیم کے ساتھ تھرڈ ڈائیلاگ کیا اور پراجیکٹ پر کام شروع کرنے کے لئے پہلی قسط کا چیک کمیونٹی تنظیم کے ذمہ داروں کے حوالے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے مقامی کمیونٹی کے اراکین اور معززیں سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ چند سال پہلے ایس آر ایس پی نے ملاکنڈ ڈویژن میں( PEACE)کے نام سے یورپین فنڈڈ پراجیکٹ کا آغازکیا تو چترال میں آٹھ یونین کونسلوں کو ٹارگٹ بناکر وہاں مایکروہائیڈروپاؤر پراجیکٹ شروع کئے گئے جن میں گرم چشمہ یونین کونسل شامل نہیں تھا کیونکہ یہاں صوبائی حکومت کی انرجی ڈیپارٹمنٹ کا پن بجلی گھر پہلے سے گرم چشمہ میں موجود ہونے کی وجہ سے ہمیں حکومت کی طرف سے اجازت نہیں ملی تھی۔ انہوں نے کہاکہ اب علاقے کے عوام کی طرف سے بار بار درخواست پراس علاقے میں بھی چھوٹا پن بجلی گھر کی خصوصی منظوری لی گئی اور یہ بات انتہائی خوش آئند ہے کہ اس میں کمیونٹی میں بجلی کی اس پراجیکٹ کے بارے میں مکمل اتحاد واتفاق ہے اور بجلی کے استعمال سے ترقی کی نئی راہیں کھل جاتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ چترال کی آبادی بہت ہی کم اور رقبہ بہت ذیاد ہ ہے جس کی وجہ سے حکومت کے پاس موجود وسائل علاقے کی پسماندگی کو دور کرنے کے لئے قطعی طور پر کافی نہیں ہیں اور مختلف ادارے مل کرہی اس علاقے میں ترقی کا عمل آگے لے جاسکتے ہیں۔ شہزادہ مسعود الملک نے کہاکہ یورپین یونین کی ایک اور پراجیکٹ ملاکنڈ ڈویژن میں سی۔ڈی۔ ایل۔ڈی کے نام سے تنظیموں کے ذریعے کام کررہی ہے اور اس پراجیکٹ سے پور ا پورا فائدہ اٹھانا مقامی کمیونٹی پر منحصر ہے اور اگر اپنی نمائندگی کے لئے درست افرادآگے نہیں کئے گئے تو غلطی کا خمیازہ بھی کمیونٹی کو بھگتنا پڑے گا۔ انہوں نے دوبارہ زور دے کرکہا کہ وسائل کی کمی کی وجہ سے ہمیں اتحاد و اتفاق کا مظاہر ہ کرنا ہوگا تاکہ سب کو ترقی کے لئے اسباب بہم پہنچ سکیں۔ ایس آرایس پی کے چیف نے لو ٹ کوہ وادی کے باشندوں کو یقین دلایا کہ ان کی ترقی کو جب بھی اور جیسے بھی ضرورت پڑجائے، ایس آر ایس پی کو اپنے ساتھ موجود پائیں گے ۔ اس سے قبل ایس آر ایس پی کے ڈسٹرکٹ پروگرام منیجر طارق احمد نے پراجیکٹ کے بارے میں تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہاکہ 40کلوواٹ پیدواری گنجائش کی اس پن بجلی گھر پر 42لاکھ 38ہزار روپے لاگت آئے گی اور اس سے ایژ گاؤں کے ساٹھ گھرانو ں کے علاوہ گرم چشمہ بازار، سرکاری و غیر سرکاری دفاتر ، تعلیمی ادارے اور دینی مدرسے کے طلباء مستفید ہوں گے۔ انہوں نے گزشتہ سال سیلاب اور زلزلے کے بعد ایس آر ایس پی کی طرف سے ریلیف اور بحالی میں کوششوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے پراجیکٹ کی مختلف کمیٹیوں پراجیکٹ کمیٹی، اڈٹ کمیٹی اور دیکھ بال کمیٹی کو فعال کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ پراجیکٹ بروقت اور معیار کے ساتھ پایہ تکمیل کو پہنچ سکے۔ اس موقع پر اپنے صدارتی خطاب میں چترال کے معروف دانشور اسلام الدین نے کہاکہ گرم چشمہ ٹاؤن میں بجلی کی فراہمی کا کام ایس آر ایس پی کا ایک اہم کارنا مہ کے طور پر یاد رکھا جائے گا کیونکہ گرم چشمہ ٹاؤن ایک عرصے سے بجلی کی نعمت سے محروم چلی آرہی تھی اور یہاں دیگر ضروریات زندگی کا فقدان اپنی جگہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایس آر ایس پی میں موجود شفافیت اور اس میں کارکردگی کے حوالے سے چترال میں نمبر ون این جی او کے طور پر سامنے آئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ نیوورلڈ آرڈر میں این جی اوز کا ترقی کے حوالے سے حکومت سے ذیادہ کردار ہے اور ہمیں آنے والے وقتوں میں اپنے آپ کو اس صورت حال کے لئے تیار کرنا چاہئے۔ یونین کونسل شوغور سے ضلع کونسل کے ممبر عبدالقیوم نے اپنے خطاب میں کہاکہ گزشتہ سال قدرتی آفات کے نازک مواقع پر ایس آر ایس پی نے یہاں جوکردار ادا کیا ، وہ کسی سے پوشید ہ نہیں اور نہ اسے بھلایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ فی الوقت یونین کونسل شوغور میں دو کروڑ 35لاکھ روپے اور لوٹ کوہ یونین کونسل میں 95لاکھ روپے کے فنڈ مختص کردئیے ہیں جس سے فلڈ سے متاثر انفراسٹرکچروں کی بحالی ممکن ہوسکے گی۔ مقامی کمیونٹی کی طرف سے آغا خان ریجنل کونسل کے فضل حمید اور مولانا مطیع الرحمن نے فلاح بہبود تنظیم کی طرف سے ادارے کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر سی ڈی ایل ڈی کے پراجیکٹ منیجر منیر سعید کے علاوہ ایس آر ایس پی کے ڈسٹرکٹ انجینئر زعضنفر علی اور انجینئرشفیق ، ایم اینڈ ای کے عابد علی خان اور سوشل آرگنائزر اصحاب الرحمن اور امداد اللہ خان بھی موجود تھے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔