گلگت بلتستان حکومت کے کرپشن پر جلد وائیٹ پیپر شائع کریں گے، پیپلز پارٹی رہنماوں کا سکردو میں پریس کانفرنس

گلگت بلتستان حکومت کے کرپشن پر جلد وائیٹ پیپر شائع کریں گے، پیپلز پارٹی رہنماوں کا سکردو میں پریس کانفرنس

10 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

سکردو( رضاقصیر ) پاکستان پیپلزپارٹی گلگت بلتستان کے صدر امجد ایڈووکیٹ ، سابق صدر سید مہدی شاہ ، جمیل احمد ، انجینئر اسماعیل سعدیہ دانش اور عمران ندیم نے سکردو میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مسلم لیگ ن بلتستان کی کرپشن پر بہت جلد وائیٹ پیپر جاری کریں گے سرکاری اہلکار ریاست کے ملازم ہیں مسلم لیگ ن کے نوکر نہیں بلتستان میں کوئی بھی ٹھیکہ پیپرا رول کے تحت نہیں دیئے جارہے ہیں واٹر اینڈ پاور اور بی اینڈ آر کے افیسران قانون کے بجائے مسلم لیگ ن کے عہدیداروں کی غلامی کر رہے ہیں اگر انہوں نے قانون پر عمل نہیں کیا تو ہتھکڑیاں پہننی ہونگی بلتستان میں ٹھیکہ لینے کیلئے مسلم لیگ ن کا کارکن ہونا شرط ہیں سرکاری ملازمین سینئر وزیر اور سپیکر کے رشتہ داروں کو نواز رہے ہیں حکومتی وزراء ملازمین کو نہیں بچا سکتے نیب بلتستان میں ہونے والے کرپشن کے بارے میں تحقیقات شروع کریں نیب گلگت میں ڈرامہ بازی کر رہا ہے اگر شفاف تحقیقات نہیں کرنی ہے تو دفتر بند کر کے گلگت بلتستان سے چلے جائیں تمام اداروں کو سیاسی اکھاڑابنایا ہوا ہے چیف سکریٹری گلگت بلتستان بھی تمام معاملات میں برابر کے شریک ہیں چیف سکریٹری ریاست کو جوابدہ ہے، نہ کی حفیظ الرحمن کو ان کو اپنا قبلہ درست کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ گلگت سکردوروڈ پر انسانیت سسک رہی ہے سپریم اپیلیٹ کورٹ کے چیف جسٹس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ سکردو روڈ کے معاملے پر سو موٹو ایکشن لیں کیونکہ یہاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہو رہی ہے ازخود نوٹس لینے سے پتہ چلے گا کہ حکومت سکردوروڈ کے مسئلے پر کیا موقف رکھتی ہے جب تک سوموٹو ایکشن نہیں لیا جاتا سکردوروڈ کا مسئلہ حل نہیں ہو گا انہوں نے کہاکہ سکردوروڈ کے معاملے پر سوموٹو ایکشن نہ ہونے کی صورت میں ہمیں گلی کو چوں کو جام کرنا پڑے گا پھر بھی اگر مسئلہ حل نہیں ہوتا ہے تو ہمیں کر گل روڈ کی جانب دیکھنا پڑے گا انہوں نے کہاکہ سکردوروڈ انتہائی اہمیت کا حامل ہے حکومت روڈ کے مسئلے پر سیاست کر رہی ہے اور روزانہ جھوٹ بول رہی ہے انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی کے تمام ناراض رہنماؤں کو منالیا گیا ہے سابق سینئر وزیر محمد جعفرہم سے نہیں ہم ان سے ناراض تھے انہوں نے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے قیادت سے معافی مانگ لی ہے ہم نے ان کی معذرت قبول کی اور انہیں دوبارہ پارٹی میں شامل کیا ہے پیپلزپارٹی سمندر ہے یہاں کسی کے آنے پر بھی پابندی نہیں لگائی جاسکتی انہوں نے کہاکہ ہم نے بلتستان میں پارٹی کی فعالیت اور مضبوطی کیلئے نئے عزم اور جزبے کے تحت کام شروع کردیا ہے کھرمنگ اور خپلو میں سیاست کو نیارخ دیا ہے گانچھے حلقہ نمبر2میں نیا امیدوار سامنے لائیںں گے اور کھرمنگ میں نیا سیاسی اتحاد بنائیں گے اور سب کو پریشان کر یں گے.

انہوں نے کہاکہ وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمن نے سلیف گورننس آرڈر کو قاتل پیکیج کہا کہ اور جرگے کی مدد سے اس پیکیج کے خلاف تحریک چلائی ملک مسکین بھی حفیظ الرحمن کے حمایتی تھے حفیظ الرحمن نے جرگہ تشکیل دے کر ہر جگہ پر پیکیج کے خلاف سازشیں کیں مگر 2015میں حفیظ الرحمن نے سلیف گورننس آرڈر کے تحت ہونے والے الیکشن میں نہ صرف حصہ لیا بلکہ اسی پیکیج کے تحت وزیر اعلیٰ بھی بنے انہوں نے کہاکہ حفیظ الرحمن نے فورتھ شیڈول سے ان لوگوں کے نام نکلوائے ہیں جو کالعدم جماعتوں سے تعلق رکھتے ہیں فور تھ شیڈول میں صرف ان لوگوں کے نام شامل کئے گئے ہیں جو مسلم لیگ ن کے سیاسی مخالف ہیں انہوں نے کہاکہ آنکھوں کے اعلاج کیلئے کریڈ 17اور 18کی پوسٹیں کریڈ کی گئیں تھیں مگر دیامر اور بلتستان کی پوسٹیں کاٹ کر وزیر اعلیٰ نے سیف الرحمن کے نام پر ایک ہسپتال قائم کر کے اس کو دی ہیں ہمیں حفیظ الرحمن کی سیاست پر اعتراض نہیں ہیں لیکن سیاست وہ وفاق سے چار پوسٹیں لاکر کریں ہم انہیں بلتستان اور دیامر کی پوسٹوں پر سیاست کرنے نہیں دیں گے انہوں نے کہاکہ وزیر اعلیٰ ایک محلہ تک محدود ہو گئے ہیں گلگت بلتستان کے عوام ان سے تنگ آگئے ہیں انہوں نے کہاکہ سابق سپیکر وزیر بیگ نے پانچ سال اپوزیشن کا کردارادا کیا اور ہم ان کے اس کردار کا شکار ہو گئے لوگوں کو ہمارے ساتھ کھیلنے کاموقع ہماری کوتاہیوں او ر غلطیوں کی وجہ سے ملا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔