ضلع ہنزہ کے بالائی علاقہ چپورسن گوجال میں گندم کے ڈپو خالی ہو گئے،

ضلع ہنزہ کے بالائی علاقہ چپورسن گوجال میں گندم کے ڈپو خالی ہو گئے،

16 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گوجال ( حیدر علی گوجالی) ضلع ہنزہ کے بالائی علاقے چپورسن گوجال میں گندم کے سرکاری ڈپوخالی، راستے بند ،عوام پریشان۔ تفصیلات کے مطابق چپورسن گوجال میں گندم ڈپوسٹور خالی ہے اور چھ سو گھرانوں پر مشتمل آبادی کے لئے سٹور میں خراب گندم کی چند بوریاں موجود ہیں جبکہ سٹور کے روشندان اور کھڑکیاں بند نہ ہونے کی وجہ سے یہ سٹور چرند پرند اور حشرات الارض کی آماجگاہ بن گئی ہے۔ چپورسن چونکہ ایک دور دراز وادی ہے اور سڑک انتہائی خراب اور پُرخطر ہے۔ حالیہ بارشوں کے دوران چپورسن روڈ مکمل طور پر خراب ہوگئی تھی لیکن مقامی رضاکاروں نے دن رات محنت کر کے سڑک بحال کیا اب چونکہ ندی نالوں میں پانی زیادہ ہونے کہ وجہ سے دریائے چپورسن میں پانی کا بہاوحد سے تجاوز کر گیا ہے اور جون کے وسط سے لیکر اگست تک پانی کے بہاو میں مسلسل اضافہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف دریا کے آس پاس آبادیوں کو شدید خطرہ ہے بلکہ چپورسن روڑ بھی کئی جگہوں پر کٹاو کی وجہ سے بند ہونے کا خطرہ ہے۔ روڑ بند ہونے کی صورت میں علاقے میں ایک بار پھر قحط پڑنے کا اندیشہ ہے۔ علاقہ مکینوں نے سول سپلائی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداورں سے اپیل کی ہے کہ وہ بر وقت علاقے میں کم از کم چار مہینوں کے لئے گندم کا سٹاک پہنچا دیں تاکہ عوام مزید پریشانیوں سے بچ سکیں۔ دوسری طرف کئی زیر کاشت زمینیں او رجنگلات دریائی کٹاو کی زد میں ہیں اگر بروقت اور فوری اقدامات نہیں اٹھایے گیے تو لوگوں کی فصل، درخت او رمکانات تباہ و برباد ہو نے کا خطرہ ہے۔

دوسری طرف چپورسن یوتھ نے انتخابات کے مشروط بائیکاٹ کااعلان کر دیا ہے انھوں نے اپنے مطالبات امیدواروں اور متعلقہ انتظامیہ کے سامنے رکھ دیا ہے جس میں چپورسن روڈ کی مد میں ہونے والی بے قاعدگیوں کی تحقیقات، چپورسن روڑکی توسیع کے کام کاجلد از جلد آغاز، روڈ پر تمام سینکشن اسامیوں پر تقرریاں، چپورسن زیارت پوسٹ کی بحالی اور مقامی لیویز کی بھرتی اور دیگر تمام ادھورے ترقیاتی منصوبوں کی تحقیقات اور ان پر فورا کام کا آغاز کرنے جیسے مطالبات شامل ہیں۔ چونکہ چپورسن کو ہر دور حکومت میں ہمیشہ نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ یوتھ کے سربراہان کا کہنا ہے کہ اس بار علاقے کے عوام متحد ہیں اور چپورسن یوتھ فورم کے شانہ بشانہ کام کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں۔ یاد رہے کہ چپورسن میں پندرہ سو کے لگ بھگ ووٹ موجود ہے او رموجودہ صورتحال کے پیش نظر یہ کسی بھی امیدوار کو کامیابی دلانے کے لیے اہم ثابت ہوسکتاہے۔

WP_20160526_022

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔