گرم چشمہ روڈ پانچویں روز بھی ٹریفک کے لئے بند

گرم چشمہ روڈ پانچویں روز بھی ٹریفک کے لئے بند

12 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گرم چشمہ (بشیر حسین آزاد) دروشپ پل بہہ جانے کے بعد گرم چشمہ روڈ آج پانچویں روز بھی ہر قسم کی ٹریفک کے لئے دروشپ کے مقام پر بند ہے، علاقے کے عوام شدید مسائل کا شکار ہوگئے ہیں، دروشپ پل ایک مرکزی حیثیت کا درجہ رکھتی ہے اس سے روزانہ چترال ٹاؤن آنے والے افراد، ملازمین، مریضوں اور زندگی کے دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والے کثیر تعداد میں افراد سفر کرتے ہیں ان کے علاوہ اس پل سے روزانہ ہزاروں کی تعداد میں طالب علم گرم چشمہ کے مقامی سکول و کالجز میں پڑھنے کے لئے بھی جاتے ہیں آج پانچویں روز بھی روڈ کی بندش کی وجہ سے علاقے کے لوگ شدید مشکلات کا شکار ہوگئے ہیں، دروشپ کے مقام پر لوگوں نے عارضی طور پر ایک پل بنایا ہے یہ پل استعمال کرنے کی صورت میں تمام افراد سے 10 روپے فی کس کے حساب سے پیسے وصول کئے جاتے ہیں موٹر سائیکل سواروں سے 50 روپے وصول کئے جاتے ہیں، یہی حالت پرابیگ وادی میں بھی جاری ہے جہاں پر روڈ بند ہونے بعد مقامی فرد کی زمینوں میں سے جانے کے لئے فی کس 10 روپے اور موٹرسائیکل سواروں سے 50 روپے وصول کئے جارہے ہیں، گرم چشمہ کے عوام نے ہمارے نمائندے سے بات کرتے ہوئے اس کو انسانیت کے نام پر دھبہ قرار دیا کسی افراد نے مبینہ طور پر الزام لگایا کہ اس ٹیکس میں کچھ بااثر افراد کا حصہ بھی ہے یہی وجہ ہے کہ اتنی غنڈہ گردی کے باوجود علاقے کے نمائندے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، گرم چشمہ روڈ شاشا اور کاست کے مقام پر ایک دو دن میں بہہ جائے گا اس صورت میں شاشا واٹر سپلائی سکیم کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے، اس سلسلے میں حکومتی دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں فنڈز ریلیز ہونے کے سارے بہانے عوام کے سامنے بری طرح ایکسپوز ہوچکے ہیں یا پھر روڈ بہہ جانے کا انتظار کیا جارہا ہے تاکہ فنڈز کے خرربرد کو آسان بنایا جائے، علاقے کے عوام نے نمائندوں اور انتظامیہ کی خاموشی کو معنی خیز قرار دیا ہے اور وزیراعظم، وزیراعلی اور ڈی سی چترال سے بروقت کارروائی کرتے ہوئے علاقے کو ایک بڑے المیے سے بچانے کی اپیل کی ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔