رکن قانون ساز اسمبلی کاچو حیدر نے حلقے کے دور افتادہ علاقے کا دورہ کیا، مسائل حل کرنے کی یقین دہانی

رکن قانون ساز اسمبلی کاچو حیدر نے حلقے کے دور افتادہ علاقے کا دورہ کیا، مسائل حل کرنے کی یقین دہانی

12 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

سکردو: رکن قانون ساز اسمبلی کاچو امتیاز حید ر خان اپنے حلقے کے دورے کے سلسلے میں آج گلگت بلتستان کے منفرد اور انتہائی پسماندہ علاقہ ستقچن شغرتھنگ پہنچے۔ عموماً یہاں رکن اسمبلی صرف الیکشن کی کنوینسنگ کے لیے آتے تھے پھر پانچ سال تک کوئی پلٹ کے نہیں آتا تھا یہ یہاں کی تاریخ میں پہلی دفعہ ہوا ہے کہ کوئی بھی رکن اسمبلی الیکشن کے بعد بھی اس علاقہ کا دورہ کیا ہو کاچو امتیاز حیدر خان کے ساتھ نامور عالم دین علامہ شیخ زاہد حسین ڈاکٹر شجاعت میثم ڈاکٹر محسن بلتی اورڈاکٹر عیسیٰ دولتی بھی ہمراہ تھے کاچوصاحب اور پوری ٹیم دشوار گزار راستوں سے ہوتا ہوا چار گھنٹے میں ستقچن پونچے تو عمائدین نے پرجوش استقبال کیا سب سے پہلے پرائمری اسکول کا دورہ کیا اور بچوں میں کاپیاں پنسل اور ربر تقسیم کئے پھر شغرتھنگ پونچے وہاں فری میڈیکل کیمپ لگائے تمام مریضوں کو فری دوائیاں دی گئی ڈاکٹر شجاعت میثم نے شغرتھنگ کے نوجوانوں بزرگوں اور خواتین کو حفظان صحت کے بارے میں لکچر بھی دیا صحت کے بنیادی اصول سمجھائے کچھ بزرگ مریضوں کو ان کے گھروں میں جاکے چیک اپ کئے کاچو صاحب نے یہاں مڈل اسکول کا دورہ کیا یہاں 77اسٹوڈنٹس تھے اور چار اساتذہ چاروں حاضر تھے اساتذہ نے بتایا کہ 2010 سے اپ تک ایجوکیشن آفس کی طرف سے کوئی بھی یہاں دیکھنے نہیں آئے ہے یہاں نہ بجلی ہے نہ ہی فون کی سہولت اس لیے بہت مشکل حالات ہے

کاچو صاحب نے یقین دلایا کہ وہ محکمہ تعلیم کے آفسرزسے اس سلسلے میں بات کریں گے اور ہر تین ماہ میں اے ڈی آئی کا ایک وزٹ رکھیں گے شام میں کاچو صاحب اور ان کی پوری ٹیم واپس ستقچن آئے اور یہاں بھی فری میڈیکل کیمپ لگائے اور اہل محلہ سے ملاقات میں کاچوصاحب نے لوگو ں کو بتایا کہ خدا کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتے ہیں جب تک وہ خود اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہ کریںیاد رہے ستقچن شغرتھنگ بلتستان کا واحد علاقہ ہے جہاں ترقی کی رفتار صفر ہے زندگی لگتا ہے سو سال سے منجمد پڑی ہے انتہائی خستہ گھر غربت کی داستان سنارہا تھایہاں دلفریب قدرتی حسن اور معاشی غربت کا عجیب امتزاج دیکھنے کو ملتا ہے کاچو صاحب نے لوگوں پہ واضح کیا کہ آپ کو اپنے حقوق کے لیے خود لڑنا ہوگا اور اپنے حالات بدلنے ہوں گے جس کے لیے محلے کی سطح پہ کمیٹیاں بنانی ہوگی اپنے اندر اتحاد پیدا کرنا ہوگا بطور ممبر اسمبلی اس پانچ سالوں میں وہ انشاء اللہ سڑک کی مرمت اور گرلز اسکول اور دیگر مسائل کو حل کرنے کی بھر پور کوشش کریں گے علامہ شیخ زاہد حسین نے ستقچن میں لوگو ں کو اسلامی درس دیا اور دین پر کاربن رہنے کی ہدایت کی

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔