میجر (ر) امین میں اخلاقی جرات ہے تو ہنزہ نگر میں بلتستان سے تعینات ہونے والے امیدواروں کی بھی مخالفت کرے، سیکریٹری لوکل گورنمںٹ کا جوابی وار

میجر (ر) امین میں اخلاقی جرات ہے تو ہنزہ نگر میں بلتستان سے تعینات ہونے والے امیدواروں کی بھی مخالفت کرے، سیکریٹری لوکل گورنمںٹ کا جوابی وار

46 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت (پ ر) سیکریٹری لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی گلگت بلتستان آصف اللہ خان نے مقامی اخبارات کیلئے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ محکمہ ہذا میں ہونے والے بھرتیاں میرٹ اور شفاف بنیادوں پر ہوئیں ہیں اس میں کسی قسم کا کوئی سفارش نہیں چلی ہے اور جس امیدوار نے ٹیسٹ انٹرویو میں کامیابی حاصل کی ہے اس کی تقرری کردی گئی ہے اس سلسلے میں تمام ریکارڈ موجود ہے انہوں نے کہاکہ19جون 2016ء کو معزز ممبر اسمبلی میجر (ر) محمد امین کی طرف سے بھرتیوں کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ معزز ممبر کو چاہئے تھا کہ محکمہ سے ایک دفعہ وضاحت لے لیتے اور یہی احسن طریقہ ہوتا ہے عوام کو گمراہ کرنا کسی طور پر مناسب نہیں سپورٹس آفیسر کی پوسٹیں اوپن میرٹ کی تھیں جس پر کوئی بھی امیدوار کامیاب ہوسکتا تھا سیکریٹری بلدیات نے مزید کہا کہ محکمہ ایل جی اینڈ آر ڈی نے 3سپورٹس آفیسر BPS-16کی پوسٹیں دیگر خالی آسامیوں کے ساتھ جنوری میں مشتہر کی سپورٹس آفیسر کی چوتھی آسامی وزیر اخلاق کے ممبر جی بی کونسل منتخب ہونے پر19مئی کو خالی ہوئی لہٰذا ضابطہ کے تحت چوتھی آسامی کیلئے بھی امیدواروں کو منتخب کئے گئے یہ اقدام عین قانون کے مطابق ہے مشتہر کی گئی آسامیوں سے کمی بیشی کرنا کوئی غیر قانونی نہیں ہے محکمہ ایل جی اینڈ آر ڈی نے مناسب سمجھا کہ ایک خالی آسامی الگ سے مشتہر کرکے دوبارہ ٹیسٹ و انٹرویو لینے کی بجائے جب اس نوعیت کے3پہلے سے مشتہر شدہ آسامی کے ساتھ ہی اس کے لئے بھی امیدوار منتخب کیا جائے اور سرکاری خزانے کو نقصان سے اور اہلکاروں کا وقت بچایا جائے انہو ں نے کہا کہ سکردو کے امیدواران صرف سکردو کی آسامی کیلئے اپنا حق سمجھتے ہیں اگر ایسا ہے تو ہنزہ نگر کی آسامی اکاونٹ آفسر پر سکردو کے مسمی عابد حسین کیوں کر منتخب ہوئے کیا ان کی تقرری بھی غیر قانونی ہوگی انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ سکردو کے عوام سکردو میں دستیاب آسامی پر صرف اپنا حق سمجھتے ہیں اگر سوچنا ان کی مجبوری ہے تو اس کیلئے قانون سازی کی جائے کیوں کہ قانون میں ایسی کسی خواہش کیلئے کوئی گنجائش نہیں ہے انہوں نے کہا کہ اگر میجر (ر) محمد امین یہ سمجھتے ہیں کہ سکردو کے امیدواران کو اس خالی آسامی کی خبر نہ ہوئی تو اس پوسٹ کیلئے بلتستان سے تعلق رکھنے والے 17امیدواروں نے ٹیسٹ میں حصہ کیسے لیا جس میں سے ایک امیدوار نے ٹیسٹ بھی پاس کیا اور انٹرویو میں ناکام رہا انہوں نے آسامیوں کے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کے ضلع و یونین کونسلات کے سکیل نمبر9سے16تک 31پوسٹیں اوپن میرٹ پر ٹیسٹ لیا گیا ان پوسٹوں کیلئے بلتستان ریجن سے16امیدواروں نے ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کرکے انٹرویو کیلئے شارٹ لسٹ ہوئے ان میں سے3امیدوار حتمی طور پر کامیاب ہوئے جن میں سے 1۔مسمی محمد ظفر ولد محمد حسین ساکنہ سکردو اکاونٹس آفیسرBPS-16ضلع کونسل ہنزہ نگر کی خالی آسامی کیلئے کامیاب قرار دیئے گئے 2۔سید عابد حسین ولدغلام مہدی اکاونٹنٹ / اسسٹنٹ اکاونٹنٹ BPS-14میونسپل کمیٹی ہنزہ نگر کی خالی آسامی کیلئے کامیاب قرار دیئے گئے کیا میجر (ر) محمد امین میں اتنی اخلاقی جرأت ہے کہ ان دو بلتستان سے تعلق رکھنے والے افراد کی اپنی قائم کردہ منطق کے مطابق ہنزہ نگر میں تعیناتی کی بھی مخالفت کریں کیا دوسرے اضلاع سے تعلق رکھنے والوں کا صرف بلتستان میں تقرری غیر قانونی یا ناقابل قبول ہے؟اس کے علاوہ محمد ایل جی اینڈ آر ڈی کیلئے سکیل نمبر9تا14تک ٹیسٹ انٹرویو لئے گئے جس کے کل آسامیاں 11تھی جوکہ اوپن میرٹ پر تھی ان 11پوسٹوں کیلئے بلتستان ریجن سے7امیدواروں نے تحریری امتحان پاس کرکے انٹرویو کیلئے شارٹ لسٹ ہوئے انٹرویو کے بعد2امیدوار مسمی منظور حسین ولد ابراہیم ساکنہ گانچھے بحیثیت فوٹو گرافرBPS-14کامیاب ہوئے اور مسمی شکیل احمد ولد قمبر علی ڈیٹا انٹری آپریٹرBPS-12کامیاب ہوئے جبکہ5امیدوار ناکام ہوئے سیکریٹری لوکل گورنمنٹ آصف اللہ خان نے لوکل کونسلات کیلئے لئے گئے ٹیسٹ و انٹرویوز کے حوالے سے بتایا کہ گلگت بلتستان کے ضلع و میونسپل کمیٹیوں کیلئے خالی آسامیوں پر بھرتیوں کیلئے تمام قانونی اور کاغذی لوازمات پورے کئے گئے تھے تب جاکر ان خالی آسامیوں پر بھرتیاں کیں گئیں انہوں نے کہاکہ لوکل گورنمنٹ میں ہونے والے بھرتیوں کے لئے5فروری2016ء کو 2مقامی اور ایک قومی اخبار میں باقاعدہ اشتہارات دی گئی ہیں جن کی کاپیاں ہمارے ریکارڈ میں موجود ہیں سسٹم کو نہ سمجھنے کی وجہ سے دیئے گئے بیانات اور من گھڑت الزامات کی ہی وجہ سے اکثر محکمے خالی آسامیاں مشتہر نہیں کرتے محکمہ بلدیات کی یہ60آسامیاں تقریباً10سالوں سے خالی تھیں اور کوئی انہیں پر کرنے کی جرأت نہیں کررہا تھا مزید لوکل کونسل کی سروسز اب باقاعدہ لوکل کونسل سروسز کے نام سے نوٹیفائی ہوگئی ہے اور ایک مرکزی بورڈ بھی بن گئی ہے اس لئے یہ تاثر کہ لوکل کونسل کی ہر آسامی مقامی سطح پر ہی پر ہوگی غلط ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔