ضلع غذر کے علاقے بتھریت میں فائرنگ سے دو افراد جان بحق، تین زخمی

گوپس (بیورورپورٹ: 2 بجے تازہ ترین اطلاعات کی روشنی میں اپ ڈیٹ کیا گیا) ضلع غذر کے تحصیل گوپس میں واقع بتھریت نامی علاقے کے گاوں رحیم آباد میں خونی فائرنگ کے واقعے میں دو افراد جان بحق اور تین زخمی ہوگئے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق مسلح حملہ آوروں نے ایک گھر میں گھس کر فائرنگ کی جس سے دو افراد جان بحق اور تین زخمی ہوگئے۔

افسوس ناک حملے کے خلاف گوپس تحصیل ہیڈکوارٹر میں ہزاروں افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا، جبکہ تحصیل بھر میں شٹر ڈاون ہڑتال بھی کیا گیا۔

معروف مقامی صحافی راجہ عادل غیاث کے مطابق پولیس نے اس واقعے میں ملوث تین افراد کا سراغ لگانے کا دعوی کیا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ مقتولین اور ملزمان کے درمیان اسلحہ کی خریدوفروخت کے معاملے پر چند روز قبل جھگڑا ہوا تھا۔ افسوسناک ساںحے کو اسی جھگڑے کا شاخسانہ قراردیا جارہا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ دو ملزمان کا تعلق ضلع داریل کے علاقے تانگیر سے جبکہ ایک کا تعلق رحیم آباد گاوں جہاں دہشتگردی کا یہ واقعہ پیش آیا سے ہے۔

ممبر قانون ساز اسمبلی فدا خان نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوے کہا کہ انہوں نے علاقے میں غیر محفوظ سیکیورٹی صورتحال سے اسمبلی کو آگاہ کیا تھا مگر انتظامیہ اور حکومت نے کوئی اقدامات نہیں اُٹھائے جس کی وجہ سے یہ افسوس ناک واقعہ پیش آیا۔

احتجاج میں شامل مظاہرین مقامی انتظامیہ اور حکومت کے خلاف نعرہ بازی کر رہے تھے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی دہشتگردی اور قتل و غارت کے واقعات اس علاقے میں ہوتے رہے ہیں لیکن سیکیورٹی بہتر بنانے کے لئے خاطر خواہ انتظامات نہ کئے جانے کی وجہ سے حملہ آور دلیر ہوتے جارہے ہیں۔ تحصیل گوپس کی حدود ضلع دیامر کے علاقے داریل اور تانگیر سے ملتی ہیں اور ماضی میں اس طرح کے واقعات میں ملوث افراد بھاگ کر دور دراز کے چراگاہوں میں پناہ لیتے رہے ہیں۔

مقررین نے گلگت بلتستان پولیس کی کارکردگی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوے علاقے میں گلگت بلتستان سکاوٹس نامی پیرا ملٹری فورسز کے جوانوں کی تعیناتی کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری طرف علاقے کے سماجی اور سیاسی رہنماوں نے علاقے کے مکینوں سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے اور حکومت اور ریاستی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ حملہ آوروں کی سرکوبی کی جائے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments