وزیر تعلیم متوجہ ہو۔۔۔

وزیر تعلیم متوجہ ہو۔۔۔

27 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

کہتے ہیں زمانہ قدیم میں عام طور پر تعلیم برائے تعلیم کا رواج تھااور علم یا تعلیم کا رشتہ معاش سے کم اور زندگی سے ذیادہ جڑا ہوا تھا ۔ قدیم زرعی دور میں معاش کا تعلق جسمانی محنت سے ذیادہ اور دماغی محنت سے کم تھا اس صورت حال نے علم کو معاش کے بجائے زیادہ تر خود علم سے جوڑر کھتا،یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ تمام بڑے اہل علم قدیم زمانے میں پیدا ہوئے۔ موجودہ زمانے میں ڈاکٹر اور انجینئر اور دوسرے تجارتی شعبوں کے ماہرین تو بہت پیدا ہو رہے ہیں، مگر خالص عملی شعبہ کے ماہرین موجودہ زمانے میں بہت کم نظر آتے ہیں۔ زمانہ حال میں علم اقتصادیات کے تابع ہوگیا ہے، جبکہ قدیم زمانے میں زندگی کے تمام شعبے بشمول اقتصادیات علم کے تابع ہوا کرتے تھے۔ یعنی آج کے دور میں بدقسمتی سے لوگوں نے علم حاصل کرنے کا اصل مقصد حصول معاش کا ایک ذریعہ بنایا ۔ اگر ہم گلگت بلتستان کے تناظر میں دیکھیں تو یہاں بدقسمتی سے تعلیم کو نہ صرف حصول جوڑا گیا بلکہ تعلیم کے مقدس پیشے کو ایک تجارتی صنعت کا درجہ دیا گیایہی وجہ ہے کہ آج بھی ہمارے ہاں معیاری تعلیمی اداروں کا فقدان ہے پارٹیاں بدل بدل کرنے تخت گلگت پر جمان ہونے والوں نے کبھی بھی تعلیم کو ترجیحات میں شامل نہیں کیا ، خطے کی تاریخ میں پہلی بار جنرل مشرف کے دور میں ایک ہی یونیورسٹی بنایا اور آج اُس ادارے کی کارکردگی عوام کے سامنے ہے۔ تعلیم اور حصول معاش کا مسلہ ہمارے خطے میں ایک پیچیدہ اور گھمبیر صورت حال اختیار کرچُکی ہے یہی وجہہے کہ گلگت بلتستان کے باشندوں کا اپنے بچوں کی بہتر تعلیم اور روزگار کی خاطر شہروں کی طرف رخ کرنا عام سی بات ہے اس وقت گلگت بلتستان کی کثیر آبادی تعلیم اور معاش کی خاطر پاکستان کے مختلف شہروں میں آباد ہیں۔اگر ہم گلگت بلتستان میں رائج نظام تعلیم کو پاکستان کو دوسرے آئینوں صوبوں کے ساتھ ملا کر جائزہ لیں تو ہماری نئی نسل کیلئے لمحہ فکریہ ہے کہ اس خطے میں حکمران کہلانے والوں سے آج تک ایک بک بورڈ قائم نہ ہوسکا جو ہماری نئی نسل کو ہماری تاریخی،جعرافیائی اہمیت اور قانونی حیثیت کے بارے میں روشناس کراسکے۔ہمارے ہاں سرکاری اور نجی اسکولوں میں آج بھی اپنے خطے کے حوالے سے ایک بھی مضمون شامل نہیں حالانکہ گلگت بلتستان کی تاریخ جموں کشمیرسے بھی قدیم اور تباناک رہی ہے لیکن یہ خطہ چونکہ آئینی اور قانونی طور پر کسی ملک کا حصہ نہیں لہذا پاکستان کے فیصلہ سازوں نے شائد یہی سوچا کہ اس خطے کے عوام کو دوسروں کی تاریخ پڑھا کر اپنی تاریخ سے دور رکھ کر غفلت کی گہری نیند میں سُلا کر رکھیں۔ تاریخ کے جھروکوں میں جائے بغیر موجودہ صورتحال پر اگر بات کریں تو سابق حکومت نے جس طرح تعلیم کے ادارے کو صنعت کا درجہ دیکر جو محکمہ تعلیم کا حال کیا وہ سب ہمارے سامنے ہیں۔ اور موجودہ حکومت کی اگر ہم بات کریں تو ہم دیکھتے ہیں کہ وزیر تعلیم جناب ابراہیم ثنائی صاحب گلگت بلتستان میں نظام تعلیم کو بہتر بنانے کیلئے کوشاں ہیں تعلیم کی بہتری کیلئے انکا یہ جذبہ قابل قدر اور لائق تحسین ہے کیونکہ تعلیم کے بغیر کسی بھی معاشرے کی تعریف مکمل نہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں جہاں ریاست کے دوسرے ادارے کرپشن اور اقربا پروری کاگڑھ ہے بلکل اسی طرح جیسے راقم نے اوپر ذکر کیاکہ محکمہ تعلیم کوسابق دور میں محکمہ تجارت کا درجہ دیاتھا۔ اب موجودہ وزیر تعلیم اس تجارتی اڈے پر تعلیمی ماحول پھر سے اُجاگر کرنے کیلئے کوشش کر رہے ہیں جو کہ اچھی پیش رفت ہے۔ لیکن چراغ تلے اندھیرا والی بات ہے کہ موجودہ حکومت کے کچھ ممبران اور خود وزیر تعلیم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ سیاسی بنیادوں پر اساتذہ کے تبادلے اور سفارشی بھرتیوں کیلئے پرچیاں دینا آج بھی معمول کی بات ہے جس ایک مثال اگر ہم ڈسٹرک کھرمنگ سے لیں تواس وقت غاسنگ،منٹھوکھا، مادھوپور اور گوہری اور کھرمنگ سے تعلق رکھنے والے کئی قابل، مخلص اور فرض شناس اساتذہ کو سیاسی بنیادوں پر ٹاؤن ایریا سیتبادلہکرنے کی خبریں گردش کررہی ہے جبکہ ان علاقوں میں پہلے ہی مقامی تعلیم دشمن نام نہاد سرکردگان کی وجہ سے سرکاری اسکولوں کا کوئی پرسان حال نہیں اور پہلے ہی مقامی آبادی کے لحاظ سے اساتذہ کی کمی کا سامنا ہے۔حال ہی میں غاسنگ کھرمنگ میں گرلز ہائی سکول کاافتتاح ہوا مگر کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ یہاں کوئی سبجیکٹ اسپشلسٹ موجود ہی بھی یا نہیں۔ کہا یہ جارہا ہے کہ اس سکول کے نام پر گلگت سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون ہیڈ مسٹرس سکردو میں بیٹھ کر تنخواہ لے رہی ہے مگر کسی کو خبر ہی نہیں۔اسی طرح اس علاقے میں آج تک بوائز کیلئے ایک ہائی اسکول قائم نہیں ہوسکا یہی وجہ ہے کہ یہاں کے طلباء میٹرک کی تعلیم کیلئے تیس کلومیٹر پیدل سفر طے کرکے جاتے ہیں ۔سابق دور میں ہونے والے غیرقانونی بھرتیوں کے حوالے سے کئی بار جانچ پٹرتال ہونے کے باوجود آج بھی اُن بھرتیوں کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔اساتذہ کی بھرتیوں کے حوالے سے حالیہ امتحان کاذکر کریں توامتحانی سنٹرز میں ہونے والے بے ضابطگیاں مقامی پرنٹ میڈیا کی زینت بن چُکی ہے۔لہذا تعلیم کی بہتری کیلئے نعرہ لگانے سے پہلے تعلیم دینے والوں کی دادرسی ضروری ہے ورنہ انکا یہ نعرہ بھی فقط سیاسی نعرہ تصور کیا جائے گا اورنئی نسل کو خطے کی تاریخی اہمیت اور قومی شناخت کے حوالے سے جن مسائل کا سامنا ہے اس حوالے سے مطالعہ پاکستان کی طرح مطالعہ گلگت بلتستان بھی ناگزیر ہو چُکی ہے لہذا وزیر تعلیم کو چاہئے کہ محکمہ تعلیم بہتری کیلئے صرف سیاسی بنیادوں پر تسلیاں اور دینے کے بجائے انقلابی تبدیلی لیکر آئیں نجی اسکولوں کی غیر معیاری تعلیم اور آسمان کو چھوتی فیسوں کے حوالے سے بھی قانون سازی کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس وقت پورے خطے کسی سطح پر نجی تعلیمی ادارے ایک طرح سے مافیا کی شکل اختیار کرچُکی ہے جنکا اصل مقصد صرف اور صرف بہتر انکم کا حصول ہے لہذا جس طرح سرکاری اسکولوں میں حاضری کیلئے بائیو میٹرک سسٹم متعارف کرایا ہے بلکہ اسی طرح نجی اسکولوں کے اساتذہ کی تعلیمی قابلیت اور تجربہ چیک کرنا ضروری ہے۔ لہذا امید کرتے ہیں کہ وزیرتعلیم اس شعبے کو درپیش مسائل کی حقیقی اور مستقل حل کیلئے بہترین کردار ادا کریں گے۔ شکریہ۔
از۔شیرعلی انجم

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

شیر علی انجم

شیر علی بلتستان سے تعلق رکھنے والے ایک زود نویس لکھاری ہیں۔ سیاست اور سماج پر مختلف اخبارات اور آن لائین نیوز پورٹلز کے لئے لکھتے ہیں۔