گلگت بلتستان کی تعلیی محرومیاں اور انتظامی نا اہلیاں 

تحریر: حسین بلغاری 

قدرت نے خطہ گلگت بلتستان کو قدرتی وسائل کی لازوال نتعمتوں سے نوازا تو یہاں کے مکین بھی ہر میدان مین کسی سے بھی کم نہیں ، وہ سکردہ کا حسن سدپارا ہو جس نے پہاڑوں کی بلندیاں چھوتے ہوئے دنیا مین اپنا اور پاکستان کا نام روشن کیا ، وہ انسانی جانوں کے تحفظ میں سرکراں کسی بم بار کی نظر ہو جانے والا اشرف نور ہو ، ایسے ہی بے شمار نام ہین جنہوں نے پہاڑوں اور دلکش وادیوں سے ہوش سنبھالا ، ابتدائی تعلیم و تربیت وہیں سے حاصل کی اور اپنی وادی و ملک کا نام روشن کرنے مین مثالیں قا ئم کر لیں۔۔۔۔۔ یہ سبھی لوگ اسی سر زمین سے ابھرے اور ملک کا نام روشن کیا،،،،،،،، گلگت بلتستان جو کہ پہاڑوں وادیوں اور شنگلاخ برفانی پہاڑوں کی سر زمین ہے ،، جہاں معمولات زندگی اس خطے کے دیگر علاقوں کی نسبت بے حد مختلف ہیں،، شہری آبادی سے میلوں دور پہاڑوں کے درمیاں سے ایسے گوہر نایاب ابھر کر سامنے اائے کہ اپنا نام منوا لیا،،،

اگر بنیادی ضروریات زندگی کی بات کی جائے تو توتعلیم ایک بنیادی عنصر ہے جس کے بغیر معاشرے کی ترقی ممکن نہیں،، تعلیمی شرح خواندگی مین بحر حال پاکستان کا یہ خطہ بھی شرح خواندگی مین پہلے درجوں میں ااتا ہے، ابتدائی اور بنیادی تعلیم کی فراہمی تک تو یہاں سرکاری اور نجی سظح پر ادارے موجود ہیں ،، لیکن اگر اعلی تعلیمی سہولیات کی بات کی جائے تو تین ملین کی آبادی کے لئے اس پورے خطے مین صرف دو یونیورسٹیاں قائیم ہیں جو اعلی تعلیم ضروریات پوری کرنے کے لئے ناکافی ہیں ، اعلی تعلیم کی غرض سے طلبا کی بڑی تعداد کو اس خطے سے ہجرت کر کے راولپنڈی لاہور اور کراچی کا رخ کرنا پڑتا ہے ۔ اسو خطے کے باسی دیس سے اتنے دور صعوبتیں تو برداشت کرتے ہین لیکن خداداد صلاحتوں میں کسی سے بھی کم نہیں ہیں ۔ ماضی گواہ ہے کہ اس قدر دور افتادہ اور دشوار گزار پہاڑی راستوں سے وابسطہ بے شمار چمکتے ستاروں نے ملک کا نام روشن کرنے میں بھر پورکردار کیا ، ۔ وہ چمینہ بیگ کی صورت میں پاکستان ی پہلی خاتون کو پیما ہو یا حسن سدہ پارا کی صورت ہو۔۔۔

اس پورے خطے مین اعلی تعلیم کے لئیت صرف دو یونیورسٹیاں ہین جن میں انتظامی معاملات بھی تعطل کا شکار نظر آتے ہیں ایسے میں پہلے ہی سے دور افتادہ اس خطے میں علم کی پیاس بجھانے والوں کے لئے کافی دشواری اں موجود ہیں ۔ لیکن بلتستان یونیورسٹی تا حال وائیس چانسلر جیسے اہم انتظامی عہدے کے بغیر چل رہی ہے ، جبکہ یونیورسٹی کے اندرونی شعبہ جات مین پہلے سے موجود لوگ اقربا پروری کی روش اپنائے ہوئے ہیں ۔۔ ایڈہاک کی صورت میں سٹاف فرائیض سر انجام تو دے رہا لیکن یہ ایڈہاک لوگ بھی ذاتی تعلق واسطے کی بنیاد پر یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات میں تعینات ہیں ،، جو کہ میرٹ نظام کی کھلے عام پامالی کا عملی ثبوت ہے ۔۔ اس حوالے سے گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی نے گزشتہ ماہ متفقہ طور پر ایک قرارداد کی منظوری دی جس میں وفاقی حکومت سے بلتستان یونیورسٹی میں وائس چانسلر مقرر کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ایوان میں یہ قرارداد سینیٹر وزیر محمد اکبر تاباں اور رکن امتیاز حیدر نے پیش کی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا گلگت بلستان کی مقامی حکومت اور انتظامیہ اس اہم فریضے اور بنیادی تعلیمی مسلے کے حل کے لئے بھی واق کا سہارا لے گی،، کی ااس مسئلے پر مقامی انتظامیہ اقدامات نہیں کر سکتی تھی

فروری میں وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے گلگت بلتستان کونسل ختم کئے جانے کا بھی اعلان کیا گیا تھا اور اختیارات گلگت بلتستان اسمبلی کو تفویض کرنے کا بھی اعلان کی اتھا ۔ تا کہ گلگت بلتستان حکومت کو مزید با اختیار بنا کر اختیارات وہاں کی مقامی حکومت کی دسترس میں دئے جائیں ۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ گلگت بلتستان کونسل کے با اختیار ہونے سے مقامی حکومت اپنے فیصلے خود کر سکے گی ، لیکن یہ سب بات اسی پر منحصر ہے کہ یپہ حکومت کب با اختیار ہوتی ہے، اور تعلیمی اداروں سمیت خطے میں دیگر شعبہ ہاہئے زندگی سے تعلق رکھنے والے اداروں کے لئے از خودکتنے با اختیار فیصلے کرتی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments