سیاحت کے نام پرقدرتی ماحول کی تباہی

سیاحت کے نام پرقدرتی ماحول کی تباہی

34 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

صفدرعلی صفدر

گزشتہ دنوں ایک قومی انگریزی اخبار کی خبر پر نظر پڑی، جس میں کہا گیا تھاکہ گلگت بلتستان میں سیروسیاحت کی غرض سے آنے والے سیاح تفریحی مقامات پر سیرسپاٹے کے بعد گندگی اور کچرہ پھینک کررخصت ہوجاتے ہیں،جو علاقے کی خوب صورتی اور قدرتی ماحول کومتاثرکرنے کا سبب بن رہا ہے۔بات سو فیصد درست تھی تو میں نے بھی دوسرے’’ نیچر لورز‘‘کی طرح وہ خبر سوشل میڈیا پراچھالنے کی بھرپورکوشش کی تاکہ حکمرانوں اور ماحولیات کے تحفظ پر کام کرنے والے اداروں کو کچھ ہوش ٹھکانے آجائے۔

میڈیا رپورٹس کے علاوہ اس چیزکا میں خود عینی شاہد ہوں کہ گلگت بلتستان کی جنت نظیروادیاں ان دنوں کچرے کے ڈھیر بنے ہوئے ہیں، جسے دیکھ کر ایک ماحول دوست انسان کے پاس آنسو بہانے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ میں نے شندورفیسٹیول کے دوران بھی اس صورت حال کا باریکی سے جائزہ لیا ،جہاں پر بہت ساری اچھی اور مثبت سرگرمیوں کے علاوہ چند ایک ایسی سرگرمیاں دیکھنے کو ملیں جو شندور جیسے بے مثال سیاحتی مقام کے حسن وجمال اور قدرتی ماحول کی تباہی کا باعث بن رہی تھیں۔pic2

شندور میں گلگت بلتستان اور چترال کے مقامی شائقین کے علاوہ ملکی وغیرملکی سیاحوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی،مگر ہرکوئی دانستہ یا نادانستہ طور پر شندور کے اس خوب صورت ماحول کومختلف حوالوں سے آلودہ کرنے پر تلا ہوا تھا۔واللہ! کسی ایک کو بھی یہ احساس نہیں تھا کہ آخرماحولیاتی آلودگی بھی کوئی چیز ہوتی ہے،جس کے بارے میں ہم بچپن سے نصابی و غیرنصابی کتب میں مطالعہ کرتے آئے ہیں۔ نہ ہی ان اداروں کو احساس تھا جو کاغذی کاروائی کے زریعے ماحولیاتی تحفظ کے علمبردار بن کرخوب زرکمائی میں مصروف عمل ہیں۔pic 1

شندور میں تو ماحولیاتی آلودگی کا عالم یہ تھاکہ ہرجگہ پلاسٹک،کاغذ،ٹوٹے پھوٹے برتن،ذبح شدہ جانوروں کے فالتو عضلات،ریپرز،کھانے پینے کی باسی اشیاء،گاڑیوں کا دھواں،کوڑاکرکٹ اور انسانی فضلہ کی گندگی ہی نظر آرہی تھی۔ جبکہ شندور اور پھنڈر ویلی کی خوب صورتی کو نکھاردینے والے چشموں کے پانی میں گاڑیاں دھونے کاتو ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ اپنے طور پر جاری وساری تھا۔ ایسے میں زائقے کے حوالے سے لازوال دریائے غذر کی ٹروٹ مچھلی کی صحت پر کیا گزرتی ہوگی،وہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہوگا۔

چلو مان لیا کہ دوردراز علاقوں سے شندور فیسٹیول کا لطف اٹھانے کی غرض سے آنے والے شائقین شندور کے پرفضاء اور پرسکون ماحول میں محوہوکر ماحولیاتی تحفظ کا خیال رکھنا بھول گئے۔لیکن نہ جانے گلگت بلتستان اور چترال کی سرکاری انتظامیہ کو اس سہہ روزہ میلے کے دوران شائقین سے ماحولیاتی آلودگی نہ پھیلانے کی تلقین اور اس حوالے سے موثر حکمت عملی مرتب کرنے میں آخر کونسی دشواریاں لاحق تھیں؟pic3

کاش !دونوں اطراف کی صوبائی حکومتوں کوایک ماہ پہلے سے جاری فیسٹیول کی تیاریوں کے دوران یہ بات یاد آجاتی کہ اللہ کی اس انمول نعمت کا بھی کچھ توخیال کیا جائے، تو شائد جنت نظیر شندور کو کسی حدتک ماحولیاتی آلودگی سے بچا لیا جاسکتا تھا۔حالانکہ اس کام کے لئے کوئی بڑی رقم بھی درکار نہیں ہوتی،بس چند ایک کچرہ دان نصب کرنا اور محکمہ بلدیہ کے کچھ اہلکاروں کوکچرہ اٹھانے کے لئے الرٹ رکھنا کوئی جان جوکھوں والا کام نہیں تھا۔اس کے باوجود اگر کوئی آلودگی پھیلاہی رہا تھا تو پولیس کے زریعے ایسے عناصر پر ڈنڈے برسانا بہترین آپشن تھا۔کیونکہ پاکستانی قوم اپنے اوپر ڈنڈے برسائے بغیر کوئی کام معاشرتی ذمہ داری یا دینی فریضہ سمجھ کرسرانجام دینے کو ہرگز تیار نہیں۔میڈیا رپورٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حال صرف شندور یا گلگت بلتستان کے سیاحتی مقامات کا ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں جگہ جگہ گندگی اور کچرےکے ڈھیرلگے ہوئے ہیں،جسے معاشرے کے اندر انسانی ازہان میں موجود گندگی مزید تقویت مل رہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج ہمارا معاشرہ ترقی کے منازل طے کرنے کی بجائے تنازلی کی جانب گامزن ہے۔جبکہ باہر کی دنیا اس گندگی سے کافی حد تک مستثیٰ ہے۔pic5

چند روز قبل لندن سے آئے ہوئے ایک دوست بتارہے تھے کہ وہاں پرصفائی اور قدرتی ماحول کی حفاظت کو تمام کاموں پر فوقیت حاصل ہے اور شہرکی سڑکوں،چوک چوراہوں ،پارکوں، گلی محلوں اور دیگر تفریحی مقامات کو اس قدرصاف ستھرا رکھاجاتا ہے کہ بندے کوہفتوں تک بھی جوتے پالش کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔حالانکہ ظاہری طور پرصفائی تو مسلمانوں کے ایمان کا نصف حصہ ہے لیکن اس پر عملدرآمد غیرمسلم کررہے ہیں، تو پھر ہم کیسے مسلمان کہلائیں گے؟

ہمارے ملک میں صفائی اور تحفظ ماحولیات کے حوالے سے قوانین بھی بنائے گئے ہیں اور ان پر عملدرآمد کے لئے ادارے بھی موجود ہیں،مگر ہم نے ملکی قوانین اور اسلامی تعلیمات کو پس پشت ڈال کراپنے ایمان کا وہ نصف حصہ مکمل طورپر کھودیا ہے۔ہم سوشل میڈیا پر سستی شہرت حاصل کرنے کی خاطرتحفظ ماحولیات کا چمپئین بن کر دیوسائی میں فیسٹیول کے انعقادکے حوالے سے حکومتی اقدام کی بھرپورمخالفت پر تلے ہوئے ہوتے ہیں، مگر شندور،راما،نلتر،فیری میڈوز،پھنڈر،ہنزہ،نگراور دیگر سیاحتی مقامات پر گندگی اور کچرہ پھیلانے پرپراسرار خاموشی اختیار کرلیتے ہیں۔کیا یہ ہماری منافقت اور دوغلاپن نہیں؟pic7

ہمارے وہ ادارے کہاں گئے جو دیوسائی فیسٹیول کی مخالفت میں صف اول کا کردار اداکررہے تھے،مگر شندور میں دوربین کے زریعے بھی ان کا کوئی نام ونشان تک نظر نہیں آرہا تھا۔

گلگت بلتستان وہ سرزمین ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص نعمتوں سے نوازا ہے۔ یہاں کا قدرتی ماحول،سرسبزوشاداب وادیاں،دل کش نظارے،رنگ برنگ کے پھول،دودھ جیسی نہریں،چشمے اور آبشارے،بلندوبالا پہاڑ،گھنگناتی ندیاں،خوب صورت جھلیں اور نایاب نسل کی جنگلی حیات دینا بھر میں اپنی مثال آپ ہیں۔ بس اس سب میں جس چیزکا مشترکہ طور فقدان نظر آتا ہے تو وہ صرف اور صرف ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے عوام الناس کے اندر شعوروآگہی کی کمی اوراس سلسلے میں حکومتی لاپرواہی ہے۔

لہذا گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت کو اس بات کا سختی سے نوٹس لے کر ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے سخت ترین قوانین بنانے اور ان پر عملدرآمد کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ،تاکہ آئندہ کسی کو بھی اللہ کی زمین پر ایک ٹکڑا کاغذ بھی پھینکنے کی جرات نہ ہو۔

دوسری اہم خبر یہ مل رہی تھی کہ خیبرپختونخوا حکومت نے چترال میں قدرتی آفت سے متاثرہ افراد کے نام پر بیرونی دنیا سے امداد کے طورپر آنے والے خیمے مستحقین میں تقسیم کرنے کی بجائے انہیں حکومتی تحویل میں لیکرشندورمیں سرکاری حکام اور فیسٹیول انتظامیہ کے سپردکردئیے،جوکہ انتہائی افسوس ناک اور شرمناک عمل ہے۔ یہی کچھ شندور میں گلگت بلتستان کے لئے متعین کردہ مقام پر بھی دیکھنے میں آرہا تھا مگر یہ معلوم نہ ہوسکا کہ وہ خیمے کن متاثرین کو کہاں سے امدادکے طورپر انتظامیہ کے ہاتھ لگ گئے تھے۔

سوال یہ ہے کہ خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کی صوبائی حکومتوں کو شندور میلے کی مد میں کروڑوں روپے کا بجٹ مختص کرنے باوجود مہمانوں اور میزبانوں کو ٹھہرانے کے لئے سیلاب متاثرین کے نام پر امدادکے طور پر ملنے والے خیموں پر قبضہ کرنے کی نوبت کیوں پیش آگئی؟

حالانکہ شندورمیں دونوں اطراف کی انتظامیہ کی طرف سے وہی خیمہ بستیوں کی سہولت ہی تو تھی،اس کے علاوہ ان کے پاس اور کچھ تھا تو وہ مفت کی روٹی،وہ بھی سرکاری خرچے پر محکمہ سیاحت کے حکام اور انتظامی افسران کے چہیتوں میں تقسیم کی جاتی رہی۔ اگرخیمے بھی سیلاب متاثرین کے نام پر امداد کے تحت مل گئے تھے تو سرکاری فنڈ آخر کہاں خرچ کیا گیا؟

بہرحال خیمے توآئندہ بھی ملتے رہیں گے لیکن خداراسیاحت کی ترویج کے نام پرقدرتی ماحول کی تباہی سے اجتناب کیا جائے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments