اے کے آرایس پی کی تعمیر کردہ پاور ہاوس تکمیل کے چند ماہ بعد خراب ، کولڈ سٹوریج بھی زمین بوس ہوچکا، پریس کانفرنس

چترال (نذیرحسین شاہ نذیر ) اپر چترال کی کھوت وادی کے سوشل ورکر رشید محمود، گل نائب خان اور محمور علی شاہ نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا ، چیئر مین نیب اور دوسرے تفتیشی اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ آغا خان رورل سپورٹ پروگرام (اے کے آر ایس پی ) کی گزشتہ دو سالوں کی کارکردگی اور اس ادارے میں کروڑوں روپے خرچ کرنے کے عمل میں شفافیت کی چھان بین کی جائے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ ان بھاری رقوم سے کمیونٹی کو کہاں تک فوائد حاصل ہوسکے ہیں ۔ بدھ کے روز چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ گزشتہ دو سالوں کے دوران اے کے آر ایس پی نے ادارے کے بانی پرنس کریم آغا خان کی وژن اور مشن کو بری طرح پامال کرنا شروع کردیا ہے جہاں پیسے کو پانی کی طرح بہایا جارہا ہے لیکن کرپشن کی وجہ سے کام انتہائی ناقص ہونے پر کمیونٹی تک مطلوبہ ثمرات پہنچنا ناممکن ہوگئی ہے۔ انہوں نے اے کے آر ایس پی کی نقائص بیان کرتے ہوئے کہاکہ اس ادارے میں چیک اینڈ بیلنس کاکوئی سسٹم سرے سے موجود نہیں جس کے نتیجے میں غلطی کرنے والوں سے کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوتی اور ترقیاتی منصوبے ادھورے یا انتہائی ناقص ہوتے ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں دو کروڑ روپے کی لاگت سے کھوت وادی میں پایہ تکمیل کو پہنچنے والی پن بجلی گھر کی ناکامی کا مثال دیتے ہوئے کہاکہ اپنی تکمیل کے چند ماہ بعد ہی اس بجلی گھر نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے جوکہ ادارے کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے جبکہ بجلی گھر میں استعمال شدہ میٹریل نہایت غیر معیاری ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سات لاکھ روپے کی لاگت سے گزشتہ سال آلو کی محفوظ رکھنے کے لئے کولڈ اسٹوریج قائم کیا گیا لیکن یہ بھی زیر استعمال آنے سے پہلے ہی زمین بوس ہوگئی ۔ انہوں نے کہاکہ اے کے آر ایس پی میں ملازمتوں میں چناؤ بھی خاندان اور رشتہ داری کا لحاظ رکھا جاتا ہے اور کھوت وادی میں یوٹی ڈی این کے نام سے اے کے آر ایس پی کا ذیلی ادارے کا منیجر بیک وقت اکاونٹنٹ بھی ہے اور انٹرن شپ پروگرام ملازمت کے مواقع نکل آنے پر بھی آپس میں بند ربانٹ کرتے ہیں اور حال میں بدترین اقرباء پروری کا ثبوت دیتے ہوئے رحمت علی شاہ نامی ایک ایسے شخص کو انہوں نے انٹرن شپ دے دی جوکہ پہلے ہی ادارے میں مستقل ملازم ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments