صدی کا سب سے بڑا جھوٹ؟

صدی کا سب سے بڑا جھوٹ؟

7 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: ایمان شاہ

الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کے شعبہ تعلقات عامہ نے8اگست2016ء کو جاری سرکاری پریس ریلیز میں وزیر بلدیات گلگت بلتستان کے ایک بیان جس میں انہوں نے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں تاخیر کا ملبہ الیکشن کمیشن گلگت بلتستان پر ڈال دیا تھا کو ’’صدی کا سب سے بڑا جھوٹ‘‘ قرار دیا ہے۔

الیکشن کمیشن گلگت بلتستان نے وزیر بلدیات کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا اور ایک سال بعد ’’صدی کے سب سے بڑے جھوٹ‘‘ جیسا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا۔

الیکشن کمیشن اور گلگت بلتستان کے عوام کو شاید اس بات کا علم ہی نہیں ہے کہ ’’بلدیاتی فنڈز‘‘ میں خرد برد کا بہترین اور آسان طریقہ یہی ہے کہ جس حد تک ممکن ہوسکے بلدیاتی اداروں (یونین، ضلع کونسل اور میونسپل کمیٹیز) کے انتخابات موخر رکھے جائیں اور گاہے بگاہے الیکشن کے انعقاد کے حوالے سے جھوٹ پر مبنی ایک فرضی تاریخ کا اعلان کیا جائے اور فرضی تاریخ کے گزرجانے کے بعد ڈھٹائی کے ساتھ اگلی تاریخ دے کر عوام کو بیوقوف بنانے کا عمل جاری رکھاجائے ۔

مجھے لطیفہ نما کوئی تحریر یاد آرہی ہے کہ اگر جھوٹوں کے سروں پر سینگ آنا شروع ہوجائیں تو سیاستدانوں کا کیا بنے گا؟ میرے خیال میں سیاستدانوں کی اکثریت بارہ سنگھوں کا روپ دھار لیں گے۔

گلگت بلتستان میں آخری مرتبہ بلدیاتی اداروں کیلئے انتخابات کا انعقاد2004ء میں ہوا تھا، 2009ء میں5سال کی مدت مکمل ہونے کے بعد بلدیاتی ادارے تحلیل ہوگئے اور عرصہ12سال کے بعد بھی بلدیاتی انتخابات نہیں ہوئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گلگت بلتستان میں بلدیاتی اداروں کے انتخابات کا انعقاد تب ہوا جب ملک میں ایک فوجی ڈکٹیٹر کی حکومت تھی ۔

2008ء میں پاکستان میں جمہوریت دوبارہ بحال ہوئی اور گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے انتخابات 2009ء میں منعقد ہوئے اور پاکستان پیپلز پارٹی نے اقتدار سنبھال لیا اور سید مہدی شاہ نے دسمبر2009ء میں بحیثیت وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان اپنے عہدے کا حلف اٹھالیا، ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ حلف برداری کے فوراً بعد ہی بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کیلئے تاریخ کا اعلان کیا جاتا لیکن مجال ہے کہ جمہوریت کے نام پر عوام کو بے وقوف بناکر اقتدار حاصل کرنے والے کوئی عوامی مفاد کا کام کریں، 5سال گزار دیئے، بلدیاتی فنڈز جو غریب عوام کی فلاح و بہبود کیلئے مختص ہوتیہیں کو سیاسی رشوت اور کرپشن کا ذریعہ بنایا گیا، ایک محتاط اندازے کے مطابق مہد ی شاہ دور حکومت میں70کروڑ سے زائد کی کرپشن کی گئی، جعلی پروجیکٹ لیڈرزبنائے گئے، سکیمیں صرف کاغذوں تک محدود رہیں، عملاً کوئی منصوبہ زمین پر موجود نہیں تھا۔۔۔۔۔۔

پاکستان مسلم لیگ ن نے اقتدار میں آنے سے قبل بلدیاتی اداروں کے فنڈز میں گھپلوں کی تحقیقات اور اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد بلدیاتی انتخابات کے انعقاد جیسے وعدے کئے۔۔۔۔۔۔ایک سال بعد سوئی وہیں پر اٹکی ہوئی ہے، بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کی نوبت آئی اور نہ ہی سابقہ دور حکومت میں بلدیاتی فنڈز میں گھپلوں کی تحقیقات کی زحمت گوارا کی گئی۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنماوں کے ساتھ نظریاتی اختلافات کے باوجود میرا ایک ذاتی تعلق رہا ہے، سابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سید مہدی شاہ کے ساتھ سیاسی و انتظامی معاملات پر بحث و تکرار بھی ہوتی رہی، تمام تر اختلافات کے باوجود ایک بات مجھے مہدی شاہ ، ان کی کابینہ اور پارٹی کے سینئرز کے حوالے سے اچھی لگی کہ انہوں نے کرپشن، میرٹ کی پامالی، رشوت اور سفارش کے حوالے سے کبھی اور کسی بھی مرحلے پر منافقت نہیں دکھائی۔۔۔۔۔۔ جو کچھ بھی کیا ڈھنکے کی چوٹ پر کیا۔۔۔۔ جبکہ دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ ن کے تمام سینئر رہنما میڈیا کے ذریعے، جلسوں میں،پارٹی میٹنگوں اور اپنی پالیسی بیانوں میں میرٹ کی بالادستی، کرپشن کے خاتمے، اقتدار کی بجائے اقدار کی سیاست کرنے ، جھوٹے وعدے اور اعلانات نہ کرنے کی بھاشن دیتے رہے، لیکن کیا آج صورتحال مختلف ہے۔ کرپشن کے خاتمے کیلئے اقدامات ہورہے ہیں، میرٹ کی بالادستی قائم ہوچکی ہے، اقتدار کی بجائے اقدار کی سیاست کرنے کے وعدوں پر عمل ہورہا ہے؟ اس کا سیدھا، سادھا سا جواب ہے کہ نہیں ہورہا ہے۔۔۔۔۔۔

وزیر اعظم آزاد کشمیر حلف برداری سے قبل اور ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینے کے فوراً بعد آزاد جموں و کشمیر اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے لگی لیٹی رکھے بغیر اعلان کرتا ہے کہ آزاد کشمیر میں بلدیاتی انتخابات دسمبر سے قبل ہوجائیں گے اور تازہ ترین اطلاعات یہ ہیں کہ آزاد کشمیر میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کیلئے تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں جبکہ یہاں کی ایک منتخب جمہوری حکومت نے اپنے پانچ سال پورے کرلئے، بلدیاتی فنڈز خرد برد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، نگران حکومت بھی6ماہ کا عرصہ گزارنے کے بعد رخصت ہوگئی،26جون2015ء کو موجودہ صوبائی حکومت نے اقتدار سنبھالا، ایک سال بعد بھی وہی ایڈمنسٹریٹرز جو مہدی شاہ دور اور نگران دور میں تھے، 5سال کے دوران بلدیاتی فنڈز میں خرد برد کی تحقیقات پر عملدرآمد تو دور کی بات، گھپلوں اور فنڈز میں خرد برد کی تازہ خبریں آنا شروع ہوگئی ہیں۔۔۔۔

موجودہ صوبائی حکومت کیلئے اس سے بڑا لمحہ فکریہ اور کیا ہوسکتا ہے کہ صوبائی الیکشن کمیشن نے وزیر بلدیات کے بیان کو ’’صدی کا سب سے بڑا جھوٹ ‘‘ قرار دیا ہے۔۔۔۔۔ میں آخر میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ:۔

آپ اپنی ہی اداؤں پہ ذرا غور کریں
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی

جمشید خان دکھی کا ایک اور پیغام آپ کیلئے

فتنہ فساد اور تعصب کو چھوڑ دو
گردن جہالتوں کے بتوں کی مروڑ دو
لیکن یہ میری ایک گزارش ہے آپ سے
حالت ہو جو بھی علم سے رشتہ نہ توڑ دو

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔