معراج خان ، سلطان محمود  اور سرتاج صاحبان  کی پی ٹی آئی میں شمولیت ….  دانشمندانہ فیصلہ

تحریر شمس الحق قمر ؔ بونی

میرا تعلق کسی سیاسی جماعت سے نہیں ہے اور نہ مجھے سیاست کے ٹک کا علم ہے البتہ اچھیے عمل اپنانے اور برے سے باز رہنے کی تلقین کرنا ہمارے دینی فرائض میں سے ایک فریضہ ہے لہذا میں اس فریضے کی ادائیگی میں اپنا حصہ ڈال رہا ہوں  ۔

پچھلے دنوں سے ایک خبر جنگل کی آگ کی طرح ہر سو پھیلی ہوئی ہے اور  چترال سے تعلق رکھنے والا ہر فرد اس خبر کی لپیٹ  میں ہے ۔  ملکی اور علاقائی اخبارت کے علاوہ سوشل میڈیا میں معراج خان ، سلطان محمود اور سرتاج  کی پی ٹی آئی میں شمولیت کی خبریں ہر سننے اور پڑھنے والے کو دعوت فکر دے رہی ہیں  ۔ ہو سکتا ہے کہ اس سے قوم کو بہت بڑا نقصان ہو اور ہو سکتا ہے اس سے بہت بڑی مثبت تبدیلی آجائے ۔  لیکن یہ ہر آدمی کو ماننا پڑے گا کہ  ان سورماؤں کا تکونی شکل اخیار کرنا بڑی معنی خیز بات ہے ۔ چترال کا ہر فرد ان تینوں جواں عزم شخصیات کی تعلیمی قابلییت ،  سماجی نبض شناسی ، عوامی خدمات سے اچھی طرح باخبر ہیں ۔لہذا علاقے کے تینوں نامور سپوتوں کا پاکستان کی ابُھرتی  ہوئی سیاسی جماعت ’’تحریک انصاف‘‘ میں شمولیت اس امر کی غماز ہے کہ چترال کے ذہین اذہان میں مقناطیسی وقت پیدا ہو چکی ہے جو کہ کسی بھی شخص ، گھر ، علاقہ یا مللک کی ترقی کے لئے ناگزیر ہے ۔ وقت کے تیور بتا رہے ہیں کہ مستقبل قریب میں چترال میں  اعلی تعلیم یافتہ شخصیات پر مشتمل ایک  طاقت وجود  میں آئے گی ۔ یہاں یہ قیاس آرائی آسان ہے کہ اہل بصیرت لوگوں کا یہ گروہ  تمام ذاتی مفادات پر علاقائی مفادات کو ترجیح دے کر ضلع کی تمام آبادی کوعلاائی مسائل  کی آگاہی دلاکر انہیں ہر آنے والے انتخابات میں اپنا حق رائے دہی درست خطوط پر استعمال کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا ۔  اقتدار کی کرسی پر براجمان ہونا ان کی نظر میں معنی نہیں رکھتا  بلکہ صاحب کرسی افراد کی مدد کرتے ہوئے علاقے کو درپیش مسائل کو احسن طریقے سے حل کرنے میں بھرپور کردار ادا کرنا اس جماعت  کا مطمع نظر ہے۔

            سیاسی اُفق پر ابھرنے والی تینوں شخصیات کا تعلق براہ راست سماجی ترقیاتی شعبوں  سے رہا ہے ۔ تینوں حضرات نے اپنی بساط کے مطابق قوم کی فلاح و بہبود میں اپنا ممکنہ حصہ ڈالا ہوا ہے  یہی وجہ ہے کہ قوم خاص کر نوجواں طبقہ آپ تینوں  کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے  اور آپ کی بے لوث خدمات کا معترف ہے ۔موجودہ سیاسی تقویم  میں ان تینوں شخصیات کا ادخال ایک خوش آئیند بات ہے ۔  ایئے دیکھتے ہیں کہ ہم کن خصوصیات کی بنیاد پر انہیں پسند کرتے ہیں ۔

سرتاج  بھائی کا اپنی پارٹی کو خیر باد کہہ کی نئے پاکستان بنانے کا بار گراں سنبھالنے کا مصم ارادہ علاقے میں ترقی کی امید کی واضح دلیل ہے ۔ سرتاج  بھائی کا تعلق دروش سے ہے ہم کالج کے زمانے سے اُنہیں پیپلز پارٹٰی کے محازں  پرقوم کی بہبود کی جنگ لڑتے دیکھا ہے ۔ ایک مضبوط قوت ارادی کے آدمی ہیں۔ اُن کی لغت میں پیچھے ہٹنے کا کوئی لفظ موجود نہیں ۔ ہر مشکل ، ہر طوفان اور ہر طرح کے نا مساعد حالات سے خندہ پیشانی سے نبر آزاماہونے کا فن بہتر جانتا ہے۔  علاقے میں  ہر مشکل وقت میں سرتاج بھائی ہر قسم کی تعصبات اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر  زلزلہ ہو ، سیلاب  یا اور کوئی قومی سانحہ ، متاثرین کے شانہ بہ شانہ استادہ نظر آتے رہے ہیں  ۔ سرتاج بھائی  نے اپنی نظامت کے  دوران چترال کے مسائل کو بہت قریب سے دیکھا ہے یہ شخص خون کی طرح  عوام ا کے رگوں میں دوڑتا ہے ۔ چترال کے عوام انہیں پارٹٰی کے کارکن سے زیادہ ایک سماجی شخصیت اور عوام دوست انسان  کے طور پر جانتے اور عزت دیتے ہیں ۔

            سلطان محمود بھائی  زمانہ طالب علمی سے ایک سیاسی بصیرت کے حامل شخص رہاہے ۔ چترال میں بہت سارے لوگ ایسے بھی ہیں جن کی ملاقات  سلطان محمود سے  بظاہر ہوئی تو نہیں ہے لیکن آپ اپنے کام میں پختگی کی وجہ سے زبان زد خاص و عام ہیں ۔ ہر ملنے والا چاہے وہ کوئی بھی ہو متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ آپ بھی پیپلز پارٹٰ کے صف اول کے ہراول دستے کے چمکتے دھمکتے ستاروں میں سے ایک رہے ہیں۔کارزار سیاست کے مایہ ناز کھلاڑی ہونے کے ساتھ ساتھ مختلف سماجی ادروں میں کلیدی عہدوں پر فائز رہنے کی وجہ سے عام لوگوں کے کاروبار زندگی کے پر پیچ  مسائل کی جان کاری اور ان کے  حل کے حوالے سے عمیق تجرہ رکھتے ہیں ۔  ہم جب گورنمنٹ کالج چترال میں تھے تو کراچی سے چھٹی پر آنے والے چترالی طلبا ہمیں بتا یا کرتے تھے کہ کراچی میں سلطان محمود نام  کا ایک چترال طالب علم ہے جو کہ ہر کراچی جانے والے طالب علم کو ماں پاب کی طرح سنبھالا دیتا ہے ۔ امید کی جاتی ہے  کہ نیے پاکستان کے ناؤکی نا خدائی میں مثالی کر دار ادا کریں گے ۔

معراج خان اپنے کام کے حوالے سے کشمیر کے سر سبزو شاداب وادیوں سے لیکرکر ہندو کش کے دامن تک ایک معروف نام ہیں ۔ گزشتہ  تین عشروں سے پہاڑوں کے دامن میں زندگی گزارنے والے لوگوں کی فطرت پر خوب گرفت رکھتے آئے ہیں  ۔ چترال میں غربت کو دور کرنے اور سماج کو اپنے پاؤں پر خود کھڑے ہونے کے حوالے سے آغاخان رورل  سپورٹ پرورگرام نے بنیادی کردار ادا کیا ہے ۔ یاد رہے کہ اسی ادارے کے بانی کارکنوں میں سے معراج کا نام  ارندوو ، لوٹکوہ تا بروغل ہر مردو زن اور پیرو جواں کی زبان پر عزت و احترام سے آتا ہے  ۔ چترال کے ایسے دور افتادہ علاقوں میں بھی آپ نے مہنیوں رہ کر کام کیا ہے  کہ جہاں تک رسسائی کے لئے اُس وقت پیدل چلنے کے راستے بھی مسدود ہوتے تھے ۔ لوگوں کی زہنی اسحاط کے مطابق اُن کی  معاشی تربیت کرنا اور انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے میں جنتا معراج خان  کا کر دار رہا ہے  اُتنا چترال کی تاریخ میں کسی  سماجی یا سیاسی رہنما نے کام نہیں کیاہے ۔

            کہتے ہیں کہ قسمت ہر ایک کے دروازے پر زندگی میں ایک مرتبہ دستک دیتی ہے۔  اہل خرد اسی موقعے کی تلاش میں رہتے ہیں اور اپنی زندگی کو اوج کمال تک پہنچاتے ہیں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ تینوں شخصیات ہماری قسمت کے دروازے پر دستک کی مثال ہیں ۔ کیوں کہ یہ بڑی قربانی دیکر اس محاز پر آکھڑے ہوئے ہیں ۔  اب مرضی آپ کی ہے کہ ٹھکرا کر شومی قسمت پر کف افسوس ملتے رہیں یا اپنا کر شادمانیِ قسمت پر ناز کرتے رہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments