فیضی صاحب کے لفظوں کی ٹو ٹی ہو ئی مالا اور تا ریخ کے دریچے ( تیسری قسط)

فیضی صاحب کے لفظوں کی ٹو ٹی ہو ئی مالا اور تا ریخ کے دریچے ( تیسری قسط)

7 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

بر ملا اظہار: فدا علی شاہ غذریؔ

ڈاکٹر فیضی نے اپنی ‘مٹی کا حق ادا کر تے کر تے’ ایک نفرت نا مے کی تخلیق سے دوسروں کی مٹی پلید کر نے میں کسی بھی قسم کی ہچکچا ہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا ہے بلکہ اپنی سطحی معلو مات کے پہاڑ پر پاوں رکھ کر قرا قرم، ہمالیہ اور ہندو کش کے دامن میں پلنے والے ہیروں کے ساتھ راء کے کھیلواڑ کو نہ صرف محسوس کیا ہے بلکہ یوں لگتا ہے کہ وہ عینی شاہدہے جو چو ٹی سے جھا نک کر سب کچھ دیکھ چکے ہیں ۔ فیضی صاحب کے سمجھ بو جھ رکھنے والے قارئین اور قدردانوں کو اُن ( فیضی) کی اردو زبان کے حروف ’ ر‘ اور’ ا‘ یعنی لفظ’ را‘ سے رغبت اور محبت ور طہ حیرت میں ڈال دیتی ہے۔ گلگت بلتستان کے کچھ قا رئین کو تو اتناشک ہوا ہے کہ وہ بھی الزام ترا شی پر اُتر آئے ہو ئے ہیں کہ فیضی صاحب را ء سے رائے لے کر RAMA سے فیضیاب ہو تے ہیں ۔ ریڈیوآکا شوانی اور آل انڈیا ریڈیو کے ذریعے باخبر ہو نے کے اُن کے اعتراف نے قارئین کے اس شک کو یقین کا رنگ دینے کے ساتھ ساتھ کئی سوالوں کو بھی جنم دیا ہے کیو نکہ اس وقت ملک ( پاکستان ) میں قومی نشر یا تی اداروں کے علاوہ89سے زائد ٹیلی ویژن،186 کے لگ بھگFMریڈیو سروسز، 300 سے زیادہ رو ز نا مے اور سینکڑوں جریدے او خبر رساں ویب سائٹس کی مو جودگی میں آکاشوانی اور ریڈیو آل انڈیا سے فیضیاب ہو نا ’’کچھ تو ہے جس کی پر دہ داری ہے ‘‘کے مصداق ہے ۔

دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ جس دن راء (RAW) نے خیبر پختو نخواہ کے صو با ئی دا رلحکومت پشاور میں آفیسروں، وزیروں ، لو گوں(حا ضرین) اور کئی صحا فیوں کو اپنے ایجنٹس کے ذریعے یر غمال بنا کر شندور کا سودا کر رہی تھی تو فیضی صاحب کا بھی اُسی شہر میں مو جود ہو نا اور آکاشوانی اور آل انڈیا سننے کے لئے وقت نکا لنا آخر کیا ثا بت کر تا ہے؟ لیکن مجھے ایسے تمام قارئین سے اختلاف ہے کیونکہ مجھ سمیت کئی لو گوں کو فیضی صاحب کے اس خو بصورت تخلص’ فیضی‘ کا پیش منظر، پس منظر اور وجہ تسمیہ سب معلوم ہے اور یہ بھی کہ وہ بات بات پر راء راء کیوں کر تے ہیں۔ مگر اس حقیقت کے با وجود بھی میں اُن کا قدر دان ہوں ، اُن سے کبھی نفرت نہیں رہی اور نہ رہے گی کیو نکہ اُن کو شندور سے محبت خاص ہے اور مجھے بھی شندور کی مٹی سے اُتنی ہی رغبت و محبت ہے اور اپنے لوگوں سے بھی، اس لئے محبت کا حق ادا کر نا میرا بھی فرض بنتا ہے اور میری پوری کوشش ہو گی کہ میں دونوں اطراف کے لو گوں کی درست تر جما نی کرسکوں کیونکہ جنت نظیر چترال سے پیار اور محبت کے علاوہ خو نی رشتوں کا پو رہ ایک جال سنبھال رہا ہوں اور اُن سے محبت سمیٹتا ہوں ۔ مجھے چترال کے دوست سے تو محبت ہے ہی مگر دشمن سے بھی نفرت نہیں ہے میری کیفیت کو بر صغیر کے جنیئس مر زا اسد اللہ خان غالب نے صدیوں پہلے کیا خوب بیان فر ما یا ہے۔

’’غالب ندیم دوست سے آتی ہے بو ئے دوست‘‘

غالب کی روح سے معذرت کیساتھ عرض ہے

فدؔ ا عدوِ دوست سے آتی ہے بو ئے دوست
طلبِ ندیم ہے اُن کو بھی، دردِ دلی کے ساتھ

فیضی صا حب کے با رے میں چترال سے تعلق رکھنے والے ایک قاری نے نہایت غور طلب اور معنی خیز بات کی ہے کہ’’ فیضی صاحب بلا شبہ بہت بڑ ے سکا لر ، مورخ ، شاعر اور اُستاد ہیں لیکن وہ اکثر حقا ئق کو نظر انداز کر تے ہیں‘‘ ۔ واقفان حال اُن کی اس عادت کے تو چشم دید گواہ ہیں لیکن اُن کی تحاریر بھی قا رئین پر واضح کر چکی ہیں کہ وہ حقا ئق سے چشم پو شی کر تے ہو ئے ’’فا ختے کی پا لیسی‘‘ اپنا تے ہیں۔ فیضی صاحب کی حقا ئق سے چشم پو شی کی عادت اب ان کے قلم کو بھی اپنی لپیٹ میں لی ہے۔حقا ئق نامے کے ٹا ئٹل سے لے کر حرف آخر تک اُن کے قلم نے حقا ئق کو سمھتے ہو ئے بھی ورق پر اُتارا ہے تو صرف اختلاط کو روندنے والی ذہنی اختراع، جو چیخ چیخ کر اپنی اصلیت کا پتہ بتاتی ہے ۔

اُن کے صریر خامہ( قلم کی آواز) میں کہیں بھی 1914 اور 1959کو عوام کوہ غذر اور لاسپور کے مابین ہو نے والے جر گوں کی بنیادی وجو ہات اورمحر کات کا ذکر نہیں صرف بابوں کے ہا تھوں لکھی ہو ئی انگریزی تحریر کے خو ش گوار ترجمے کو مثل بنا کر پیش کیا گیا ہے۔جر گے کی بنیادی وجوہات کیاتھیں ، جھگڑا کس بات پر تھا وہ قلم اور اہل قلم کی نظر سے روپوش ہے۔ جرگے میں غذر کی نما ئندگی کر نے والے وفد کے سر براہ کے علاوہ باقی ارکان کا نام نہ لینا بھی بد دیا نتی کو ظاہر کر تا ہے اور گلگت ایجنسی اور چترال کی طرف سے دو سر کاری فارسٹ گارڈزمقرر ہو ئے تھے اُن دو نوں کا ذکر کر نا بھی منا سب نہیں سمجھا گیا ہے۔ غذر کی طرف سے ٹیرو کا رہا ئشی مر حوم مراد خان جنگل آفیسر مقرر ہوا تھا اور لاسپور کی طرف سے بالیم کے نامور شخصیت مر حوم مر زا پناہ تھے ۔ان جر گوں کے رودا د کو قرطاس کی زینت بنا کر فیضی صاحب اصل مسلے سے تو جہ ہٹا نے کاجواز ڈھو نڈ رہے ہیں کہ شندور کا کو ئی جھگڑا سرے سے رہا ہی نہیں بلکہ کھو کُش اور لنگر پر جھگڑا عشروں سے چل رہا ہے جنہیں نمٹا نے کے لئے جر گے منعقدہو تے رہے ہیں حالانکہ حقیقت اس کے بر عکس ہے ۔ اس بات کسی کو اختلاف نہیں کہ چترال اور غذر کے عوام کے مشترکہ چراہ گا ہیں مو جود ہیں جہاں ان کے مال مو یشی گر میوں میں نہ صرف چرتے ہیں بلکہ لوگ ان کے ساتھ عارضی طور پر کچھ عرصے کے لئے ان چرا گاہوں میں عارضی ہٹس( جن کو شل کا نام دیتے ہیں) بنا کر رہتے ہیں اور سردیوں کی آمد سے پہلے واپس اصل علاقوں کی طرف رُخ کر تے ہیں لیکن ایسی وادیوں ، غاریوں( گر ما ئی چراہ گاہ)اور شلوں( ہٹس ) میں رہنے والوں کو ما لکانہ حقوق نہیں دیئے جا تے ، انہیں مستقل آبادی تصور کی جا تی ہیں اور نہ ہی ان کو جنگل کی کٹا ئی کا حق دیا جا تا ہے البتہ جلا نے کی لگڑی اور ہٹس ( شل) بنا نے کے لئے عمارتی لکڑی کے استعمال کی مشروط اجازت علا قائی دستور کے مطا بق مل جا تی ہے جس کی خلاف ورزی پر جر گے منعقد ہو تے تھے ۔ ڈاکٹر فیضی ان ہٹس میں رہنے والوں کو انمٹ شواہد کے طور پر پیش کر رہے ہیں اور انہیں ان وادیوں کے مستقل با سی گر دان رہے ہیں ۔۔۔۔۔

نہیں فیضی صاحب نہیں ، حقا ئق کے جتنی مر ضی کان کھینچ لیں بدلتے نہیں ہیں۔۔ دو نوں اطراف کے ایسے ہزاروں نصیب اور حالات کے ما رے لوگ، غربت و افلاس والی حیات کے ما لک ، پڑھنے لکھنے سے محروم اور پُر تعیش زندگیوں کے خواب بھی نہ دیکھنے والے آج بھی ایسی وادیوں میں رہتے ہیں اور آئندہ بھی یہ عمل جا ری رہے گا۔ ایسے لوگ ان وادیوں میں جاکر زندگی کا بوجھ ہلکا کر تے کر تے ہلکان ہوجا تے ہیں اور شہاب الدین جسیے لوگ ان کا لیڈر بن کر ان کی ڈگڈ گی بجاتے ہو ئے خوشی منا تے ہیں اور اُن کے ناتواں اور زخم بریدہ کندوں پر بندوق رکھ کر گو لی بھی چلاتے ہیں اور آپ جیسے نامور مو رخ اُن کے گرد آلود چہروں میں مثل اور شواہد تلاش کر تے ہیں۔۔۔ ان ہٹس میں رہنے والے غریبوں کے بچے فیضی اور شہاب الدین کی طرح خوش نصیب نہیں ہو تے جو ان شلوں(ہٹس) میں لطف کے لئے رہے اور واپس نکل کر کالجوں اور کتابوں سے کھیلتے کھیلتے نامور بن شخصیت بن سکے اور یا پھر اُن کے والدین اپنے بچوں کو جدید تعلیم سے آراستہ کر نے چترال ٹاون یا دیگر بڑے شہروں میں لے جا سکے تا کہ گو بر اور گھاس کے دھوئیں سے ان کی جان کو نجات مل سکے۔ماڑان شل، زنگیان شل ، مہوران شل اور رامن شل میں عا رضی عبادت خا نے تو فیضی صاحب کی نذر نگاہ میں ہیں لیکن اُن گر ما ئی چرا گاہوں کے گر ما ئی عبادت گزاروں کے قیمتی ہیرے (بچے )جو غر بت و افلاس کی بوجھ تلے دب کر تعلیم جیسی نعمت سے محروم رہ کر خاندان اور رشتہ داروں کے چند ما ل مو یشیاں چر نے کے لئے وقف ہو چکے ہیں ۔ ان بچوں کی سرد مستقبل سے بالکل بے خبر فیضی کو گر ما ئش کی خوب تلاش ہے لیکن یہ بچے با کل بھی یاد نہیں۔

صد افسوس تو اس بات پر ہے کہ با لائی چترال اور با لائی غذر میں لو گوں کی زندگی نالوں کی اراضی کے کیسوں میں اُلجھ کر ختم ہو رہی ہے اور دولت و متاع شہاب الدین جیسے وکیلوں کی فیسوں میں لُٹ رہی ہے اور اُن کو نمٹا نے والے کو ئی نہیں جبکہ الجھانے والے دونوں اطراف میں خوب مو جود ہیں۔ ایسے میں غریبوں کو ایک اور مسلے یا کیس میں الجھا نا اور نفرت کی تر غیب دینا سمجھ سے بالاتر ہے ایسی سوچ کے حامل فرد غذر کا سرفراز ہو یا بالیم کا فیضی دونوں نہ صرف ہمارے لسانی، ثقافتی اور جغرا فیائی تعلقات کے دشمن ہیں بلکہ ہمارے بچوں کی روشن مستقبل کے قا تل بھی ہیں۔

فیضی صا حب تا ریخ پرعبور رکھتے ہیں بلکہ بطور مورخ تخلیق بھی کر تے ہیں لیکن سچ پو چھئے توحقائق نا مے میں تا ریخی حقائق کا بھی حق ادا نہیں ہوا ہے۔ محمد غفران کی تا ریخ چترال سے سطریں لے کر اُن سے گلگت اور غذر کی تاریخ کا نچوڑ نکا لنا ایسا ہی جیسے کو ئی بیل سے ددودھ نکا لنے کی کوشش کر رہا ہو۔ مجھے تا ریخ سے کبھی دلچسپی نہیں رہی اور نہ ہی یہ میرا مضمون رہا ہے ۔ لیکن فیضی صاحب نے اس کتا بچے میں تا ریخ کا جونچوڑ پیش کیا ہے وہ حقا ئق کے با لکل منا فی ہے کتا بچے میں درج تا ریخ کے یہ دریچے فیضی صاحب کے قلم کے نقوش ہر گز نہیں ہیں یا پھر اُن کے علم میں لا ئے بغیر کتاب میں مو جود تاریخی حوالوں اور سطروں میں تبدیلی لا ئی گئی ہے۔ شندور کو 3000 سالوں پر میحط گلگت اور چترال کے درمیان تجارتی قا فلوں ، مہم جو اور حملہ آواروں کی گذر گا ہ قرار دینے کے بعدرقم طراز ہے کہ’’1210 ء کے بعد سے اہم دستا ویزات دستیاب ہیں جب با لائی چترال میں خاندان طرہ خان کی حکو مت قائم ہو ئی تھی اور اُن کی نسل گلگت ، ہنزہ ،نگر اور پو نیال تک پھیل چکی تھی اور 1320میں چترال کے اندر رئیس خاندان کی حکو مت قائم ہو ئی تھی وہ مزید لکھتے ہیں کہ سو ملک کے زما نے 1210 میں لاسپور کے عوام نے شندور میں چر واہوں کی بستی تعمیر کی ‘‘۔ فیضی صاحب ! محمد غفران کس پا ئے کا مورخ تھا مجھے نہیں معلوم لیکن پرو فیسر حسن دانی کی’’ شا ہ رئیس کی تاریخ گلگت‘‘ اور پرو فیسر عثمان علی کی ’’ قراقرم کے قبائل‘‘ جیسی معروف تاریخی کتابوں کو پڑھنے کے بعد صورت حال واضح ہو جا تی ہے۔ ۔۔

یہاں سے آگے اگلی قسط میں ملا حظہ فر ما ئیں۔۔

(جا ری ہے)

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔