مسعود خان کی نامزدگی 

مسعود خان کی نامزدگی 

8 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ؔ

مسلم لیگ (ن) کی پار لمیانی کمیٹی نے 16اگست کو ازاد کشمیر کے صدر رتی انتخابات کے لئے سابق سفارت کار محمد مسعو د خان کو نامزد کیا تو بعض حلقوں کو اس پر حیرت ہوئی عدالت نے پونچھہ کے حلقہ راولاکوٹ میں ان کے آبائی گاؤں میں ان کا نام ووٹر لیسٹ میں درج کرنے کی اجازت دیدی اس طرح لمبا عرصہ آبائی گاؤں سے دور رہنے کی وجہ سے جو قانونی پیچیدگی پیدا ہوتی ہیں وہ بھی دور ہوگئی ۔16اگست آزاد کشمیر اسمبلی میں صدارتی انتخابات کے لئے رائے دہی ہوگئی مسلم لیگ (ن )کو دو تہائی اکثریت حا صل ہے اور اندازہ یہ ہے کہ کسی مشکل کے بغیر مسعود خان آزاد کشمیر کے نئے صدر منتخب ہو جائنگے ایسے موقع پر اخباری اصطلاح میں تاریخ کے نازک موڑ کا ذکر کیا جاتا ہے مگر میں تاریخ کے نازک موڑکی تکرارسے اکتا گیا ہوں اس اصطلاح کو جاو بیجا اس قدر استعمال کیا گیا کہ اب یہ فرسودہ ہوچکی ہے موجودہ حالات میں کشمیروں کی جدو جہد آزادی جس مرحلے میں داخل ہوگئی ہے وہ بیحد اہم مر حلہ ہے ’’اب یا کبھی نہیں ‘‘کا محاورہ اس پر صادق آتا ہے ایسے مرحلے میں آزاد کشمیر کی صدرارت کے لئے ایک تجربہ کار ،نیک نام اور زیرک سفارت کا ر کا انتخاب مسلم (ن)کی طرف سے پوری دنیا کے لئے اور خصوصاًکنڑول لائن کے پار رہنے والے کشمیریوں کے لئے بیحد اہم اور مثبت پیغام ہے یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کی حکمران جماعت کشمیر کے مسلے پر پاکستان کے موقف کو عالمی سطح پر اٹھانے ،اقوام متحدہ سمیت ہر فورم پر منوانے میں مخلص ہے اور اس کے لئے عملی جدہ جہد پر پختہ یقین رکھتی ہے مسعود خان عوامی جمہوریہ چین سمیت اہم ممالک میں پاکستان کے سفیر رہ چکے ہیں اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب گزرے ہیں سفارتی اور صحافتی حلقوں میں انہیں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے عالمی امور کے حوالے سے انہیں دانشور قرار دیا جاتا ہے اس قدآور شخصیت کا انتخاب یقینی قابل تسائش ہو گا عموماًکہا جاتا ہے بسا اوقات الزام لگایا جاتا ہے کہ فوجی حکمرانوں کے مقابلے میں جمہوری حکمران زیادہ کامیاب ثابت نہیں ہوتے اگر غور کیا جاتے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ جمہوری حکمران سیاسی مصلحتوں کی بنا پر کمر تر لیاقت ،فروتر قابلیت والے ،نا تجربہ کا ر افراد کو بڑے عہدوں پر بیٹھاتے ہیں ایسے لوگ حکومت کی بدنامی کا سبب بنتے ہیں فوجی حکمرانوں کے سامنے کوئی سیاسی مجبوری نہیں ہوتی وہ چن چن کر قابل ترین لوگوں کو کابینہ میں جگہ دیتے ہیں ایوب خان کی کابینہ کے وزیر خزانہ شعیب احمد ،ضیاء لحق کی کابینہ کے وزیر خزانہ ڈاکٹر محبوب الحق اور مشرف کی کابینہ کے وزیر خزانہ شوکت عزیز کا موازنہ ددسروں سے کریں اس طرح دیگر شعبوں کے جن ماہرین کو فوجی حکمرانوں نے کابینہ میں جگہ دی ۔وہ ایک مثال ہے سیاسی اور جمہوری ادوارمیں ایسا نہیں ہوتا وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے آزاد کشمیر کے صدرارتی انتخاب میں کیریر ڈیکوپمنٹ مسعود خان کو پارٹی امیدوار نامزد کر کے میرٹ پر فیصلہ کیا ہے اور یہ اچھی ابتداہے پارلمانی نظام میں صدر کا عہدہ رسمی حثیت رکھتا ہے تاہم صدر کا منصب نہایت اہم ہے صد ر کا کام حکومت کو ویژن دینا ہے وزیر اعظم اور کابینہ کی رہنمائی کرنا ہے اہم امور پر صدر کی رائے کی ہر سطح پر وقعت دی جاتی ہے ایسے منصب پر مسعود خان جیسے تجربہ کا ر اور قابل آدمی ممکن ہو تو بہت فرق پڑتا ہے مسلم لیگ (ن)کی پارلمانی کمیٹی کے اس فیصلے سے پاکستان کے عوام کو نیا حوصلہ ملا ہے آزادکشمیر میں منصب صدارت کو نیا وقار حاصل ہوا ہے پڑوسی کو پیغام گیا ہے کہ ہم کشمیر کے مسلے کو سفارتی سطح پر علمی اداروں میں لیجانا چاہتے ہیں اور عالمی طاقتوں کو یہ پیغام ملا ہے کہ اب کشمیر کی آزادی سے چشم پوشی اور پہلوتہی کی گنجائش نہیں سفارتی محا ز پر دو سادہ باتوں کو سیاسی مصلحتوں کی وجہ سے ا ب تک پس پشت ڈالا گیا ہے پہلی بات یہ ہے کہ کشمیر کے مسلے کو اقوام متحدہ میں پاکستان نے پیش نہیں بھارت نے پیش کیا تھا وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے کشمیر میں استصواب رائے کروانے کے لئے اقوام متحدہ سے روجوع کیا دوسری اہم یہ ہے اقوام متحدہ نے کشمیر میں استصوراب رائے کا حکم دیا تو بھارت نے استصواب رائے کرانے سے انکار کیا مدعی خود اپنے دعویٰ سے مکر گیا اخباری اور سیاسی حلقوں میں یہ بات بھی گردش کررہی ہے کہ شملہ معاہدہ میں ’’ دو طرفہ مذاکرات ‘‘ کے ذریعے مسائل کو حل کرنے کا اصول دیا گیا ہے جو اقوامتحدہ کی ثالثی کو سبوتاژ کرتاہے یہ بات غلط فہمی پر مبنی ہے اگر آپ شملہ معاہدے کو بغور پڑھینگے تو معلوم ہوگا کہ اس میں اپنے زمانے کے دو اہم لیڈروں نے ایک دوسرے کو لاجواب کرنے کی باربار کو شش کی ہے اندرا گاندھی کا موقف یہ تھا کہ جنگی قیدیوں کے بدلے کشمیر کاسود اکیا جائے مگر ذولفقار علی بھٹو نے بھی کچی گولیاں نہیں کھیلی تھیں انہوں نے اس بات سے کنی کتراتے ہوئے سفارتی زبان میں دوطرفہ مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل سے اتفاق کیا شملہ معاہدہ اقوام متحد ہ کے کردار کی نفی نہیں کرتا کشمیر کے مسئلے کا واحد حل وہ ہے جو مشرقی تیمور میں ہم نے دیکھا اقوام متحدہ کی نگرانی میں ریفرنڈم ہوا عوام نے آزادی کے حق میں ووٹ دیا اور جنگ ختم ہوگئی یہی ماڈل کشمیر میں بھی کامیابی سے آزمایا جا سکتا ہے آزاد کشمیر کے صدر کا منصب سنبھالنے کے بعد مسعود خان اہم کردار اس پر ادا کر ینگے۔۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments