مدفنِ دشمن دکھی کارگل میں ہے

مدفنِ دشمن دکھی کارگل میں ہے

18 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

مل جل کے ارض پاک کو مثلِ ارم کریں
کچھ کام آپ کیجئے ، کچھ ہم کریں

گلگت بلتستان کے عوام پاکستان کے ساتھ کس قدر والہانہ محبت رکھتے ہیں اس کا ادراک ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کے حواریوں کو ہوتا تو وہ15اگست کو اپنی ناپاک زبان پر گلگت بلتستان کا نام تک لانے کی جرأت نہیں کرتے۔۔۔۔۔۔نریندر مودی اپنی دیگر مصروفیات سے وقت نکال کر جنگ آزادی گلگت بلتستان کا مطالعہ ضرور کریں کہ کس طرح ان کے کارندے(گورنر گھنسارا سنگھ اور ان کے ساتھی) دُم دبا کر بھاگ گئے تھے اور یکم نومبر1947ء کو ڈوگرہ جھنڈا سرنگوں ہوا اور پاکستان کا سبز ہلالی پرچم بلند ہوا تھا۔۔۔۔

گلگت بلتستان کے لوگوں کا جذبہ ایمانی اور اسلام کے نام پر وجود میں آنے والے مملکت خداداد پاکستان کے ساتھ والہانہ عقیدت اور محبت کا جائزہ لینا ہو تو یہ واقعہ ضرور ذہن نشین کرلیں اور مجھے پورا یقین ہے کہ دنیا کی تاریخ میں بہت کم واقعات اس طرح کے ہوں گے اور واقعہ کچھ اس طرح ہے۔۔۔۔۔۔۔ پروفیسر عثمان علی گلگت کا انقلاب1947ء میں رقمطراز ہیں کہ۔۔۔۔۔۔ بریگیڈئر گھنسارا سنگھ کی گرفتاری کے بعد صبح پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرایا جانا تھا، کپڑے کی نایابی کا یہ عالم تھا کہ پرچم بنانے کیلئے کپڑا ہی دستیاب نہ ہوسکا، محلہ ڈاکپورہ کے ایک سرفروش کو جب اس بات کا علم ہوا تو اس نے اپنے کفن کیلئے سنبھال کے رکھا ہوا سفید کپڑا عطیہ کردیا جس کو اس زمانے کے معروف ٹیلر ماسٹر (درزی) نثار علی نے سبز رنگ دے کر پرچم بنایا، قومی پرچم کیSpecification کا کچھ زیادہ علم نہیں تھا، صرف اتنا جانتے تھے کہ اس پر چاند ستارہ اور اقلیتوں کیلئے سفید رنگ ہے، پروفیسر عثمان علی کے مطابق یہ پرچم صبح آزادی یعنی یکم نومبر1947ء کو گلگت سکاؤٹس کی چھاؤنی (موجودہ حیات شہید پبلک سکول) کے مینار سے ڈوگرہ (ہندوستان) راجہ کے پرچم کو سرنگوں کرکے اس کی جگہ لہرایا گیا۔۔۔۔۔۔۔

سرنگوں اور لہرانے کا اعزاز صوبیدار راجہ سلطان مرحوم اور صوبیدار سلطان ایوب مرحوم کو نصیب ہوا۔۔۔۔۔۔ ایک نے ڈوگرہ پرچم سرنگوں کی اور دوسرے نے پاکستان کا سبز ہلالی پرچم فضاء میں بلند کیا۔

نریندر مودی اس قوم کا حوالہ دے کر ہرزہ سرائی کرتے ہیں اور اس قوم سے غدار ڈھونڈنے کی کوشش کررہے ہیں جس قوم نے اپنے کفن کیلئے سنبھال کے رکھا ہوا کپڑا سبز ہلالی پرچم کیلئے عطیہ کیا ہواور اگر غلطی سے کسی نے گلگت بلتستان میں بیٹھ کر پاکستان کے ساتھ غداری کا سوچا بھی تو جس قوم نے کفن پرچم کیلئے عطیہ کیا ہے اس قوم کی اولاد غداروں کو انجام تک پہنچانے کا جذبہ بھی خوب رکھتی ہے۔

بے سروسامانی کی حالت میں 31اکتوبر کو گلگت سکاؤٹس نے اس وقت کے ڈوگرہ گورنر گھنسارا سنگھ کو بے بس کرنے کے بعد جو پیغام دیا تھا وہ بھی دلچسپ ہے اور گورنر گھنسارا سنگھ اپنی کتاب گلگت1947ء سے پہلے میں لکھتے ہیں۔۔۔۔۔ کہ گلگت سکاؤٹس کا پیغام نائب تحصیلدار منی رام اور پولیس سب انسپکٹر حمید لائے کہ۔۔۔۔ میں پندرہ منٹ کے اندر ہتھیار ڈال دوں تو مجھے او رتمام غیر مسلم سکھ اور ہندو تاجران کو بحفاظت بونجی بھیجا جائے گا، گھنسارا سنگھ کے مطابق پیغام لے کر آنے والوں کا کہنا تھا کہ انقلابیوں (گلگت سکاؤٹس) کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہم یہاں پر صرف پاکستان قائم کرنا چاہتے ہیں اور کچھ بھی نہیں، اور اگر یہ باتیں نہ مانی گئیں تو آپ (گھنسارا سنگھ) سمیت تمام غیر مسلموں کو مار دیا جائے گا۔۔۔۔

کتاب کے مزید مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ گھنسارا سنگھ اور ساتھیوں کو مارنے کی نوبت نہیں آئی کیوں کہ انہوں نے 15منٹ کے الٹی میٹم سے بھی کم وقت میں ہتھیار ڈال دیئے تھے۔۔۔۔۔۔

گلگت بلتستان کے عوام کے مسائل اپنی جگہ، ریاست کے ساتھ معمولی قسم کی شکایتیں بھی موجود رہیں گی ، لیکن کوئی اس خوش فہمی میں نہ رہے کہ گلگت بلتستان سے کسی دشمن کو غدار ملے گا، گلگت بلتستان کے لوگ ریاست پاکستان کے ساتھ غداری تو دورکی بات ’’ریاست ‘‘ کیخلاف بات سننا بھی گوارا نہیں کرتے۔

19اگست کو گلگت بلتستان کے عوام نے نریندر مودی کو کرارا جواب دے دیا ہے، مجھے توقع ہے کہ نریندر مودی کے ہوش ٹھکانے آئے ہوں گے اور اگر نہیں آئے ہیں تو وہ یاد رکھیں کہ گلگت بلتستان میں ہزاروں لالک جان نریندر مودی جیسے سرپھروں کے ہوش ٹھکانے لانے کیلئے موجو ہیں۔۔۔۔۔۔

نریندر مودی کے ہندوستان میں مقبوضہ کشمیر سمیت دیگر کئی ریاستوں میں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں جبکہ گلگت بلتستان کے عوام پاکستان کے ساتھ اپنا رشتہ مزید مضبوط بنانے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔۔۔۔۔

جمشید خان دکھی کے ان اشعار کے ساتھ اجازت:۔

ہے سرِ تسلیم خم صد احترام

اے شہیدو، غازیو تم کو سلام

صبر کا پیمان بھی لبریز ہے

حالت وادی طلاطم خیز ہے

ایک دن پہنچیں گے ہم کشمیر میں

ضرب حیدر ہے ابھی شمشیر میں

اب بھی ڈرتا ہے عدُو شیر خان سے

بابر و وہاب، لالک جان سے

ہارنا تو قسمتِ باطل میں ہے

مدفنِ دشمن دکھی کارگل میں ہے

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔