تا ریخ شندور اورخود کُش مو رخ (پہلی قسط) 

تا ریخ شندور اورخود کُش مو رخ (پہلی قسط) 

33 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

بر ملا اظہار : فدا علی شاہ غذری ؔ 

ہم نہ کہتے تھے کہ حا لی چُپ رہو
راست گو ئی میں ہے رسوا ئی بہت 

میرے ایک مہر بان دوست نے مجھے کہا تھا کہ’’ بھا ئی چھو ڑ دو فیضی صا حب کو تنقید ہضم نہیں ہو تی اور اس کی شخصیت کے کئی رنگ ہیں نہ جا نے کو نسا رنگ لے کر سا منے آئیگا‘‘ میں نے اُن سے عرض کی کہ مجھے فیضی صا حب کے با رے میں بہت کچھ اور دلچسپ با تیں معلوم ہیں اور میں اُن کے ہر رنگ کو اچھی طرح جا نتا ہوں تو فر ما نے لگے کہ نہ اُن کا ہم عصر، نہ شا گرد اور نہ ہی ملا قات پھر کیسے جا نتے ہو ؟ میں نے قہقہ لگایا تو وہ اور حیران ہو گئے میں نے کہا کہ’’ کسی کوجا ننے کے لئے ملا قات با لکل ضرو ری نہیں نہ ہم عصر ہو نا اور نہ ہی شاگرد ہو نا ضروری ہے‘‘۔ میں ڈا کٹر فیضی کو کیسے جا نتا ہوں ؟ دوست کو کیا کہا؟ یہ کہا نی اگلی قسط کے لئے رکھتے ہیں فی الحال مجھے زرا ’’قسطوں میں خو دکشی‘‘ کا مز ا چکنے دو اور جان کی اما نت واپس کر نے سے پہلے فیضی صا حب سے الوداعی کلمات کہنا ضرور ی ہو گیا ہے

پیرو مر شد !! ( فیضی صاحب) حقا ئق چھا پنے سے پہلے ان کے دانت دیکھے جا تے ہیں، لہجے کی تندو تیزی کو جا نچنے اور سو قیا پنی کے مشا ہدے سے قبل آدمی کو اپنی سفلہ پنی ختم کر نی پڑ تی ہے اور ہاں !!’’ تا ریخی افسا نے‘‘ کی قسطیں لکھنے سے بیشتر اپنے ادھو رے’’ افسا نوں‘‘ کو خو شگوار اختتام دینا نہا یت ضرو ری امر ہے ورنہ ان افسا نوں کا اختتا میہ بھی تا ریخ کا کو ئی ادنی سا طفل مکتب ہی مر تب کر نے کے لئے اپنی کمر کس لے گا۔ مجھے خو شی ہو گی کہ آپ’’ تا ریخی افسا نے ‘‘ کی دوسری قسط لکھ کر تا ریخ پر ایک اور احسان کر یں اور اپنے کسی پیٹی بند سا تھی ( مو رخ ) کو افسا نوی تا ریخ کی سطریں جنم دینے کا مو قع عنا یت فر ما یئے گا۔ لیکن عرض ہے اس دفعہ خوب پڑ ھ کر لکھنا کیو نکہ ما کو پو لو کے سفر نا مے کی معلو مات سڑھ چکی ہیں، عطا ملک جوینی کی کتاب’’ تا ریخ جہان گشا ہ ‘‘ کی دستیا بی اور اُن کی غلطی سے سچا ئی پر مبنی چند تحر یروں نے شرر کی شرا رتوں کو عقاب کے رین بسیرے کے بیت الخلاء کے کھنڈرات میں دفن کر دی ہے اور تا ریخ کی رہی سہی گند بھی اُن کی قبر پر ڈھیر ہے۔۔ہاں ،صا حب علم و دانش !! شرر کے افسا نے اُن کی ایک تفسیر جس نے ڈپٹی نظیر احمد کو’’ امہات المو نین ‘‘ لکھنے پر آمادہ کی تھی ضرور پڑ ھ لینا لیکن اُس کی دو سری قسط غلطی سے بھی نہیں لکھنا کیو نکہ جان کی آمان پا نا نہایت مشکل ہو جا ئے گی۔ وہ دپٹی نظیر احمد، جس کو عربی زبان پر کمال مہارت کا عبور تھا اور اُس جیسا عربی دان سر زمین بر صغیر پھر جنم نہ دے سکی لیکن شرر کی تفسیر نے اُن کو ماروا دی تھی اُن کی کتاب’’ امہات المو نین‘‘ دہلی کی چوک پر جلا دی گئی کیوں جلا دی گئی دلچسپ کہا نی ہے جو اس تحریر کا حصہ نہیں بن سکتی ۔ شرر کی وہ تفسیر بڑی فسا دی قسم کی تھی جس نے مو دودی صاحب پر بھی چو ری کے الزام کا سبب بنی جب وہ جھیل میں شرر کے اپنے ہا تھوں سے لکھی ہو ئی (تفسیر) پڑھ رہے تھے بعد میں اُن کے سکر ٹری رفیع ا للہ شہاب نے یہ دعوی کیا تھا کہ مو دودی صاحب نے وہ تفسیر چُرا کر لا ئے تھے۔ آپ شرر کے افسا نے کی پہلی قسط کی رمق دو بارہ بحال کر دیں،دوسری ، تیسری اور چو تھی بھی بھلے لکھیں لیکن یاد رکھنا شرر کی تفسیر پڑ ھے بغیر افسا نے کی کو ئی حثیت نہیں رہتی اور پڑ ھنے کے بعد تو اُن کے ایمان اور افسا نہ دو نوں کی وقعت ختم ہو جا تی ہے۔ 

فیضی صاحب!! ’’دی پٹھان ‘‘کے ابتدا ئے میں عبدل غنی خان نے غا لباً حقا ئق نا مہ لکھنے والو ں کے لئے کہا ہو گا کہ ’’ لکھنے کا مشکل مر حلہ آغاز ہے کہ پتہ نہیں چلتا کہ بات کہاں سے شروع کی جا ئے با لکل اُس طرح مشکل ہے جس طرح تقرے کر تے ہو ئے اختتام کا مر حلہ، کہ کب اور کیسے ختم کی جا ئے ۔ خا لی کا غذ لکھا ری کے چہرے پر اُس وقت بے و قوفانہ گھورتا ہے جب وہ لکھنے کے لئے جلا بخشتا ہے لیکن ذہن سا زی اور فیصلہ نہیں کر سکتا کہ آخر لکھنا کیا ہے ‘‘ اس مر حلے سے گزر کر حقائق کے مصنفین نے مجھے تو ایک اچھا آغاز حق فرا ہم کر چکے تھے ۔ نفرت زدہ سطروں پر میں نے اقساط کی بنیاد ڈا ل دی، تا ریخ کا تو صرف ایک دریچہ کھو لا گیا، شو ا ہد کو تو منہ ہی نہیں لگا یا کسی نے، بے وقو فا نہ الزامات پر خا مہ فر سا ئی لو جیکل ہو ئی ، آپ سے سوا لات پو چھے گئے ، آپ کی تا ریخی معلومات کا پر دہ چاک کیا گیا، سو ملک کی دور حکو مت اور امرتسر کے معا ہدے تک تا ریخ کی ہر غلط حوالہ درست کر دیا گیا، محبت اور رشتوں کو زندہ و قائم رکھنے کے لئے فر یاد کی گئی، رشتوں کی میٹھاس کے با رے سطریں لکھی گئیں اور آپ کے لفظوں کی ٹو ٹی ہو ئی مالا جو ڑ نے کی بھر پور کو شش کی گئی بس اس طرح اقسا ط کا سفر ختم ہوا تھالیکن نفرت کی نئی کر وٹ ’’ قسطوں میں خود کشی کا مزہ (اُن) سے پو چھئے ‘‘ نے پھر اقساط کا نیا سلسلہ جنم دیا ۔۔مجھے حیرت تب ہو تی ہے کہ فیضی جیسے مفکرو شاعر اُستاد و مو رخ میرے چھ اقساط میں ہی ڈھیر ہو کر اپنا نام بدل کر خامہ فر سا ئی کیوں کر تے ہیں ؟ فیضی سے قریشی ، قریشی سے زلفی اور زلفی سے بخاری ( دو تین ناموں کو چھو ڑ دیا ہے )بننے تک کے سفر میں کتنی دکھ بھری کہا نی ہو گی ؟ مجھے با لکل اندازہ نہیں تھا کہ ایسی حا لت بھی ہو گی ۔۔ بحرحال اُن کی خد مت میں عرض ہے کہ لکھنے کا ہنر اور حق صرف آپ کو نہیں ملا ہے کچھ اور لوگ بھی لکھ سکتے ہیں ،آپ کی لکھا ئی پر سچا ئی اور حقیقت کا مہر صرف آپ کی اپنی سو چ اور چند جذ با تی قا رئین لگا تے ہیں با قی دنیا پر آپ کو الزام اور دشنام طرازی کا شوق ہے۔۔ میری اقساط میں نفرت کا جواب تھا سو قیا پنی اور کم تر تر بیت کا سوال کسی ایک جملے سے بھی نہیں اُٹھتا لیکن اشاروں اور کنا یوں کی زبان آپ بھی استعمال کر تے ہیں اور میں بھی ۔۔ لیکن حیرت ہے سطریں آپ جنے تو حقا ئق نا مہ ،میں لکھوں توسو قیا پن، استفسار آپ کر یں تو سوال ،میں کروں تو بدلحا ظی، تا ریخ آپ لکھیں تو سچ اور روشن ، کو ئی اور لکھے تو بے وضع۔۔ واہ میرے بچپن کے گرو !!پچپن میں پہنچ کربچپن کے منظر نہ جا نے کیو ں پیش کر تے ہیں ؟ آپ کے حقا ئق نا مے کے ہرایک لفظ نے اچھا آغاز دیا مجھے، کا غذ کی ہمت ہی نہیں ہو ئی کہ مجھے بے وقوفا نہ اور بے تو قیرانہ گھو ر سکے اور نہ مجھے قر طاس پر لفظوں کی مالا سازی میں جھو ٹ کے پلندوں سے تا ریخ کو مسخ کر نے کی حا جت محسوس ہو ئی اور نہ ہی نفرت کی سنڈیوں کو لے کر دو نوں اطراف محبت کی ہریالی فصلوں پر چڑ ھا ئی کی غلیظ سو چ غالب آئی ۔ سچ تو یہ ہے کہ ہزاروں لو گوں کے اُستاد کو اور تا ریخ کے سورج کو میں اس حقا ئق نا مے کی صفحات میں ٹم ٹما تا دیکھا تھا لیکن پھر بھی آداب اور احترام سے پیش آنا فرض سمجھا تھا۔ مردان سے میرے ایک بڑے عا لم و فا ضل دوست نے تو یہ کہنے پر مجبور ہوا کہ جس فیضی کو وہ جا نتے ہیں وہ تو چترال اور اہل چترال کے امن کا دشمن ہے ‘‘۔ میں نے اُ ن سے عرض کیا کہ میں فیضی صاحب کو اس تلخ حقیقت کے با وجود بھی غذر اور چترال کا مشتر کہ آثا ثہ سمجھ رہا ہوں جس پر اُ نہوں نے ذوردار قہقہ لگا یا ۔لیکن اب وقت آگیا ہے کہ میں اپنے تصور میں زندہ فیضی کو مر حوم لکھوں اور ہندو کش کے دامن میں رہنے والے ڈاکٹر فیضی کے رنگ ، اصلییت، نفرت اور الزامات کے پیچھے حقائق اور محر کات کا پردہ چا ک کردوں کہ اُن کی شخصیت کے پس منظر میں موجو د اندھیری دنیا پیش منظر میں کتنی ٹیم ٹام نظر آتی ہے؟یہ کتنی بے وقعت ہستیاں ہیں جن کو زندہ و تا بندہ رہنے کے لئے نفرت چا ئیے ہو تی ہے اور نفرت کی جا گیر میں نواب بن کر رہنے کے گمان میں آندھی ہو جا تیں ہیں۔ 

فیضی صاحب !آپ کے ( تصور کے سلیم بخاری ، قریشی، زلفی اور دیگر)کی طرح کئی لوگ آپ کو تا ریخ کا سور ج ما نتے ہیں اور ہم جیسے لو گوں کو اُس سورج سے رو شنی لے کر تا ریخ کی مانگ بھر نے کی تلقین کی جا رہی ہے لیکن وہ بھو ل جا نتے ہیں کہ تا ریخ کے’’ تمثیلی سورج‘‘ کا طلوع ’’اصلی سورج‘‘ کے غروب کے بعد ہو تا ہے کہیں کچھ دن بعد کبھی سال بعداور کبھی سالہا سال بعد ۔۔ میں آپ کو تا یخ کا سورج ما نتے ہو ئے بھی چراغ دیکھا نے کی جسارت کرو ں گا کہ زرا مجھے، اپنے قدر دانوں اور قا رئین کو بتا دیجیئے گا کہ کو نسی تا ریخ لکھنے کے لئے حقا ئق نا مے میں مرحوم میر تھنت شاہ( اپنے سُسر ) اور( مو لا نا ) محمد اشرف (اپنے والد بزرگ ) کو 1959کے جر گے کا حصہ بنا یا ہے وہ دو نوں تو اُس وقت نہ گاوں میں اور نہ ہی جر گے میں حا ضر تھے؟ ( دوسری قسط میں آپ کا لحاظ کر تے ہو ئے میں اس جھوٹ کو جا نے دیا تھا) لیکن آپ کو تو بد لحا ظی تمیز لگتی ہے اور لحاظ اور قدر دانی سو قیا پن۔ آپ کے حقا ئق نا مے کو شندور جھیل کا کو ئی نکا سی نا لہ نظر نہیں آیا ہے، آپ کا بچپن( آپ کے بقول )ما ڑان شل میں گزرا ہے لیکن پھر بھی قدرت کا حسین شا ہکار(شندور) کبھی غور سے دیکھنے کا مو قع نہیں ملا ہے کہ قدرت نے کس طرح جھیلوں سے دریا اور دریاوں سے سمندر بنا ئی ہے ؟ کبھی فر صت اور اجا زت ملی تو شندور جا کر دیکھنے کے ساتھ دریا ئے غذر سے پو چھ بھی لینا کہ شندور جھیل سے اُس کا رشتہ کیا ہے؟؟ اور دریا ئے غذر کے سورس پر خوب غور کر نا ؟ میں ما نتا ہوں کہ میں تا ریخ کے با رے کچھ نہیں جا نتا لیکن پلے سے با ندھ لیجئے گا کہ بر ملا اظہار کے دامن میں ڈال کر جو لفظ، الفاظ کے پیرا ئے میں پرو ئے جا تے ہیں اُن میں رتی برابر بھی شک کا عنصر نہیں رہتا اور میں جھو ٹ کا سا یہ بھی اپنی تحریروں پر پڑنے نہیں دیتا، مجھے بر ملا اور بر جستہ اظہار کی عادت ہے فیضی صاحب !! ۔۔۔آپ نے جس کمال مہارت سے بے ادب اور بے تو قیر سطروں کا نام حقا ئق رکھتے ہیں اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو آپ کی’’ تا ریخ شندور‘‘ پڑ ھنے کے قابل ہی نہیں رہے گی اور مجھ جیسا طفل مکتب اُٹھ کر نہ صرف تا ریخ بینی اور تاریخ شنا سی بتا دے گا بلکہ تا ریخ نو یسی بھی سکھا ئے گا۔۔اگر اپنے قلم کو نفرت کے لفظوں سے دور نہیں رکھا تو حر مت قلم کی نا پیدی کیساتھ نفرت کی سنڈیاں ( نفرت کے سفیروں کی پا لی ہو ئی) غذر اور لاسپورمیں مو جود محبت کی ہر یا لی فصلوں سے نکل کر آپ کے قر طاس کی خشک دستوں پر پڑ یں گی اور وہی سنڈیوں کا شہر آباد ہو گا اور۔۔۔

را ج کر ے گی خلق خدا
یار زندہ صحبت با قی!

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔