ہم تو دشمن کو بھی جینے کی دعا دیتے ہیں

ہم تو دشمن کو بھی جینے کی دعا دیتے ہیں

32 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

لوگ ظالم ہیں امیدوں کو جلا دیتے ہیں
ہم تو دشمن کو بھی جینے کی دعا دیتے ہیں

اتنے بے درد ہیں سارے زمانے والے
آگ لگ جائے تو شعلوں کو ہوا دیتے ہیں

ان خوبصورت اشعار کے بعد کچھ اقوال زرین اور پھر آج کا موضوع۔۔۔۔۔۔

کہتے ہیں کہ۔۔۔۔ عشق اور مشک کبھی نہیں چھپتے۔۔۔۔

عہد کرنا آسان مگر وفاء مشکل ہے۔۔۔۔۔۔

بھڑوں کے چھتے کو مت چھیڑو۔۔۔۔۔

اور

حاکم کی آنکھ نہیں ہوتی۔۔۔ کان ہوتے ہیں۔۔۔۔

وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کا صحافیوں سے ایک پیار بھرا شکوہ ہمیشہ رہتا ہے کہ میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں پر جب ہم ایکشن لینے کیلئے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کرتے ہیں تو صورتحال ’’کھودا پہاڑ نکلا چوہا‘‘ والی ہوتی ہے۔۔۔

بصد احترام وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کی خدمت میں عرض ہے کہ مورخہ16اگست2016ء کو لکھے گئے کالم جس کا عنوان ’’کردار حاکموں کا ہوا داغدار اور‘‘ میں اسسٹنٹ کمشنر گلگت (موجودہ ڈپٹی کمشنر نگر) کی سربراہی میں انکوائری کمیشن کی رپورٹ کا حوالہ دیا تھا اور تمام دستاویزی ثبوت فراہم کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی تھی، تاہم11روز گزرنے کے باوجودسرکاری دستاویزات کے حوالے سے شائع شدہ انکوائری کمیشن کی رپورٹ پر مبنی کالم کی اشاعت کے بعد کسی بھی قسم کی کارروائی کا نہ ہونا میڈیا کی کمزوری ہے یا حکومتی اداروں کی؟

حکومتی اداروں کی طرف سے تو کوئی بھی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی تاہم اہلیان مناور کے معززین نے2011ء میں بنائی گئی کمیٹی کی رپورٹ مجھ تک پہنچائی ہے اور دونوں رپورٹس کا حاصل وصول یہی ہے کہ بڑے پیمانے پر محکمہ سیٹلمنٹ کے ریکارڈ میں ہیرا پھیری کی گئی،16اگست کا کالم اس امید کے ساتھ دوبارہ شائع کررہا ہوں تاکہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان دستاویزی ثبوت کو بنیاد بناکر لکھے گئے کالم پر ایکن نہیں لیتے تو پھر قصور میڈیا کا نہیں، حکومت اور حکومتی اداروں کا ہے، اب ذرائع 16اگست2016ء کا کالم ملاخطہ فرمائیں۔

درجہ بالا وجوہات سیریل نمبر1تا22کی تحقیقات کے بعد کمیٹی اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ خالصہ سرکار رقبہ جات کو چند بددیانت اہلکار ان کے ذریعے سے جعل سازی اور ٹمپرنگ کرکے مملکت خداداد پاکستان کو کروڑوں نہیں بلکہ اربوں کا نقصان پہنچایا گیا۔۔۔۔۔۔۔ اس کے علاوہ موضع متذکرہ بالا کے سابقہ جمعہ بندی و جدید ریکارڈ کے فیلڈ بک جلد پنجم کو ریکارڈ سے اٹھایا گیا، اس لئے کمیٹی یہ سفارش کررہی ہے کہ درجہ بالا سیریل نمبر1تا22کو کالعدم قرار دیاجاکر اس وقت کے بددیانت اہلکاروں کا تعین کیا جاکر قرار واقعی سزاء دی جائے تو مناسب ہوگا۔۔۔۔۔

نقل شجرہ نسب کتھونی لف ہذا ہیں۔

اس چشم کشاء رپورٹ پر کمیٹی کے چیئرمین اسسٹنٹ کمشنر گلگت (اب ڈپٹی کمشنر نگر) نائب تحصیلدار ریکارڈ علی عباس۔۔۔۔ ڈی کے (DK)محمد ابراہیم۔۔۔۔۔ محمد عباس حلقہ گرداور۔۔۔۔۔ حاجی محمد اکبر خان آفس قانونگو۔۔۔۔فاروق احمد پٹواری حلقہ مناور۔۔۔ اور۔۔۔ ذاکر حسین پٹواری حلقہ جوٹیال کے دستخط موجود ہیں۔

مورخہ30جون کو چھٹینمبرDK-(16)/3436-43کے ذریعے اسسٹنٹ کمشنر گلگت (موجودہ ڈپٹی کمشنر نگر) کی سربراہی میں انکوائری کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔۔۔۔ انکوائری کمیشن نے مورخہ15جولائی2016ء کو ڈپٹی کمشنر گلگت آفس میں اپنی رپورٹ نمبرSDK-6(10)-mguioy3183/2016جمع کرادی ہے جس میں تقریباً400کنال زمین کی الائمنٹ میں ٹمپرنگ اور ہیراپھیری کو ثابت کرتے ہوئے محکمہ مال کے ذمہ داران کیخلاف کارروائی کی سفارش کی گئی۔۔۔۔۔۔

انکوائری کمیشن نے رپورٹ کا آغاز اس طرح کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

مقرر کمیٹی نے تحقیقات، ریکارڈ مال، پرت پٹوار، پرت سرکار، انتقالات، جمعہ بندی جدید، بندوبست2001ء اور کتھونی کی مدد سے ریکارڈ موضع مناور کا جائزہ لیا، اور مکمل تحقیقات کیا، جس سے عیاں ہوتا ہے کہ موضع مناور کے جدید ریکارڈ سال2001ء میں تکمیل کے بعد جعلسازی کرکے پرت سرکار میں نئے اوراق چسپاں کئے ہیں اور بعض رقبہ جات پر قلم زنی/ ٹمپرنگ کی گئی ہے جبکہ پرت، پٹوار اور کتھونی میں ٹمپرنگ اور جعل سازی صاف دکھائی دے رہی ہے، جو کہ ریکارڈ داخل ہونے کے بعد کسی بددیانت، کرپٹ اور جعل ساز اہلکاران کے ذریعے سے ریکارڈ مال کو مشکوک اور جعلی بنانے کی کوشش کی ہے، جس کا ثبوت ازروئے بندوبست، جمعہ بندی، مثل حقیقت کے سرورق پر ہر کیھوٹ دار اور مالکان اراضی کا شجرہ نسب مرتب کیا جاتا ہے اور اس شجرہ نسب کے ساتھ کیھوٹ نمبر اور تعداد رقبہ درج ہوا کرتا ہے جوکہ درج ہے اور درست ہے البتہ درج ذیل کیھوٹ ہائے کے رقبہ جات کوٹمپرنگ اور جعل سازی کرکے خالصہ سرکار رقبہ جات کو اپنی ملکیت درج کرنے کی ایک ناکام کوشش کی گئی ہے جس کی تفصیل درج ذیل ہے۔ تفصیل میں سیریل نمبر1تا سیریل نمبر22تک میں ہونے والی ٹمپرنگ کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں جن کی تفصیلات میں جانے کی ضرورت نہیں۔۔۔

30جون2016ء کو ا نکوائری کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا، صرف15دن کے اندر15جولائی2016ء کو انکوائری کمیشن نے اپنا کام مکمل کرکے رپورٹ ڈپٹی کمشنر گلگت کے پاس جمع کرادی ہے۔۔۔۔۔ڈپٹی کمشنر گلگت نے رپورٹ ہوم سیکریٹری، ہوم سیکریٹری نے چیف سیکریٹری اور چیف سیکریٹری گلگت بلتستان اس بات کا پابند ہے کہ انکوائری کمیشن کی رپورٹ پر وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کو اعتماد میں لے کر محکمہ مال یا بندوبست (سٹیلمنٹ) کے ان ذمہ داران کیخلاف کارروائی کرکے نشان عبرت بناتا تاکہ آئندہ کسی بھی سرکاری ملازم کو سرکاری کاغذات میں ٹمپرنگ یا جعل سازی کرنے کی جرأت ہی نہ ہوسکے۔۔۔۔

میں انکوائری کمیشن کے چیئرمین اور تمام ممبران کی جرأت اور ہمت پر انہیں سلام پیش کرتا ہوں، تاہم مجھے اس بات پر حیرت ہے کہ انکوائری کمیشن کی رپورٹ جمع کرائے جانے کے ایک ماہ بعد بھی کسی بھی ذمہ دار کیخلاف کارروائی نہ ہونا اس بات کی علامت ہے کہ گلگت بلتستان میں گورننس کتنی اچھی ہے۔۔۔۔

وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کو میڈیا والوں سے ایک پیار بھرا شکوہ ہمیشہ یہی رہتا ہے کہ میں میڈیا میں شائع خبروں کی گہرائی میں جاتا ہوں تو ’’کھودا پہاڑ اور نکلا چوہا‘‘ جیسی صورتحال درپیش ہوتی ہے۔

وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کی خدمت میں عرض ہے کہ میڈیا میں پانی، بجلی، سڑکوں کی خستہ حالی، میرٹ کی پامالی ، کرپشن، تعلیم اور صحت کی سہولیات کے نہ ہونے پر مبنی خبروں کی گہرائیوں میں جھانکنے کی ضرورت ہی نہیں، آپ ہفتے میں ایک مرتبہ شہر کا چکر لگائیں، آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ گلگت بلتستان کا میڈیا اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا ہی نہیں کررہا ہے۔۔۔۔۔ عوامی مسائل کے حوالے سے جو خبریں جی بی کا میڈیا چھاپ رہا ہے وہ اصل مسائل کی عکاسی ہی نہیں کرتا۔۔۔۔۔۔۔۔ جس دن میڈیا اصل مسائل سامنے لائے گا۔۔۔۔۔ اس کے بعد آپ کا یہ گلہ بھی ختم ہوجائے گا کہ ’’میڈیا اپنا کردار صحیح طریقے سے ادا نہیں کررہا ہے۔‘‘

مجھے یقین ہے کہ انکوائری کمیشن کی4صفحات پر مشتمل رپورٹ آپ تک پہنچائی جاچکی ہوگی۔۔۔۔۔ اگر ایسا نہیں ہے تو میں یہ رپورٹ آپ تک پہنچانے کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔ سزاء اور جزاء کے نظام کے بارے میں آپ کا وژن بالکل واضح ہے۔۔۔۔۔۔ انکوائری کمیشن کی رپورٹ پڑھنے میں صرف10منٹ کا وقت لگ سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد ذمہ داروں کو سزاء یا جزاء دینے کا فیصلہ آپ کے ضمیر پر چھوڑ دیتا ہو۔

جمشید خان دکھی کے ان اشعار کے ساتھ اجازت:۔

علم نفرت کا لہرا یا نہیں ہے

وفا کا پھول مرجھایا نہیں ہے

ہوئی جمہوریت تقسیم جب بھی

ہمارے ہاتھ کچھ آیا نہیں ہے

یقیناًہم نے اس آدھی صدی میں

بہت کھویا ہے کچھ پایا نہیں ہے

کبھی اپنوں کبھی غیروں کی یورش

ہمیں کس کس نے تڑپایا نہیں ہے

امیر شہر کی شہہ پر ہمیشہ

تعصب راس کب آیا نہیں ہے!

مکان آدھا رہا یارو سمٹ کر

مکین اس پر بھی شرمایا نہیں ہے

جلائیں مسجدیں ہم نے ولیکن

محمد ؐنے یہ فرمایا نہیں ہے

یہاں عفریت ہے لادنیت کا

کسی جن بھوت کا سایہ نہیں ہے

وریدہ پیراہن ٹوٹا بدن ہے

ہے جیسا بھی مجھے پیارا وطن ہے

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔