گلگت بلتستان حکومت نیشنل ایکشن پلان کو سیاسی انتقام کے لئے استعمال کر رہی ہے، پاکستان پیپلز پارٹی

گلگت (پ ر)پاکستان پیپلز پارٹی میڈیا سیل گلگت بلتستان سے جاری کردہ اخباری بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے گلگت میں نیشنل ایکشن پلان کو سیاسی انتقامی کاروائی کے لئے استعمال کر کے ثابت کر دیا کہ مسلم لیگ (ن) کی موجودہ صوبائی حکومت اپنے سیاسی قائد ضیاء الحق کی پالیسی پر عمل پیرا ہے ۔ گلگت میں عوامی ایکشن کمیٹی کے جلسے کے بعد ان پر مقدمات درج کر کے حکومت نے آمریت کی یاد تازہ کر دی ۔ گلگت شہر میں اے سی آفس کے دفتر کے سامنے کالعدم تنظیمو ں کے جھنڈے حکومت کے منہ پر طمانچہ ہے۔ حکومت کا لعدم تنظیموں کے خلاف کاروائی نہیں کر سکتی کیونکہ کالعدم تنظیموں کی حمایت سے مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان میں بر سر اقتدار آئی ہے۔

واضح رہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کا قیام سابقہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں آیا تھا اور پیپلز پارٹی کے دور میں عوامی ایکشن کمیٹی نے تاریخی دھرنا دیا تھا اور پیپلز پارٹی کے حکومت کے خلاف سخت اور غیر پارلیمانی زبان بھی استعمال کی تھی مگر پیپلز پارٹی جمہوری اورسیاسی جماعت ہے۔ اور ہم اظہار رائے کی آذادی کا احترام کرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے دور میں اس قسم کے فیصلے بیوروکریسی کے اشاروں پر نہیں کئے تھے ۔ مگر آج ایکشن کمیٹی نے صرف ایک جلسہ کیا تھا ۔ سی پیک منصوبے پر گلگت بلتستان کی عوام کا حصہ بھی رکھا جائے اور اس منصوبے سے قبل گلگت بلتستان کے عوام کے تحفضات دور کئے جائیں۔مگر ایک مرتبہ پھر ن لیگ کی حکومت شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بننے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔ اس طرح گلگت بلتستان کے عوام کی آواز کو نہیں دبایا جا سکتا۔

آپ کی رائے

comments