سالانہ انگور ڈے

سالانہ انگور ڈے

18 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

 جمشید خان دُکھی

27 اگست 2016 ؁ء کے سہ پہر 03 بجے ڈاکٹر انصار مدنی صاحب نے اپنے دولت خانہ واقع خومر – جوٹیال گلگت میں ’’دوسرا سالانہ انگور ڈے‘‘کا اہتمام کیا۔ اس محفل میں حلقہ ارباب ذوق (حاذ) گلگت کے سینئر اور جونیئر شعراء کے علاوہ دیامر رائٹرز فورم کے سر پرست اعلیٰ اور سابق نگران صوبائی وزیر عنایت اللہ خان شمالی اور صوبائی حکومت کے ترجمان / دیامر رائٹرز فورم کے صدر فیض اللہ فراق نے شرکت کی۔اس تقریب کے مہمان خصوصی ڈاکٹر اکبر کنڈی سابق وائس چانسلر گومل یونیورسٹی اور میر محفل پروفیسر محمد امین ضیا صدر حاذ اور عنایت اللہ خان شمالی تھے۔ڈاکٹر منصور اکبر کنڈی کئی کتابوں کے مصنف ہیں اور آج کل انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات اور بین الاقوامی تعلقات کے ہیڈ ہیں۔نظامت کے فرائض غلام عباس نسیم نے سر انجام دئے۔انکے علاوہ آرمی پبلک سکول جوٹیال کے پرنسپل کرنل جہانگیربھی اس محفل شعر و سخن میں شریک تھے۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر انصار مدنی نے دوسری بار اپنے گھر میں یوم انگور کا اہتمام کرتے ہوئے حلقہ کے شعراء کے اعزاز میں پروقار محفل شعروسخن بھی سجائی جس سے شعبہ ادب سے انکی دلچسپی کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

حلقہ کے سیکرٹری مالیات اور معروف شاعر و فنکار غلام عباس نسیم نے گزشتہ ایک عشرہ سے اپنے ہاں “سالانہ چیری ڈے” کا اہتمام کر نے کا بیڑہ اٹھایا ہوا ہے۔لگتا ہے کہ یہ سلسلہ اور بڑھے گا اور کل کلاں توت ڈے،سیب ڈے، آڑو ڈے، انجیر ڈے اور انار ڈے وغیرہ کیلئے کوئی نہ کوئی اپنی خدمات ضرور پیش کرے گا۔ آپ کو بتاتا چلوں کہ مرحوم کریم جان فوٹو گرافر نے” انگور ڈے”کے انعقاد کی بنیاد رکھی تھی لیکن ان کی موت کے بعد یہ سلسلہ رک گیا تھاجسے ڈاکٹر مدنی صاحب نے جاری رکھنے کا عزم کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر صاحب نے انگور کے علاوہ پر تکلف ہائی ٹی کا بھی اہتمام کیا تھا۔

سب سے پہلے معزز مہمانوں نے سروں پر لٹکتی انگور کی بیل سے انگور کاٹ کر انگورڈے کا افتتاح کیا جس کے بعد محفل مشاعرہ منعقد ہوئی۔جن شعراء نے اس محفل میں شرکت کی ان میں پروفیسر محمد امین ضیا، عنایت اللہ شمالی، غلام عباس نسیم ، نظیم دیا، اشتیاق احمد یاد، فاروق قیصر، رحمان آہی، تہذیب برچہ، عباس صابر ، مظفر حراموشی اور جمشید خان دُکھی کے نام شامل ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر منصور اکبر کنڈی نے آخر میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میں نے یہاں کے لوگوں میں بہت خلوص دیکھا۔یہاں کے شعراء کی پائیدار شاعری سن کر خوشی ہوئی اور اس بات کا اندازہ ہوا کہ یہاں کے لوگ اپنی دھرتی ماں سے بہت پیار کرتے ہیں۔انہوں نے انگریزی میں کچھ کلام بھی سنایا۔آخر میں ڈاکٹر انصار مدنی نے اشعار میں شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ بعد ازاں مہمانوں کی انگور اور دیگر اشیائے طعام سے تواضع کی گئی اور سر شام یہ محفل اختتام پذیر ہوئی۔ اسی رات 9 بجے سرینہ ہوٹل گلگت میں پاکیزہ آرٹس کونسل کے زیر اہتمام عنایت اللہ خان شمالی صاحب کا اردو شاعری پر مبنی البم ریلیز کیا گیا۔

اس تقریب کے مہمان خصوصی انسپکٹر جنرل پولیس جی بی اور منیجنگ ڈائریکٹر نیٹکو تھے۔راقم اور غلام عباس نے بھی اس تقریب میں شرکت کی ۔ اس موقع پر آئی جی پی نے البم ریلیز ہونے پر شاندار الفاظ میں عنایت اللہ شمالی اور اقبال حسین اور ساتھیوں کو خراج تحسین پیش کیا جبکہ ایم ڈی نیٹکو نے اپنے خطاب میں منتظمین کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے یہ بھی اعلان کیا کہ آئندہ یہاں کے ادباء و شعراء اور فنکاروں کو نیٹکو کے کرایوں میں 50 فیصد ڈسکاؤنٹ دیا جائے گا۔محفل میں شریک لوگوں ، ادیبوں، شاعروں اور فنکاروں نے ان کے اس اقدام کو بے حد سراہا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔