راء کی سازش بے نقاب 

راء کی سازش بے نقاب 

17 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گزشتہ کئی عرصے سے بعض لکھاریوں کی جانب سے تواتر کے ساتھ ایک ہی بیانیہ محوگردش ہے کہ پڑوسی ملک بھارت کے خفیہ ایجنسی ’راء‘ نے چترال اور گلگت بلتستان کے چند افراد کو لالچ دے کر شندور کی زمین کو متنازعہ بنا نے کی کوششوں میں مصروف ہے صاحب نے اپنے پچھلے سال کے ایک کالم میں یہاں تک لکھا تھاکہ’ راء‘ چند بے ضمیرافراد کو خرید کر پشاور کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل میں سیمینار منعقد کیا اوراس سیمینار کے ذریعے شندور کی زمین کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی ہیں۔ سیمینار سے متعلق گزشتہ دو سالوں سے ہر جانب وضاحتیں سامنے آچکی ہے اب خاکسارکو بیاں کئے گئے الفاظ کودھرا کو قارعین کو تھکا دینے کا کوئی ارادہ نہیں ۔ سال رواں میں بھی شندور کی ملکیت سے متعلق ذرائع ابلاغ میں الفاظ کی لڑائی کا سلسلہ جاری ہے جس میں کئی افراد کی تحریروں سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملا البتہ بہت ساری تحریروں میں غیر معمولی مماثلت پائی جاتی ہے ان میں سے چترال بالخصوص لاسپور سے تعلق رکھنے والے افراد کی تحریروں میں کہیں تفصیل سے اور کہیں مختصراََ شندور سے متعلق’ راء‘ کی مبینہ سازش کو بے نقاب کرنے کا فریضہ خوش اسلوبی سے نبھایاگیا ہے ۔ اس سلسلے میں خاکسار گزشتہ دنوں’ سرزمین شندور اور راء کی سازش‘ کے عنوان سے ایک کالم زیب قرطاس کیا تھا کالم میں یہ واضح کی گئی تھی کہ ’’ادھر اطلاع آئی ہے کہ ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی اور شہاب الدین ایڈوکیٹ نے مل کر 29اوراق پر مشتمل ایک کتابچہ شائع کرتے ہوئے شندور کو برسوں پرانی تاریخی روایاتوں کے ذریعے لاسپور کی ملکیت ظاہر کرچکے ہیں ادھر غذر کے سابق ایم ایل اے سرفراز شاہ صاحب کی کتاب کا بہت چرچا ہے ۔ لیکن ہماری حالت ایسی ہے کہ نہ تو فیضی اور شہاب الدین ایڈوکیٹ کے شندور پر لکھے گئے حقائق نامہ کو پڑھنے کا ابھی تک اتفاق ہوا ہے اور نہ ہی سرفراز شاہ کی کتاب کہیں نظروں سے گزری ہے ۔ اس کے علاوہ شندور کی تاریخی حیثیت سے متعلق بھی ہمارا علم ناقص ہے یوں ساری صورتحال میں ہم اس متنازعہ مسئلے پر بات کرنے کی بجائے فیصلہ کیا ہے کہ دنوں شدتوں کے درمیان کوئی اعتدال کا راستہ ڈھونڈھ نکالاجائے ‘‘۔ میری اس تحریر کے جوا ب میں یوسی /وارڈ لاسپور سے تحصیل کونسلر جلال الدین صاحب نے انتہائی طنزیہ اندا زسے خاکسار کواشارۃ یوں مخاطب کیا ہے ’’بعض دوسرے لوگ لالچ کا شکار ہوکر شرپسندو ں کی حمایت کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں‘‘ ۔گویا ہمارے پاس ضمیر کی موت ہوچکی ہے بس لالچ میں آکر سب کچھ لکھ ڈالا۔ پھر انتہائی حقارت کے اندا ز سے لکھتے ہیں’’کریم اللہ نامی کسی شخص نے مطالبہ کیا ہے کہ آکاش وانی اورآل انڈیا ریڈیو کی ریکارڈنگ کو سوشل میڈیا کے ذریعے منظر عام پرلایاجائے یہ بچگانہ مطالبہ ہے اس کی ریکارڈنگ 26اپریل 2015ء کے روز متعلقہ اداروں کو پیش کی گئی ہے ایسے معاملات کو سرکاری زبان میں حساس معلومات کا نام دیا جاتا ہے اور حساس معلومات پر ایرے غیرے کو نہیں دی جاتیں‘‘۔

محترم نے اپنی کالم میں بار بار طنزیہ بلکہ تحقیرانہ اندا زے خاکسار کو مخاطب کیاہے ادب وصحافت کی دنیا میں نومولود کو یادلاتے ہیں کہ تنقید ، طنز، مزاح اورتحقیر میں فرق ہوتا ہے ۔ ادبی دنیا میں سب سے صحت عمل تنقید برائے تعمیر ہے البتہ طنز ایک ناپسندیدہ فعل ہے جبکہ تحقیر کو ادب میں گالی سے بھی زیادہ برتر فعل تصور کیا جاتاہے ۔ہر شخص کو تنقید کا حق حاصل ہے لیکن کسی بھی لکھاری (اگر صاحب واقعی لکھاری ہے تو) کو زیب نہیں دیتا کہ وہ طنز بلکہ حقارت کے انداز سے مخاطب ہو۔محترم لکھاری کے اس طرز تحریر سے یہ تو پتہ چلتا ہے کہ وہ ذرائع ابلاع کے میدان میں نئے نئے قدم رانجا ہیں کسی یورپی دانشورکا قول ہے ’’وہ لوگ جنہیں پڑھنا چاہئے وہ لکھنے میں مصروف ہے‘‘اس قول پر موصوف پورا پورا اترے ہیں۔گزشتہ کالم میں ہم نے استاد محترم سے تقاضا کیاتھا کہ آکاش وانی اور آل انڈیا ریڈیو میں شندور سے متعلق نشر ہونے والی خبروں کوسماجی رابطوں کے ویب سائڈ کے ذریعے ہم تک پہنچایا جائے تو اس کے ساتھ یہ بھی لکھا تھا کہ شائد اس خبر کو بھارت کے منہ پھٹ ٹی وی چینلوں نے بھی نشر کیاہوگا اوربھارتی اخبارات میں بھی اس کی خبرین شائع ہوچکی ہوگی ان سب کے لنکس اگر فیس بک یا ٹوئیٹر پر شیر کیاجائے تو بہتر رہے گایہ مطالبہ ہم نے استاد محترم سے کیا تھا لیکن درمیان میں دوسرے حضرات کا یوں کودنا سمجھ سے بالاتر ہے ویسے ایک آدنیٰ طالب علم کی حیثیت سے محترم استاد سے سوال پوچھنا میراحق ہے کیونکہ علمی معاشرے میں سوال پوچھے جاتے ہیں مسلط قوانین پر اعتراض کیاجاتاہے زندہ معاشروں میں سوالات پوچھنا قابل نفرت نہیں بلکہ سیکھنے کا ایک عمل تصور کیاجاتاہے جس معاشرے میں مکالمے، مباحثے ، اعتراضات اور سوالات کو دبایاجائے وہاں مثبت خیالات پروان نہیں چڑھنے البتہ ان کی جگہ تخریب کاری، انتہاپسندی اور دہشتگردی کا غلبہ ہوتاہے۔ہمارے مطالبے کے جواب میں دانشور سیاست دان نے آکاش وانی اور آل انڈیا ریڈیو سے نشر ہونے والی شندور سے متعلق خبروں کو ’حساس معلومات ‘ کا نام دے کر دامن بچانے کی ناکام کوشش کی ہے ،حساس معلومات کی تعریف یوں کی جاتی ہے کسی فرد، ادارے یا ریاست اپنے مفادات کے لئے خفیہ طورپرکچھ اصول ترتیب دیتے ہیں جنہیں سامنے لانے سے اس فرد ، ادارے یا ریاست کے مفادات کو زک پہنچنے کا اندیشہ ہوتا ہے حساس معلومات جنگی حربوں اور سفارت کاری کے شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں ۔ فاضل لکھاری نے جس انداز سے حساس معلومات کی تعریف کی ہے وہ اپنے انداز میں ایک بچگانہ تشریح ہے ۔ ایک دشمن ملک کے ریڈیو پر شائع ہونے والی خبروں کو ’’حساس معلومات ‘‘ کا نام دے کر محترم نے اپنی کم علمی کی قلعی کھول دی ہے ۔ اب دھیرے دھیرے یہ بات بھی عیان ہوتی جارہی ہے کہ دشمن ملک کے ریڈیو سے شائع ہونے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ۔خاکسار نے اپنے کالم میں شندور کی ملکیت پر ایک لفظ بھی نہیں لکھاتھا البتہ سازشوں کی حقیقت کو سامنے لانے کا مطالبہ ضرور کیاتھا لیکن ایسا محسوس ہوتاہے کہ یاتو محترم کو میری تحریر خود پڑھنے کا اتفاق نہ ہوا ہو یا پھر فرط جذبات میں بہہ کر جواب لکھا،بات جو بھی ہو لیکن کالم نگار نے قلم اور کاغذ کے ساتھ انصاف کرنے سے قاصررہے ۔

اپنے پچھلے کالم میں بھی تاریخ سے متعلق اپنی معلومات کے ناقص ہونے کا اعتراف کیا تھا اور اب بھی خاکسار کو یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ مجھے شندور کی تاریخ سے متعلق زیادہ معلومات نہیں چلو ادب کے شعبے میں نئے قدم رانجا صاحب ہی سے تقاضہ کریں گے کہ وہ تفصیلاََ 1843ء کے معاہدہ امرتسر سے متعلق ہمارے علم میں اضافہ فرمائیں ۔ کیونکہ فداعلی شاہ غذری نے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ معاہدہ 1843ء کو نہیں بلکہ 16 مارچ 1846ء کو ہوا تھا ۔معاملہ جو بھی ہوبرائے مہربانی معاہدہ امرتسر کی اصل تاریخ اور معاہدے کی شقوں سے بلکہ معاہدہ امرتسر پر تفصیل سے اگر روشنی ڈالاجائے تو ہمارے علم میں اضافہ ہوگا البتہ اتنی گزارش ہے کہ درآمدی لٹریچر قابل قبول نہیں ہوگی۔مجھے نہ تو معاہدہ امرتسر کا کوئی علم ہے اور نہ ہی بھٹو کے حکم سے قائم ہونے والے ’فیڈرل پنڈ کمیشن ‘ کے شندور سے متعلق 5اگست 1975ء کے نوٹیفیکشن کا علم ہے ۔(ویسے صاحب یہ فیڈرل پنڈ کمیشن کیا چیز ہے ذرا وضاحت فرمائیں) ۔ سرفراز شاہ اور محمد علی مجاہد سے کوئی ہمدردی نہیں بلکہ سچ تو یہ ہے کہ سرفراز شاہ کا نام ڈاکٹر فیضی کی تحریروں کے بموجب سنا جلال الدین صاحب( انتخابات کے دونوں میں پوسٹروں میں آپ کا نام جمال الدین لکھاگیا تھا کیاممبر بننے کے بعد اپنانام تبدیل کیا یا آپ کوئی اورجلال الدین ہے؟)اگر آپ ممبرتحصیل کونسل جمال الدین ہے اوراگر آپ کے پاس محمد علی مجاہد اور سرفراز شاہ کے پاکستان دشمنی اور بھارت کے ساتھ مل کر ملک کے خلاف سازشوں میں ملوث ہونے کے ثبوت ہے تو ان ثبوتوں کو لے کر عدلیہ کا دروازہ کیوں نہیں کھٹکھٹاتے ، اور ان کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6کے تحت غداری کا مقدمہ درج کر کے کیفر کردار تک کیوں نہیں پہنچاتے ؟

ایسا لگتا ہے کہ ہمارے محترم لکھاریوں کے پاس ماسوائے بغیر ثبوت الزامات لگانے کے اور کوئی دلیل نہیں اور جس معاشرے میں دلیل کی موت واقع ہوجائے وہاں جذبات سربازار بکتے ہیں جس کا مظاہرہ آئے روز کے بے بنیاد الزامات کی صورت میں ہم دیکھ رہے ہیں۔ سنا ہے کہ شندور کی ملکیت سے متعلق کیس عدالت میں زیر سماعت ہے ایسے حالات میں کتابین لکھنے اورمیڈیا میں بیٹھ کر بیان بازی سے نہ توغذر کی جیت ہوگی اور نہ ہی چترال( لاسپور) کی۔ ہاں البتہ بعض طبقات خود ہی مظلوم ، خود ہی مدعی ، خود ہی وکیل صفائی اور خود جج بن کر میڈیا کے ذریعے فیصلہ سنانے میں مصروف ہے۔ جس کا نتیجہ ماسوائے غذر اور چترال کے عوام کے درمیان پھیلنے والی نفرتوں کے علاوہ کچھ نہیں نکلنا۔ ایک صحت مندسماج میں دانشوروں کا کام بے بنیاد الزامات کا انبار لگانا نہیں بلکہ حقائق کو سامنے رکھ کر تجزیہ کرنا ہوتاہے ۔جبکہ اپنے ہاں مخالفین کو لادین اور ملک دشمن قرار دے کر جھوٹی تہمت لگانا ہی دانشوری کا معراج تصور کیاجاتاہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author