مسلمان نام کے سب ہیں مگر کوئی نہ مومن ہے۔۔۔۔۔

مسلمان نام کے سب ہیں مگر کوئی نہ مومن ہے۔۔۔۔۔

9 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

کل تک لوگ خوشحالی چھپائے پھرتے تھے، تاکہ جو خوشحال نہیں، انہیں احساس محرومی نہ ہو اور آج جس کے پاس جو کچھ ہے وہ اسے ماتھے پر سجائے پھرتا ہے۔۔۔۔۔ اور اس کا ٹارگٹ ہی اپنے ار گرد ہر کسی کو احساس محرومی میں مبتلا دیکھ کر مزہ لینا ہے۔۔۔۔۔۔

کل تک لوگ دو وقت کی روٹی پر اللہ کا شکر ادا کرتے تھے، سکون سے سوتے تھے اور آج بعض لوگ دس نسلوں تک کا بندوبست کرنے کے باوجود بھی سکون سے سو سکتے ہیں اور نہ ہی سکون سے مرسکتے ہیں۔۔۔۔

کل تک اچھے خاصے لوگ مسواک کیا کرتے تھے اور آج ٹوتھ پیسٹ کی اتنی ورائٹی ہے کہ اچھا بھلا آدمی دکان پر کنفیوز ہوجاتا ہے۔۔۔۔

کل تک کی بات ہے، ’’بچہ‘‘ پورے محلے کا بچہ ہوتا تھا اور آج وہ اپنے ماں باپ کا کہنا بھی ماننے سے انکاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

کل تک اردو پر فارسی کی چھاپ تھی، اب اسے انگریزی کے ساتھ کراس (Cross)کردیا گیا ہے۔۔۔۔۔

ان چند اقتباسات کے بعد اصل موضوع پر بات کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔

2ہفتے قبل لکھے گئے کالم میں صوبائی حکومت کی ڈیڑھ سالہ کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’’موجودہ صوبائی حکومت نے گلگت شہر کی سڑکوں کی مرمت کیلئے کام کا آغاز کردیا ہے اور15دنوں بعد گلگت کی سڑکوں پر گاڑی چلاتے ہوئے تبدیلی محسوس کریں گے۔۔۔۔۔۔”

میں اپنے قارئین سے دو وجوہات کی بناء پر معذرت چاہتا ہوں اور لکھے گئے الفاظ واپس لیتا ہوں، اولاً یہ کہ شہر کی 70فیصد سڑکوں کی مرمت کا کام ادھورا ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ 30فیصد کے قریب کام جو مکمل ہوچکا ہے اس کی کوالٹی بھی ٹھیک واجبی سی ہے۔۔۔۔۔

مجھے اچھی طرح یادہے کہ چند ماہ قبل وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کے ساتھ ملاقات کے دوران گلگت شہر کی سڑکوں کی مرمت کے حوالے سے بات چیت ہوئی تو وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے بڑے پراعتماد لہجے میں کہا تھا کہ 14اگست تک گلگت شہر کی تمام سڑکوں جس میں کئی رابطہ سڑکیں بھی شامل ہیں کو ضروری مرمت کے بعد اس قابل بنایا جائے گا کہ لوگ تبدیلی محسوس کریں گے۔۔۔۔۔۔۔۔

وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے14اگست تک مرمت کا کام مکمل ہونے کی بات زبانی جمع خرچ کے طور پر نہیں کی ہوگی بلکہ محکمہ تعمیرات عامہ کے اعلیٰ حکام کی بریفنگز کے بعد میڈیا کو اس بات سے آگاہ کرنامناسب سمجھا ہوگا۔۔۔۔۔۔

مجھے اس بات پر حیرت بھی ہے اور مایوسی بھی کہ جو محکمہ پیج ورکنگ یعنی تعمیر شدہ پکی سڑک پر بنے کھڈے ٹھیک کرنے کیلئے4ماہ سے بھی زیادہ کا وقت لے اور اس کام کو مکمل کرنے کا اعلان وزیر اعلیٰ کو کرنا پڑے اور اعلان کردہ تاریخ پر کام مکمل نہ ہونے کی وجہ سے صوبے کے سب سے زیادہ بااختیار شخصیت کی سبکی ہو اور اس محکمے کا کوئی بھی ذمہ دار آفیسر شرمندگی تک محسوس نہ کرے تو اسے کیا نام دیا جائے۔۔۔۔۔۔۔

بے حسی کہا جائے، غفلت اور لاپرواہی کا نام دیا جائے، یادیدہ دلیری سے تشبیہ دی جائے۔۔۔۔

محکمہ تعمیرات عامہ گلگت بلتستان میں کرپشن کی علامت بن چکی ہے ۔۔۔۔۔ اس ادارے کی زبوں حالی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ محکمے کے اندر کام کرنے والے کرپٹ مافیا نے ٹھیکوں کی تقسیم اور کاغذی منصوبوں پر ادائیگیوں کے ذریعے کمیشن کی وصولیوں سے کروڑوں کی جائیدادیں بنالی ہیں اور کرپشن کے ذریعے حرام کی کمائی اس کرپٹ مافیا کا اصل ہتھیار ہے اور اگر کسی مرحلے پر ان کی من پسند سٹیشن سے پوسٹنگ کی جائے تو یہی حرام کی کمائی کام آتی ہے اور یہ لوگ مزے سے 10روپے خرچ کرکے100روپے کمانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔۔۔۔۔۔

گلگت بلتستان کے عوام وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سے پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ گلگت بلتستان کی بیوروکریسی اس قدر اہل، دیانت دار اور ایماندار ہے کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران کسی ایک چوکیدار کو بھی سزاء نہیں ملی۔۔۔۔۔۔

ہوسکتا ہے کہ یہاں کی بیوروکریسی میں وہ تمام صفات موجود ہوں گی جن کا ذکر اوپر کیا جاچکا ہے تو پھر وزیر اعلیٰ اس بات کی بھی وضاحت کریں کہ وہ میڈیا کے ذریعے گلگت کے عوام کو خوشخبری دیتے ہیں کہ نلتر14میگاواٹ پاور پروجیکٹ مارچ تک مکمل ہوجائے گا، جس کے بعد جون اور ستمبر کی تاریخیں دی جاتی ہیں، وعدے اور اعلان پر عملدرآمد کی نوبت نہیں آتی۔۔۔۔۔۔

گلگت بلتستان میں سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے حوالے سے بھی کئے جانے والے اعلانات اور دعوؤں پر بھی عملدرآمد کی نوبت نہیں آئی۔۔۔۔۔اس تمام تر صورتحال کا کوئی تو ذمہ دار ہوگا۔۔۔۔۔۔۔

وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کو اس بات کا نوٹس لیا جانا چاہئے کہ ان کے اعلانات جو میڈیا کے ذریعے گلگت بلتستان کے کونے کونے تک پہنچ جاتے ہیں پر عملدرآمد میں رکاوٹ بننے والے عناصر کے عزائم کیاہیں۔۔۔

جمشید خان دکھی کے ان اشعار کے ساتھ اجازت۔۔۔۔۔

ہمیں جس نے جگانا ہے، ابھی وہ شخص کمسن ہے

وہی ہے قوم کا رہبر وہی ہم سب کا محسن ہے

مسلمانوں کا تو کردار اب بگڑا ہے اس حد تک

نہیں ہے آس رحمت کی غضب آئے یہ ممکن ہے

نمازیں لوگ پڑھتے ہیں، عبادت تو نہیں کرتے

مسلمان نام کے سب ہیں مگر کوئی نہ مومن ہے

اسی دفتر سے افسر کی کسی دن لاش جائے گی

خوشی سے آج کل سروس سے ہوتا کون پینشن ہے

گیا وہ وقت جس ساغر میں اے میرے دکھی لوگو

وفا کے جام ہوتے تھے، تعصب کا ابھی جن ہے

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔