حوض کے مینڈک کی کُل کائنات

حوض کے مینڈک کی کُل کائنات

40 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: شمس الحق قمر ؔ
بونی ، حال گلگت

دوسری دفعہ سرتوڑ کوشش کے بعد میٹرک کا امتحان غیر یقینی طور پر سیکنڈ دویژن میں پاس کیا یہ ۱۹۸۵ ء کا سن تھا۔ عربی کے پرچے میں زیر زبر کی بوچھاڑ کر دی تھی شاید اُسی وجہ سے سو نمبروں میں سے ننانوے نمبر لئے تھے اور انہی زیر زبروں کی وجہ سے میں نے سیکنڈ دویژن میں امتحان پاس کر چکا تھا ورنہ وہی موروثی نمبر ہی مل جاتے جو قاعدہ سے لیکر نویں جماعت تک مقدر بنے تھے ۔ میٹرک کے بعد کراچی جانے کا بھوت سر پر سوار تھا کیوں کہ ہمارے ایک سنئیر محترم عزیز نواز لال میٹرک کے بعد اعلی ٰ تعلیم کے لئے کراچی گئے تھے اور جب دوسرے سال واپس آئے تو انگریزی بولنے لگا تھا ۔ انہوں نے ایک مرتبہ مجھ سے انگریزی میں باتیں کرتے ہوئے کہا تھا ( Some thing is better than nothing ) اس جملے کا مجھے مطلق ادراک نہ ہوا کہ اس کا مطلب کیا تھا ۔کیا لوچدار زبان تھی ، مجھے انگریزی سیکھنے کا جنون سا ہو گیا تھا ۔لیکن والدین نے صاف صاف منع کیا ان نامساعد حالات میں کراچی جانا ہر گز عقلمندی نہیں۔ کیوں کہ میرے والد صاحب کی تنخواہ یہی کوئی پانچ سو روپے تھی اور اوپر سے ہم آٹھ بہن بھائی تھے اور والد صاحب کے لئے میرے کراچی جانے کا خیال قابل قبول نہیں تھا کیوں کہ ہم سب ایک ساتھ کارزار تعلیم میں کود پڑے تھے لہذا مجھے مجبوراً چترال جاکر تعلیم حاصل کرنا پڑی۔ اُس وقت چترال کا سفرجوئے شیر لانے سے کسی قدر کم نہ تھا ۔صبح کے دو بجے جاگنا پڑتا اور تین بجے بونی کی پہلی گاڑی نکلتی جو( مرحوم) نوروز استاد کی ہوتی اُس کے بعد علی آمان بیگ اور پھر پانچ استاد ، مُت استاد اور بیان استاد وغیرہ یکے بعد دیگرے رخت سفر باندھ لیتے ۔ سفر سے ایک دنقبل گاڑی کی سیٹ لینی پڑتی تھی ورنہ گاڑی کے پیچھے لٹکتے لٹکتے پانچ گھنٹے کا سفرہلکان کر دیتا تھا۔۔ چترال شہر جانا اور کامرس کالج میں داخلہ لیکر کالیجیٹ کہلایا جانا ، لمبے بال چھوڑ نا اور سر کے بیچوں بیچ مانگ نکال کے خواتین کی وضع میں بالوں کو دونوں طرف برابر برابر تقسیم کرکے خوب اچھی طرح کنگھی کرنا ، آنکھوں کی خرابی کا بہانہ بنا کر سفید شیشیوں کی عینک بنانا اور پھر گاؤں آکر سکول جانے والے لڑکوں کو اپنے دل لُبھانے والے فشن سے متاثر کرنے کا خیال میرے لئے اُتنی ہی سعادت مندی کی بات تھی جتنی کہ ایک راسخ العقیدہ مسلمان کے لئے حج کا سفر ۔ پوری رات میرے دماغ میں گھمبیر خیالات کے پُرپیچ جال کے تمام تار ایک دوسرے سے الجھتے رہے ۔ میں اپنے درخشاں مستقبل کے لئے منصوبے بناتا رہا ۔ میرے مستقبل کی منصوبہ بندی میں آزادی سے سیگریٹ پینا، یار دوست بنانا ، چترال بازار میں گھومنا اور موٹر سائیکل کی ڈرائیونگ میں مہارت حاصل کرنا جیسے شاندار منصوبے شامل تھے ۔ رات کو مجھے بالکل نیند نہیں آئی ۔

مجھے کامرس کالج چترال میں داخلہ لیکر بڑا آدمی بننا تھا وہ بھی بغیر کسی محنت کے ( اُسی سال جب بونی میں انٹر کالج کا قیام عمل میں آیا تو میں کامرس کالج چھوڑ کے واپس بونی آیا ) کالج اور ہاسٹل میں داخلہ ، سفری اخراجات وغیرہ کل ملا کے ایک ہزار سے اوپر نہیں تھا ۔ اخراجات کی تفصیلات سے میرے دوست شیر عالم نے مجھے قبل از وقت آگاہی دلائی تھی کیوں وہ اُس زمانے میں کامرس کالج چترال میں زیر تعلیم تھے اور میں اُن سے متاثر تھا ۔ اِدھر قسمت کی یاوری یہ تھی کہغربت و افلاس کے ستائے ہوئے نو جواں کے لئے پندرہ سو روپے کا خاطر خواہ انتظام بھی دیکھتے ہی دیکھتے کیا گیا تھا ۔ مجھے خوب یاد ہے کہ تمام کنبے نے ساجھا ملا کے ایک ہزار روپے کا بندوبست کیا تھا جن میں سے پانچ سو روپے میرے چچا امیر افضل خان نے دیے تھے جو اُس وقت حبیب بنک میں ملازم تھے ۔ لیکن میرے چچا صابر ولی تاج نے تو کمال ہی کر دیا ،آپ جناب محکمہ وائلڈ لائف میں واچر ہوا کرتے تھے کل تنخواہ یہی کوئی تین سو پچاس کے قریب تھی ۔ جب میں داخلے کے لئے جا رہا تھا تو آپ کی تمام جمع پونجی کل ملا کے پانچ سو روپے تھی ، انہوں نے اپنی بچت کی تمام رقم میرے حوالے کردی اپنی کمال کی دریا دلی پر خود اُن کے اپنے رونگٹے بھی خوب کھڑے ہوگئے تھے۔ اسی طرح میرے پاس پندرہ سو روپے بنے اور جیب میں بڑی رقم آگئی ۔ ہاسٹل وغیرہ کے اخراجات کے علاوہ صرف کالج میں داخلے کا خرچہ کل ملا کے تین سو روپے تھا ، دو سو یا تین سو روپے میں میرے باقی اخراجات پورے ہوتے ۔ یوں میرے پاس بہت بڑی رقم بچ سکتی تھی۔ ادھر میرے پاس ابھی پندرہ سو روپے کی بڑی رقم جمع ہوئی تھی ۔ اُ س وقت کا سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ سفر پر جاتے ہوئے اس رقم کی نگہداشت کیسے کی جائے ؟ چنانچہ میرے دادا جان ( مرحوم بلبل تاج المعروف میتار باک بابا) نے تدبیر یہ کی کہ میرے لئے قمیض کے نیچے پہنے کے لئے پوشاک کاخاطر خواہ انتظام کے طور پر ایک جیکٹ( سوتی کپڑے کا ہلکا سا جیکیٹ جس کے کئی ایک خفیہ خانے تھے ) بنوایا ۔ یہ جیکٹ آجکل خودکُش بھائی اپنے آپ کو اسلام کے نام پر چیر پھاڑ نے کے لئے استعال کرتے ہیں ۔ اُس وقت چونکہ خود کش دہشت گردوں کا رواج نہیں تھا ورنہ میں پولیس کے ہاتھ چلا جاتا ۔ بہر حال میرے دادا نے اُن پیسوں میں سے راستے کاخرچہ الگ کرواکے باقی رقم تقسیم کر کے اُس جیکیٹ کے مختلف خفیہ خانوں میں ڈال کر اُوپر سے خوب اچھی طرح سے سلائی کروادی ۔۔ اُسی شام دادا جان نے چوری ، ڈکیتی ، جیب کتروں اور لُٹیروں کی چال چلن اور اُن سے اپنی حفاظت کے طریقوں اور اصولوں پر ایک سیر حاصل اور مدلل گفتگو بھی فرمائی ۔ مجھے یاد ہے دادا جان نے یہ بھی فرمایا تھا کہ قمیض کے نیچے پہنے ہوئے جیکیٹ کی جیبوں کو شلوار کے نیفے میں نیچے ٹھونس کر ناڑے کو اُس کے اوپر مضبوطی سے باندھا جائے ۔ اور خاص کر رفع حاجت کے بعد آرام و سکون ، اطمینان اورخوب تسلی سے ناڑہ کس دیا جائے ۔ اس امر کو بھی یقینی بنا دیا جائے کہ جیکیٹ کی پیسے والی جیبیں شلوار کے نیفے کے اندر دھنس گئی ہوں۔ دادا نے ناڑے کی خصوصیات پر اظہار خیال کرتے ہوئے پیسوں کی حفاظت کے علاوہ دبے الفاط میں ناڑہ مظبوطی سے باندھنے کے کئی ایک فوائد بھی بتائے اور ناڑہ خوب اچھی طرح سے باندھنے کے دو مشکل گِرہ بھی سکھائے( کنو لین دیک) جن کا التزام چترال شہر کی طرف سفر کرتے ہوئے ہر کم عمر لڑکے کے لئے بہت ضروری تھا۔ مجھے یہ جیکٹ رات سونے سے پہلے پہنایا گیا ۔ یہ رات میری زندگی کی خوبصورت ترین راتوں میں سے ایک تھی کیوں کہ میرے پاس بہت سارا پیسہ آگیا تھا ، میں دھن دولت کا بلا شرکتِ غیر مالک تھا اور میں اپنی دولت کو اپنی مرضی سے خرچ کرنے پر قادر تھا ۔ آج کی رات پرُکیف لمحات کی رات تھی جو کہ لیلتہ القدر کو چھوڑ کر باقی تمام راتوں سے سہانی رات تھی ۔ ابھی میں سفر کی رنگینی اور لطافتوں پر سوچ ہی رہا تھا کہ صبح کے دو بج گئے ۔ میری دادی اماں ، میری والدہ ، والد صاحب اور گھر کے تمام افراد میری رخصتی کو شاندار بنانے کے لئے اُٹھ کے آ گیے ۔ میں نے ناشتہ کیا ۔ دادا قرآن شریف سر پر رکھ کے دروازے میں کھڑے ہوگئے اور میں بسمہ اللہپڑھ کر قرآنپر طواف کرتے ہوئے بازار کی طرف چل نکلا پیچھے مڑ کر دیکھا تو لالٹٰن کی ہلکی لو میں دادی اور امی جان بلائیں لیتی نظر آئیں، میں روانہ ہوا ۔ میں نے مُت استاد کے ساتھ سیٹ کا معاملہ طے کیا ہوا تھا ۔ صبح جب گاڑی تک پہنچا تو اگلی ( فرنٹ سیٹ ) میں کوئی بزرگ پہلے سے براجماں تھے ۔ گاڑی مسافروں سے بھر ہوئی تھی ۔ مجھے گاڑی کے عقبی اشارہ بتیوں کے اوپر ایک حفاظتی پٹی پر ایک پاؤں کے لئے بمشکل جگہ مل گئی ،میں ایک پاؤں اٹھا کے دوسرے پاؤں پر استادہ ہو گیا اور ہماری گاڑی فرسٹ گئر میں غُراتی ہوئی روانہ ہو گئی۔ ہمارے زمانے کی گاڑیاں آج کی طرح آرام دہ نہیں ہوا کرتی تھیں ۔ اُن کے نیچے بھاری بھاری کمانیاں لگی ہوتیں پھراُن گاڑیوں میں بالائی چترال سے پائین چترال کا سفر بہت اذئیت ناک ہوا کرتا تھا ۔ جو گاڑیاں بونی سے سواری لے جاتی تھیں وہی گاڑیاں پائیں چترال سے دکانوں کے لئے مال اسباب کے علاوہ دوسرے بہت ساری اشیائے خرد و نوش لاد کر لایا کرتیں۔ یہی وجہ تھی کہ ان گاڑیوں میں بھاری کمانیاں لگی ہوئی ہوتیں ۔ جس گاڑی میں ہم سوار تھے اُس کی مثالکچھ اس طرح سے ہے کہ جیسے آپ ٹریکٹر کی ٹرالی میں بیٹھے ہوں اور نا ہموار اور سنگلاخ چٹانی سطح زمین کے اوپر سے مہم جوئی کر رہے ہوں۔ جھٹکے اتنے شدید ہوتے تھے کہ پیچھے بیٹھے ہوئے مسافر ہر جھٹکے میں بڑی آسانی کے ساتھ ایک دوسر کی گود میں چلے جاتے تھے۔ میں ٹھند میں ٹھٹرے ہوئے مرغے کی طرح پندرہ منٹ تک ایک ٹانگ اور دوسرے پندرہ منٹ تک دوسری ٹانگ اشارہ بتی کے اوپری پٹی پر رکھتا اور سفر جاری رہتا ۔ گاڑی کے ہچکولوں سے جہاں مسافر بلاوجہ زور سے ایک دوسرے سے ٹکرا کر ایک دوسرے کی طرف عتابی نظروں سے دیکھتے ، ماتھوں اور چہروں پر درد کی وجہ سے شکستہ شکنیں بناتے، ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہوئے دا نت پیستے اور اپنے آپ کو دوسرے کے چنگل سے نکال کر خاموش ہو کے بیٹھ جاتے وہاں نحیف ہاضمے والے مسافر ایک دوسرے کو اُلٹیوں کی سوغات بھی بہم پہنچاتے رہتے ۔ اُلٹیوں کی کھٹی اور محبوس بو، دوسرے مسافروں کی اُلٹیوں کا بھی سبب بتنی اور یوں چترال پہنچے پہنچتے الٹیوں کے غلیظ داغ دھبوں سے ہماری گاڑی کا ناک نقشہ یکسر بدل چکا تھا ۔

دفعتاً گاڑی کے بھونچال میں صحت بخش سکون کا احساس ہوا جیسے ہم نے پانی کے اوپر سے تیرنا شروع کیا ہو ۔ یہ چترال کی پکی سڑک تھی جو چیو پل سے شروع ہوتی تھی ۔

کیچڑ سے لبالب بھرے ایک اڈھے میں جاکے ہماری گاڑی رکی ( بعد میں معلوم پڑا کہ اُس جگہے کا نام سرحد اڈہ تھا ) ہماری گاڑی کے مسافر ایک دوسرے کو دھکے دیتے ہوئے گاڑی سے جلدی جلدی نکلنے لگے ۔ اب میں گھر کی قید و بند اور والدین کے چنگل سے مکمل طور پر گلو خلاصی حاصل کر چکا تھا ۔ میں گاڑی سے جیسے ہی اُترا تو مجھے شہر کی آب و ہوا دیکھ کر ایسا لگا جیسے میں دنیا کے ایکعلیٰ درجے کے صحت افز�أ مقام میں ہوں ۔ گاڑیوں کا شور شرابہ ، دکانوں کی ایک لمبی سی قطار ، یہاں تک کہ دن کے اُجالے میں بھی بجلی کے چمکتے ہوئے بلب اور قمقمے ، دکانوں میں رنگین ٹیلی وژن۔ دل کو ایک خاص آسودگی ہوئی جس کی تشریح مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن تھی۔ ایسی صورت حال میں انسان خود کلامی کا سہارا لیتا ہے چنانچہ میں اپنے آپ سے خود کلام ہو’’زندگیکتنی حسین ہوتی ہے ۔ہم جو سرحدی علاقوں میں بستے ہیں ہماری مثال کسی حوض کے اندر بند ایک ایسے مینڈک کیہے جو اُسی خول کو اپنی کل کائنات سمجھ کے زندگی گزارتا ہے۔ باہر کی دنیا کتنی وسیع ، شاندار اور خوبصورت ہے ۔۔۔۔۔۔‘‘

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author