جنگلات کی بے دریغ کٹائی سے علاقے مٰں قدرتی آفات میں اضافے کا خدشہ ہے، درکوت یوتھ یاسین

گلگت(پ ر)درکوت یوتھ یاسین کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے ضلع غذر کے علاقہ یاسین کے گاوں درکوت میں قدرتی جنگلات کی بے دریغ کٹائی سے علاقے کی خوبصورتی متاثر اور قدرتی آفات میں اضافے کا خدشے میں اضافہ ہوا ہے ،محکمہ جنگلات غذر خاموش تماشائی بن بیٹھی ہے ۔بدھ کے روزدرکوت یوتھ کے چیئر مین شیر گلاب ،جمشید ،چنگیز خان ،امجد ،فرمان علی سجاد ،عمران و دیگر نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ وادی درکوت خوبصورتی کے لحاظ سے نہ صرف غذر بلکہ پوری گلگت بلتستان میں مشہور ہے اور اس کی خوبصوری کی اہم وجہ قدرتی جنگلات ہیں۔انہوں نے کہا کہ محکمہ جنگلات کی نااہلی اور قدرتی جنگلاتی کی بے دریغ کٹاو کی وجہ سے یہ خوبصورتی دن بہ دن کم ہوتی جارہی ہے اور اس کٹاو کی وجہ سے قدرتی آفات میں اضافہ بھی ہوتا جارہاہے ۔انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات میں اضافے کی وجہ سے کہیں لوگ اس علاقے کو خیر باد کرکے گلگت یا گاہکوچ میں رہائش پزیر ہوچکے ہیں اور مزید کہیں گھرانے اس گاوں کو چھوڑنے پر مجبور ہورہے ہیں۔درکوت یوتھ چیئر مین و دیگر نے کہا کہ ایک زمانے میں درکوت کو سیاحوں کا گھر کہا جاتا رتھا ،اب جنگلات کی کٹاو کی وجہ سے سیاحتی شعبہ بھی شدید متاثر ہوچکا ہے ۔محکمہ جنگلات کے اعلیٰ حکام جب بھی اس علاقے کا دورہ کرتے ہیں تووہ پیسے بٹور کر جنگلات کی کٹائی کا اجازت دے کر چلے جاتے ہیں جو اس علاقے کے عوام کے ساتھ ظلم کرنے کے مترادف ہے ۔انہوں نے گورنر گلگت بلتستان میر غضنفرعلی خان، وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حفیظ الرحمن اور وزیر جنگلات گلگت بلتستان حاجی جانباز خان سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بے دریغ اور غیر قانونی طور پر درکوت میں جنگلات کی کٹاو روکا جائے کیوں کہ اس علاقے کا قدرتی حسن اور قدرتی آفات سے بچا جاسکیں ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments