نیا تکون سلامت رہے 

نیا تکون سلامت رہے 

12 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

10اکتوبر کو پاکستان اور روس کی مشترکہ فوجی مشقیں اختتا م پذیر ہونگی یہ مشقیں 24ستمبر کو شروع ہوئی تھیں اخبارات میں پاکستانی افسروں کی طرف سے روسی فوجی حکام کے استقبال کی تصویریں تواتر کے ساتھ آتی رہیں یہ مشقیں گلگت بلتستان ،چراٹ اور ڈی آئی خان میں کی گیءں ان مشقوں میں 200روسیوں نے حصہ لیا پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان اور روس کی فوجوں کو مشترکہ فوجی مشقوں کے ذریعے ایک دوسرے کے قریب لایا گیا ٰخطے میں پاکستان اور چین کی دوستی میں روس کو شامل کرنے کے بعد ایک نیا تکون وجود میںآیا ہے پاکستان کی سلامتی کے ساتھ دلچسپی رکھنے والے محب وطن حلقوں کو اس بات پر بحد مسرت ہوئی ہے کہ نئے تکون امریکہ ،برطانیہ ،سعودی عرب اور دیگر ملکوں کو پیچھے دھکیل دیا ہے جن کے ساتھ تعلقات کی گرم جوشی میں ماضی میں پاکستان کے لئے بے سود ثابت ہوئی 1978 ؁ء سے شروع ہونے والی افغان خانہ جنگی میں ان ملکوں نے پاکستان فرنٹ لائن سٹیٹ بنا کر ناقابل تلافی نقصان پہنچایا افغان خانہ جنگی کے منفی اثرات اب تک ہمارا پیچھا کر رہے ہیں اب پاکستان کے عوام دعا کرتے ہیں کہ خدا کرے نیا تکون سلامت رہے اور سدا سلامت رہے پاکستان کی خارجہ پالیسی اور دفاعی حکمت کو بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کی وفات کے بعد 1949 ؁ء میں غلط رُخ دلایا گیا اس کے بعد 1972 ؁ ء پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیر مین ذولفقار علی بھٹو نے سابق سویت یونین کے سا تھ تعلقات استوار کرنے کوشش کی مگر اس کو کامیابی نہیں ہوئی امریکہ ڈیموکریٹک پارٹی نے ان کو نہ صرف اقتدار سے الگ کیا بلکہ ان کی زندگی کا خاتمہ کر دیا سابق صدر جمی کارٹرنے اس پر فخر کیا کہ اس نے بھٹو کو راستے سے ہٹا کر افغان خانہ جنگی کا راستہ ہموار کیا تھا قدرت اللہ شہاب نے اپنی یا دداشتوں میں لکھا ہے کہ 1960 ؁عشرے میں اسلام اباد کے شاہراہوں پر سویت یونین کی مصنوعات کے اشتہار ات اور بل بورڈ دیکھ کر امریکی سفارت کار سیخ پا ہوئے تھے اور کھلے عام مطالبہ کرتے تھے کہ ان کو ہٹا دو اسلام اباد کی شاہراہ پر سویت یونین کی کسی کمپنی کا نام نظر نہیں آنا چاہئے اُس زمانے کو سفارتی زبان میں سرد جنگ کا زمانہ کہا جاتا ہے اس دور میں سویت یونین کے خلاف بے سروپا پرو پیگنڈ ا جاری رہا تقریروں اور تحریروں میں دوست کو دشمن اور دشمن کو دوست بنا کر پیش کیا گیا یہ ویت نام کی جنگ کا دور تھا ویت نام میں امریکہ کو عبر ت نا ک شکست ہوئی اور سویت یونین جیت گیا کیوبا میں امریکہ کو شکست ہوئی سویت یونین جیت گیا اس کا بدلہ امریکہ نے افغانستان سے لے لیا یہاں سعودی عرب اور پاکستان کی مدد سے امریکہ نے جنگ جیت کر اپنے فوجی اڈے قائم کرلئے جواب میں سعودی عرب اورپاکستان پر دہشت گردی کا الزام لگایا اور پاکستان کی خارجہ پالیسی اور دفاعی حکمت عملی یہاں ناکام ہوگئی اور ناکامی صاف نظر آگئی دہشت گردی کو موجودہ جنگ اس ناکام پالیسی کا نتیجہ ہے جس میں پاکستان کو بھارت کے خلاف 4بڑی جنگوں سے بھی زیادہ نقصان ہوا اور جنگ اب بھی جاری ہے مزید نقصانات کا امکان اپنی جگہ ہے سیانے کہتے ہیں ’’دیر آید درست آید‘‘دیر سے سہی ہماری خارجہ اور دفاعی پالیسی کو درست رُخ ملا ہے چین پاکستان اور روس کی مشترکہ خارجہ اور دفاعی حکمت عملی کا ایک اہم تقاضا اور بھی ہے تقاضا یہ ہے کہ ہمارے عسکری حکام ،سول بیوروکریسی اور یونیورسٹیوں کے اساتذہ کے لئے تربیتی پروگراموں ،پی ایچ ڈی پروگراموں اور نوجوانوں کے لئے مطالعاتی دوروں کا سارا نظام امریکہ اور بر طانیہ سے شفٹ کر کے چین ،روس ،ترکی ،ایران اور انڈونیشیا کی طرف منتقل کیا جائے جاپان اور جنوبی کوریا کو پسندیدہ ملکوں کی صف میں ڈال دیا جائے یہ امر اس کے لئے ضروری ہے کہ امریکہ اور برطانیہ میں تربیت پانے والے افسراور اعلی تعلیم پانے والے سکالر واپس آکر پاکستانی قوم کو غلام سمجھتے ہیں اور قوم کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں جیسا سلو ک آقا اپنے غلاموں کے ساتھ کرتا ہے ان کا کلچر اور تربیتی نظام اس نوعیت کا ہے ان کے مقابلے میں چین اور روس جیسے ممالک کا تعلیمی اور تربیتی نظام آزادقوموں کے لئے تربیت دیا گیا ہے اس سسٹم سے تربیت پاکر واپس آنے والا سچا پاکستانی بن کر آتا ہے اوروہ ملک کا مفید شہری بن جاتا ہے اگلے 10سالوں میں اگر پاکستان نے اپنے تمام تربیتی اور تعلیمی پروگراموں کے لئے امریکہ ،برطانیہ کے ساتھ پرانے معاہدے ختم کر کے چین اور روس کی یونیورسٹیوں کے ساتھ نئے معاہدے کئے تو ہمارا سماجی ڈھانچہ ،عسکری ڈھانچہ اور سول بیوروکریسی کا پورا سسٹم ایک آزاد اور خود مختارپاکستان کو سپورٹ کرنے کے قابل ہو جائے گا پاک روس مشترکہ فوجی مشقوں کو دوستی 2016کا نام دیا جائے روسی حکام نے اگلے سال پھر ایسے مشقوں کا عندیہ دیا ہے یہ سلسلہ جاری رہا تو پاکستان موجودہ مسائل کے دلدل سے باہر آئے گا اورحقیقی معنو ں میں آزادی اور خود مختاری کے ثمرات سے فائدہ اُٹھائے گا امریکہ کی مثال سانپ جیسی ہے سانپ جس درخت سے لپٹ جاتا ہے اُس درخت کی جڑوں کو خشک کر لیتاہے اور درخت کو گرائے بغیر اپنے پنجے نہیں چھوڑتا ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔