پاکستان کا جنت نظیر خطہ گلگت بلتستان

 تحریر:۔دردانہ شیر

پاکستان کے شمالی علاقے جو اپنی خوبصورتی کی وجہ سے پورے ملک میں منفرد مقام رکھتے ہیں گرمیوں کے موسم میں لاکھوں کی تعداد میں سیاح گلگت بلتستان ،چترال اور کاغان جیسے خوبصورت وادیوں کا رخ کرتے ہیں پچھلے سال گلگت بلتستان میں پچیس لاکھ سے زائد سیاح آے اور اس سال چالیس لاکھ سے زائد سیاح گلگت بلتستان آنے کی توقع ہے ہر سال سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے موسم گرما کی آمد کے ساتھ ہی ملک کے کونے کونے سے ہزاروں کی تعداد میں سیاح گلگت بلتستان کا رخ شروع کرتے ہیں اور یہاں کی پرُ فضا مقامات پر ڈیرے ڈال دیتے ہیں یہاں آنے والے سیاحوں کو اگر کوئی شکایت ہے تو وہ گلگت بلتستان کی خستہ حال سڑکیں ہیں جن پر سفر کے دوران ان سیاحوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرناپڑ رہا ہے حالانکہ گلگت بلتستان میں جب مسلم لیگ (ن) کی صوبائی حکومت برسر اقتدار آئی تو گلگت بلتستان کے عوام بھی یہ توقع لگا بیٹھے تھے کہ ملک کے دیگر صوبوں کی طرح گلگت بلتستان میں بھی شاہراہوں کا جال بچھایا جائیگا گلگت بلتستان میں مسلم لیگ کی صوبائی حکومت کے چار سال پورے ہونے کو ہے مگر دیکھا جائے تو گلگت بلتستان میں ابھی تک سوائے گلگت سکردو اوراستورروڈکے کسی اورشاہراہ کی تعمیر کا کام کا آغاز نہیں ہوا جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسلم لیگ گلگت بلتستان کی حکومت نے بھی صرف خطے کے عوام کو سبز باغ دیکھائے اور عملی طور پر کوئی ایسا اقدام نہیں اٹھایا جس کی تعریف کی جائے اس وقت دو اہم شاہراہوں کی تعمیر وقت ضرورت بن گئی ہے اگر ان شاہراہوں کی تعمیر ہوجائے تو گلگت بلتستان کا یہ خطہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتا ہے جن میں اہم شاہراہ گلگت چترال روڈ کی تعمیر ہے اگر یہ سڑک بن گئی تو یہ سڑک شاہراہ قراقرم کی متبادل ہوسکتی ہے اگر کوئی سیاح اسلام آباد سے گلگت اور وہاں سے چترال کے راستے اسلام آباد پہنچ سکتا ہے اس روڈ کی تعمیر کی بات ہر حکمران نے کی مگر عملی طور پر اس شاہراہ کی تعمیر نہیں ہوئی حالانکہ ہر سال جولائی کے مہینے میں دنیا کے بلند ترین پولو گراونڈ شندور میں سہ روزہ شندور میلے میں شرکت کے لئے لاکھوں کی تعداد میں سیاح غذر اور چترال کے راستے شندور پہنچ جاتے ہیں مگر روڈ کی خستہ حالی کی وجہ یہاں آنے والے سیاح سخت پریشان ہوجاتے ہیں اگر یہ اہم شاہراہ کی تعمیر ہو تو سالانہ لاکھوں کی تعداد میں سیاح ان جنت نظیر خطوں کارخ کرسکتے ہیں دوسرا اہم روڈ شونٹر روڈ جو کہ مظفر آباد آزاد کشمیر سے لنک ہوگا یہ شاہراہ بھی سیاحت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو لنک کرنے کے لئے یہ شاہراہ کی تعمیر بھی بہت ہی اہمیت کی حامل ہے اور اس حوالے سے بھی وقت کے حکمرانوں نے اہم اعلانات کئے مگر عملی طور پر ان شاہراؤں کی تعمیر کا کام شروع نہ ہوسکااب چونکہ ملک میں پی ٹی آئی کی حکومت آئی ہے اور وزیر اعظم پاکستان عمران خان سیاحت کے فروغ کے لئے انقلابی اقدامات اٹھا رہے ہیں ایسے میں اگر وزیر اعظم گلگت بلتستان جیسے جنت نظیر خطے کی طرف بھی توجہ دے تو سیاحت کے فروغ سے ہی ہماراملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتا ہے گلگت بلتستان پاکستان کا وہ خطہ ہے جہاں سال کے چار موسم یہاں آنے والے سیاحوں کو اس خوبصورت وادی میں دعوت نظارہ دیتے ہیں اس سال ونٹر کے موسم میں بھی سیاحوں کی بڑی تعداد نے اس خطے کا رخ کر دیا اور یہاں پر ہونے والی برف باری سے خوب محظوظ ہوئے جبکہ غذر کی مشہور خلتی جھیل جو دسمبر اور جنوری کے مہینے میں مکمل طور پر جم جاتی ہے اس جھیل کو دیکھنے کے لئے ہزاروں کی تعداد میں سیاحوں نے غذر کا رخ کر دیا مگر اس ضلع کا یہ المیہ ہے کہ شہیدوں اور غازیوں کی سرزمین غذر کو بھی وقت کے حکمرانوں نے نظر انداز کیا ہے پرویز مشرف دور حکومت میں گلگت سے چترال تک ٹرک ایبل روڈ کا کام ہو اتھا مگر اس کے بعد کسی بھی حکومت نے اس اہم شاہراہ کی تعمیر پر کوئی توجہ نہیں دی جس باعث اب یہ شاہراہ آثار قدیمہ کا منظر پیش کر رہی ہے دوسری طرف غذر سے کرگل کے ہیرو شہید لالک جان شہید نشان حیدر کے مزار تک روڈ بھی مشرف دور میں بنی تھی مگر اس سڑک کی بھی مناسب دیکھ بال نہ ہونے سے یہ شاہراہ بھی کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہے وزیر اعلی گلگت بلتستان نے ہر وقت یہاں کی شاہراہوں کی تعمیر کے حوالے سے بلند بانگ دعوے کئے مگران کے اعلانات بھی دیوانے کی خواب نظر آتے ہیں وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان نے گلگت غذر روڈ کی تعمیر کے نام پرگاہکوچ کے نواحی گاؤں گورنجر کے قریب پندرہ سو فٹ روڈ کا افتتاع ضرور کیا اس نمونے کے طور پر بنایا گیا 1500 فٹ روڈ کا افتتاع کیا مگر وہ پندرہ سوفٹ سڑک چار سال گزرنے کے باوجود بھی ایک فٹ اگے نہیں بڑہ سکی عوام کا گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت سے اعتماد اٹھ گیا ہے اگر وفاقی حکومت گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن دیکھنا چاہتی ہے تو ہمارے حکمرانوں کو گلگت چترال روڈ اور استورمظفر آباد سڑک کی تعمیر میں خصوصی دلچسپی لینی ہوگی چونکہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات جن میں گلگت بلتستان ،چترال اور ہزارہ ڈویثرن جو سیاحوں کے لئے جنت سے کم نہیں ان علاقوں کی اگر شاہراہوں کو ہی بہتر بنایا جائے تو سالانہ لاکھوں کی تعداد میں سیاح ان خوبصورت وادیوں میں خیمہ زن ہوسکتے ہیں ملک میں جتنے زیادہ سیاح آئینگے اتنا ہی ہمارا ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا وزیر اعظم عمران خان ملک میں سیاحت کے فروغ کے لئے اہم اقدامات اٹھا رہے ہیں اگر انھوں نے شمالی علاقہ جات کی شاہراہوں کی حالت بہتر بنائے تو سالانہ لاکھوں کی تعداد میں ملکی وغیر ملکی سیاح ان علاقوں کا رخ کر سکتے ہیں

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments