ادبی تنظیم کھواراہل قلم کی یوم تاسیس اور تقسیم انعامات کی تقریب، پہلی بار خواتین کو بھی ایوارڈ ز دئیے گئے

چترال(گل حماد فاروقی) کھوار یعنی چترالی زبان کو ترویج دینے کی ادبی تنظیم کھوار اہل قلم کی دوسری یوم تاسیس ٹاؤن ہال چترال میں منائی گئی جس میں چترال کے مرد و خواتین شعراء اور ادباء کو ایوارڈز بھی دئے گئے۔ اس سلسلے میں ایک سادہ مگر پروقار تقریب ٹاؤن ہال میں منعقد کی گئی اس موقع پر چترال کے تحصیل ناظم مولانا محمد الیاس مہمان حصوصی تھے جبکہ تقریب کی صدارت پشاور یونیورسٹی میں شعبہ اردو کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر بادشاہ منیر بخاری کررہے تھے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اقرار الدین حسرو نے کہا کہ کھوار اہل قلم ایک ادبی تنظیم ہے جو کھوار یعنی چترالی زبان کو ترویج اور فروغ دینے کیلئے کام کرتے ہیں اور کھوار زبان کے لکھاری اور شعراء و ادباء کو ایوارڈز، انعامات سے نوازتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر بادشاہ منیر نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ چترال میں ایک مکمل یونیورسٹی کیلئے کوشش کرے یہ دکان نما یونیورسٹی کیمپس ہماری تعلیمی تشنگی کو نہیں بجھاتی۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ جس ضلع میں چند سو گریجویٹ طالب علم ہیں ان کیلئے تین یونیورسٹیاں ہیں مگر جہاں سات ہزار سے زیادہ گریجویٹ ہے ان کیلئے صرف یونیورسٹی کیمپس قائم کیا گیا ہے جو کہ ناکافی ہے۔

دیگر مقررین نے بھی اپنی ثقافت اور ادب کو برقرار رکھنے اور اسے ترویج دینے پر زور دیا ۔ تقریب میں مقابلہ نظم میں کامیاب شرکاء نور الہادی مسرور، محمد آیاز آس، احسان دانش، مقابلہ نثر میں کامیاب شرکاء شمس العارفین، عطا الرحمان عدیم، امیر مالک شاد، فریدہ سلطانہ فری، سمیرا صدف، امین الرحمان چغتائی، محمد عرفان عرفان، مولا نگاہ نگاہ، ناجی خان ناجی، اقبال الدین سحر اور گل مراد حسرت کو ایوارڈز دئے گئے۔

خواتین کو پہلی بار ایوارڈ دینے پر امین الرحمان چغتائی فریدہ سلطانہ اور سمیرا صدف نے نہایت خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹاؤن ہال میں پہلی بار خواتین کو ایوارڈ دینے کیلئے ان کو بلاکر ان کی حوصلہ افزائی کی گئی۔

مہمان حصوصی مولانا محمد الیاس نے کہا کہ قلم کی طاقت تلوار سے زیادہ ہے اور ہمارے شعراء اور ادباء کو چاہئے کہ وہ نوجوان نسل کی رہنمائی اور ان کو بے راہ روی سے روکنے کیلئے قلمی جہاد کرے انہوں نے اس تنظیم کیلئے بیس ہزار روپے کا اعلان کرتے ہوئے یقین دلایا کہ ضلعی حکومت اس ادبی تنظیم کے ساتھ ہر قسم کے تعاون کیلے تیار ہیں۔تقریب میں کثیر تعداد میں خواتین و حضرات شعراء، ادباء، کالم نگار اور تمام طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments