سوست ڈرائی پورٹ بیس سال کی لیز پر این ایل سی کے حوالے ، ایم او یو پر دستخط ہوگئے

سوست ڈرائی پورٹ بیس سال کی لیز پر این ایل سی کے حوالے ، ایم او یو پر دستخط ہوگئے

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت (عبدالرحمن بخاری) سوست ڈرائی پورٹ کو پاک فوج کے ذیلی ادارے نیشنل لاجسکٹس سیل (این ایل سی) کے حوالے کرنے کا معائدہ طے پاگیا۔ معاہدے پر این ایل سی کے ڈائریکٹر آپریشنز بریگیڈئیر سید کوثر حسین شاہ اور ڈرائی پورٹ ٹرسٹ کے چیرمین ظفر اقبال نے دستخط کردئیے۔

معائدے کی رو سے سوست ڈرائی پورٹ کا انتظامی کنٹرول بیس سال تک این ایل سی کے پاس رہے گا۔ اس دوران این ایل سی پورٹ کو توسیع دے گا اور اسے بین الاقوامی معیار پر لائے گا۔ پورٹ کی ترقی اور توسیع کے منصوبوں کے لئے این ایل سی پورٹ کی آمدنی استعمال نہیں کرے گا۔ نیز ڈرائی پورٹ میں موجود مقامی ملازموں کو تحفظ حاصل ہوگا، جبکہ دیگر ملازمتوں میں بھی مقامی افراد کو ترجیح دی جائے گی۔ ڈرائی پورٹ سے حاصل شدہ آمدنی سے ایک خاص تناسب میں پورٹ ٹرسٹ کو حصہ دیا جائے گا۔ اس سلسلے میں ایک تفصیلی معائدہ بعد میں کیا جائے گا۔

ڈرائی پورٹ کے چیرمین ظفر اقبال نے پامیر ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوے کہا ہے کہ ڈرائی پورٹ این ایل سی کو دینے کا فیصلہ ٹرسٹ ممبران کے تعاون سے کیا گیا ہے۔ کیونکہ چینی کمپنی عوامی توقعات پر اترنے میں ناکام ہو گیا تھا۔ چیرمین نے مزید کہا ہے کہ ڈرائی پورٹ این ایل سی کے حوالے کرنے سے مقامی شیر ہولڈرز کے مفادات کا تحفظ یقینی ہو جائے گا۔ اور چین پاکستان اقتصادی راہداری کے حوالے سے بھی اس کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوگا۔

لیز کی مدت میں فریقین کی رضامندی سے بیس سال کے بعد توسیع کی جاسکے گی۔

یاد رہے کہ منگل کے روز چیف کورٹ آف گلگت بلتستان نے ایک مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوے سوست ڈرائی پورٹ سے سائنو ٹرانس نامی چینی کمپنی کی شراکت داری ختم کرنے کا حکم دیا ہے۔ ماضی میں طے پائے جانے والے ایم او یو کے مطابق ڈرائی پورٹ کے قیام کے دس سال بعد چینی کمپنی نے پورٹ کا انتظامی کنٹرول مقامی افراد پر مشتمل ٹرسٹ کے حوالے کرنا تھا۔ تاہم، بوجوہ ایسا نہیں ہوپایا تھا اور اس سلسلے میں ٹرسٹ کی جانب سے چیف کورٹ میں مقدمہ دائر کیا گیا تھا۔

⁠⁠چیف کورٹ نے پاک چین جوائنٹ وینچر سوست ڈرائی پورٹ کمپنی (پرائیوٹ) لمیٹڈ کو ختم کرنے کا حکم بھی صادر کر دیا ہے۔ کمپنی کے خاتمے کے لئے دو وکلا بھی نامزد کردیئے گئے ہیں، جو اس حوالے سے قانونی امور کی نگرانی کریں گے۔

چیف کورٹ نے فیصلے میں کمپنی کو ختم کرنے کے فیصلے کی وجوہات بیان کرتے ہوے کہا ہے کہ دس سالہ معائدہ ختم ہوچکا ہے، اس دوران مذکورہ کمپنی نے قانونی تقاضے پورے نہیں کئے ہیں، سالانہ اجلاس بھی نہیں بلائے گئے ہیں، اور کمپنی کے ذمہ دار افراد نے اپنے منصب کا ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہوے ضوابط کی خلاف ورزی بھی کی ہے۔ اسلئے کمپنی کا پاک چین جوائنٹ وینچر سوست ڈرائی پورٹ کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈ کا خاتمہ ناگزیر ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔