حالات حاضرہ اورامکانات 

حالات حاضرہ اورامکانات 

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

عبدالجبارناصر

اس وقت ملک میں عملًا غیر یقینی سیاسی صورتحال ہے اور ہر زبان پر ایک ہی سوال ہے کہ اب کیا ہوگا اور کون کیا کرے گا؟ وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کے استعفے کے بعد صورتحال مزید سوالیہ نشان بن گئی ہے ۔اس ضمن میں چند امکانات ہیں زہن میں ہیں جن کا خبر سے کوئی تعلق نہیں ۔

(1)دبائو کے ذریعے نواز شریف کی حکومت ختم کرکے ملک میں مارشل لا ء لگادیا جائے۔

یہ اپشن مجھے مشکل لگ رہا ہے اس لئے کہ فوج کبھی بھی اپنے سربراہ کی ریٹائرمنٹ کے قریب مارشل لا نہیں لگاتی ہے ، اس سے ادارے کی بد نامی کا خدشہ ہے اور اس وقت خطے اور عالمی حالات بھی ساز گار نہیں ہیں ۔موجودہ صورتحال میں دبائو ہی ڈالے جانے کا امکان ہے اور حکومت کے خاتمے نہیں۔

(2)خان صاحب پرویز رشید اور ایک آدھ مزید قربانی اور وزیر اعظم کی کمزوری پر راضی ہو اور واپس گھر چلے جائیں ۔

اگر خان صاحب واقع کسی کے اشارے پر نہیں بلکہ اپنے بل بوتے پر یہ احتجاج کر رہے ہیں تو یہ اپشن بھی قابل عمل نہیں اور راضی ہوگئے تو خود ان کی سیاست دائو پر لگ جائے گی ۔

(3)نواز شریف کو ہٹا کر ن لیگ کے اندر سے نیا وزیر اعظم لیا جائے۔

اس اپشن کی کچھ گنجائش نظر آتی ہے مگر وزیر اعظم میاں نواز شریف سے کون اور کیوں استعفیٰ لے ؟ ابھی تک تو صرف الزامات ہی ہیں ، شاید الزامات سے اس ملک میں کوئی بھی بری الزمہ نہیں ہے ۔ بغیر کسی تحقیق کے صرف چند ہزار یا لاکھ افراد کے احتجاج پر وزیر اعظم کو ہٹایا گیا تو یہ ایک منفی روایت قائم ہوگی اور پھر کوئی بھی آئندہ حکومت نہیں چلاسکے گا ۔

(4)ملک میں نواز حکومت کا خاتمہ کرکے چند سالوں کے لئے ٹیکنو کریٹ حکومت بنائی جائے ۔

پہلی بات یہ ہے کہ یہ تجربہ بنگلہ دیش میں گرامین بنک کے سربراہ ڈاکٹر محمد یونس کی سربراہی میں بہت ہی بری طرح ناکام ہوا اور انتخابات میں وہی لوگ کامیاب ہوئے جن پر کرپشن سمیت سنگین الزامات تھے اورپھر یہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف سے کون اور کیوں استعفیٰ لے؟

(5)نواز شریف حکومت ختم کرکے نگراں حکومت قائم کی جائے اور پھر نئے انتخابات ہوں۔

مگرسوال یہی ہے کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف سے کون اور کیوں استعفیٰ لے ؟ چلو اگر اس وقت انتخابات ہوتے ہیں تو کیا تحریک انصاف اور اس کے اتحادی سادہ اکثریت حاصل کرسکیں گے ؟ بظاہر اس کے آثار نہیں ہیں ، مختلف سروے کے مطابق پنجاب میں آج بھی ن لیگ کی پوزیشن مستحکم ہے ، جبکہ مبصرین کے مطابق 2013ء کے مقابلے میں اس بار کم سے کم جنوبی پنجاب میں پیپلزپارٹی ڈٹ کر مقابلہ کرے گی ، اس کا سب سے زیادہ نقصان تحریک انصاف کو ہوگا ۔ پنجاب کے دیگر علاقوں میں تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی اتحاد کرتے ہیں تو ن لیگ کے ساتھ سخت مقابلہ ہوگا ،مگر کیا اس اتحاد کی گنجائش ہے ؟

دیہی سندھ میں پیپلزپارٹی کی پوزیشن مستحکم ہے تاہم شہری علاقوں میں ایم کیو ایم کی موجودہ تقسیم برقرار رہنے کی صورت میں نتائج مختلف ہونگے اور جماعت اسلامی، پیپلزپارٹی، جمعیت علمائے پاکستان ، جمعیت علمائے اسلام (ف)کچھ نشستیں حاصل کرسکتی ہیں ۔بلوچستان کی پوزیشن تقریباً یہی رہے گی ۔

خیبر پختونخوا کی ماضی کی روایات کو مد نظر رکھا جائے تو تحریک انصاف کے لئے مشکلات ہوں گی ۔ مختلف سروے کے مطابق خیبر پختونخوا میں اب بھی تحریک انصاف کی پوزیشن بہتر ہے ، تاہم جمعیت علمائے اسلام (ف)، ن لیگ اور عوامی نیشنل پارٹی جس اتحاد کے لئے سرگرم ہیں وہ ہوتا ہے تو پھر اس اتحاد کی پوزیشن مستحکم ہوگی اور اس میں پیپلزپارٹی بھی شامل ہوتی ہے تو پھر واضح کامیابی کا امکان ہے ۔

مجموعی طور پر اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ ایک مرتبہ پھر ن لیگ اور اتحادی واضح اکثریت سے کامیاب ہونگے ۔اگر ن لیگ کو سادہ اکثریت نہ ملی تو کیا تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی مل کر حکومت سازی کریں گے ؟

عملاً تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے چار جماعتوں بالترتیب جمعیت علمائے اسلام (ف)، پختونخوا ملی عوامی پارٹی ،عوامی نیشنل پارٹی اورپیپلزپارٹی سے اتحاد کے دروازے بند کردئے ہیں ۔ اس کے مقابلے میں ن لیگ نے خود تحریک انصاف کے اتحادیوں کے ساتھ اتحاد کی گنجائش رکھی ہے ۔ فرض کرلیا کہ پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کا اتحاد ہوگیا کیونکہ سیاست میں بعض مرتبہ گنجائش نکل جاتی ہے ، ایسے میں عمران خان اور بلاول میں سے وزیر اعظم کون بنے گا ؟ پھر خان صاحب کے انقلاب کے نعروں کا کیا ہوگا ؟

(6)نواز شریف ، شہباز شریف اور شریف خاندان کا خاتمہ کیا جائے ۔

اگر ہم اس خطے کی سیاست اور ماضی کو مد نظر رکھیں تو اس طرح کا عمل خاندانوں کو تاریخ میں زندھ رکھتا ہے اور ان کی نسلیں اس بنیاد قوموں پر حکومت کرتی ہیں ۔ بھارت کا گاندھی ، بنگلہ دیش کا شیخ مجیب اور پاکستان کابھٹو خاندان زندہ مثال ہے ۔

(7)مذکورہ بالا تمام صورتوں میں خان صاحب اور ان کی جماعت کا عملی کوئی فائدہ نہیں ہے ۔

(8)ہماری نظر میں صرف بات چیت کا راستہ ہی ہے جس میں سب کی عزت بھی اور بقا بھی ۔ مذاکرات میں نواز شریف کو 2017ء کی تیسری کے آخر یا چوتھی سہ ماہی میں انتخابات پر راضی کیا جائے اور سب ملک کر انتخابی اور دیگر قانون سازی کریں اور ایک سال کے اندر مردم شماری اور نئی شفاف حلقہ بندی ممکن بنائی جائے ۔اس دوران تمام جماعتیں انتخابات کی تیاری اپنے منشور کے مطابق کریں ۔آئین کے اندر رہتے ہوئے اس سے ہٹکر بظاہر کوئی راستہ نہیں ہے ، ممکن ہے کہ وقتی طور پر کسی کی واہ واہ ہو مگر ملے کا کچھ نہیں ۔

نوٹ : یہ صرف ہماری زاتی رائے ہے ، قارئین کو کلی یا جزوی اختلا ف و اتفاق کا مکمل حق حاصل ہے اوراپنی رائے بھی دے سکتے ہیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔