بعض سرکاری افسران ضلع کونسل کو دیوار سے لگا رہے ہیں،  ردِ عمل پر مجبور نہ کیا جائے، مغفرت شاہ ناظم چترال

بعض سرکاری افسران ضلع کونسل کو دیوار سے لگا رہے ہیں، ردِ عمل پر مجبور نہ کیا جائے، مغفرت شاہ ناظم چترال

11 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال (نذیرحسین شاہ نذیر) ضلع ناظم چترال مغفرت شاہ نے کہا ہے کہ ضلع کونسل اس ضلعے کا بااختیار ادار ہ ہے مگر بعض اداروں کے سربراہان اس ایوان اور اس کی بنیاد پر وجود میں آنے والی ضلعی حکومت کو اس حد تک لے جانے میں مصروف ہیں جہاں برداشت کی آخری حد ختم ہوجاتی ہے جس میں مقامی سربراہان کا کوئی قصور نہیں بلکہ انہیں لقمہ اوپر کے حلقوں سے مل جاتی ہیں اور اس بات کو واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے ہاں اہمیت رولز آف بزنس کا نہیں عوامی مفاد کا ہے اور ہمیں اس حدتک قدم لینے پر مجبور نہ کیا جائے۔

پیر کے روز ضلع کونسل چترال کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہم نے ڈیڑھ سال تک سرکاری اداروں کے ساتھ عزت کا تعلق قائم رکھا اور آئندہ بھی ادارتی تعلق قائم رکھیں گے مگر اسے ہماری کمزوری پر ہرگز محمول نہ کیا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت نے بھی نان سیلری بجٹ کے ضمن میں ضلع کونسل کے فیصلے کو برقرار رکھا اور اس سلسلے میں کئی مہینوں کی غیر ضروری تاخیر کرکے سرکاری محکمہ جات کو مفلوج کرکے رکھ دیا گیا جبکہ اس نوعیت کی تاخیری حربے کو برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ ترقیاتی بجٹ اس وقت ریلیز کئے جاتے ہیں جب چترال میں ورکنگ سیزن اپنی احتتام پر ہوتا ہے اور اس میں غیر معمولی تاخیرسوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا جارہا ہے جس کا اعادہ کرنے سے افسران کو گریز کرنا ہوگا اور نہ آئندہ کے لئے اس کا موقع دیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ چترال میں گزشتہ سال کے تباہ کن سیلاب اور زلزلے کی نقصانات سے نمٹنے کے لئے درکار 16ارب روپے کے لئے پی پی اے ایف اور صوبائی حکومت کی تعاون سے اسلام آباد میں اگلے ماہ ایک ڈونر کانفرنس منعقد کی جارہی ہے جس کے نتیجے میں ایک ملٹی سیکٹر انٹیگریٹڈ پراجیکٹ کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم نواز شریف کو عنقریب ایک بار پھر چترال لانے کی کوششیں جاری ہیں جس میں وہ تاجکستان روڈ کے حوالے سے اہم اعلان کریں گے جبکہ ان کے گزشتہ دورہ چترال میں یونیورسٹی اور ہسپتال کے قیام کا ڈائریکٹو بہت جلد جاری ہوں گے اور 20کروڑ روپے کا گرانٹ بھی ریلیز ہوگی جسے ہاؤس کے مشورے پر ترقیاتی کاموں پر صرف کئے جائیں گے۔ اس سے قبل کنوینر مولانا عبدالشکور نے آئندہ کے لئے اجلاس کی کاروائی کے ضوابط طریقہ کار کی بائی لاز ایوان میں پیش کی جس پر ارکان کونسل نے ان کو پڑھنے کے بعد اگلے بحث اور منظوری کے لئے ملتوی کردیا۔ انہوں نے ضلع کونسل کے عارضی ملازمیں کے تنخواہ جات کی منظوری کا معاملہ بھی ایوان کے سامنے پیش کردیا جس کی منظوری دی گئی۔ پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے رکن کونسل رحمت غازی خان نے ضلع ناظم پر زور دیا کہ ضلعی حکومت اور کونسل کی حکم عدولی میں ملوث افسران کی نشاندہی کی جائے تاکہ ان کے خلا ف سب مل کر کاروائی کریں گے۔ انہوں نے مختلف محکمہ جات کے لئے قائم اسٹینڈنگ کمیٹیوں کو فعال بنانے اور ان کے لئے نئی پینل آف چیرمین مقرر کرنے کی تجویز دی۔

جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے رحمت الٰہی نے دیار کی سوختنی لکڑی سے فرنیچر بنانے اور ڈاؤن اضلا ع میں فروخت کرنے پر پابندی چاہتے ہوئے قرارداد پیش کیا جس پر پی ٹی آئی کے محمودالحسن، انعام الحق اور رحمت غازی اور اے پی ایم ایل کے شہزادہ خالد پرویز نے اظہار خیال کیا جبکہ کنوینر نے رولنگ دیتے ہوئے کہاکہ اس میں ضروری تبدیلی کرکے دوبارہ پیش کیا جائے۔ جماعت اسلامی کے مولانا جمشید نے کنوینر پر زور دیا کہ وہ ہر اجلاس میں گزشتہ اجلاسوں میں ہاؤس میں پاس شدہ قراردادوں پر عملدرامد کے حوالے سے ہاؤ س کو اپ ڈیٹ کرے۔ پی ٹی آئی کے محمدیعقوب (کریم آباد) اور پی پی پی کے غلام مصطفی (مستوج ) نے ترقیاتی منصوبہ جات میں غیر معمولی تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ 

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔