فرقہ وارانہ الزامات اور ہیلتھ انشورنس

فرقہ وارانہ الزامات اور ہیلتھ انشورنس

16 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر ۔ منظر شگری

پیپلز پارٹی میں دنیور کا جلسہ اور اسکے بعد حکومت اوراپوزیشن کا ایک دوسرے پر فرقہ واریت پھیلانے کے الزمات کا سلسلہ شروع ہوا ہے ۔صرف یہ نہیں بلکہ یہ دھمکی بھی پڑھنے کو مل گئی کہ انتشارپھیلانے والوں کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کے تحت کاروائی ہوگی ۔سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ یکم نومبر جشن آزادی کی پرچم کشائی کی تقریب میں بھی وزیر اعلٰی حفیظ الرحمٰن نے بھی سخت لہجے میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فرقہ وارانہ سیاست کرنے والوں کے خلاف آخری حد تک جائینگے ۔پیپلز پارٹی کے دنیور کے جلسے میں تو یہاں تک عہد کیا گیا کہ آئیندہ گلگت بلتستان کے لوگ فرقے کی بنیاد پر فساد نہیں کرینگے۔بہرکیف حکومت اور اپوز یشن کے ایک دوسرے پر بیانات کی حد تک زبردست حملوں کو پڑھنے کے بعدگزشتہ روز سٹی پارک میں وزیراعلٰی ہیلتھ انشورنس سکیم کے تحت کارڈ کی تقسیم کی تقریب میں شرکت کا موقعہ میسر آیا ۔ جب وزیراعلٰی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اب ایک پیراسٹامول کی گولی کے لئے کسی مریض کو ٹھوکریں کھانے کی ضرورت نہیں ہوگی اور نہ کسی شہری کو اپنے علاج کے لئے نہ مال مویشی اور نہ ہی جائیداد فروخت کرنے کی ضرورت ہوگی ۔

وزیراعلٰی کے اس خطاب سے مجھے چند روز قبل کا ایک واقعہ یاد آیا ۔ جب میں اپنے بیٹے کو ڈی ایچ کیو ہسپتال میں چیک اپ کے بعد ہسپتال کے احاطے میں ہی تھا ۔ ایک کافی عمررسیدہ شخص شور کررہا تھا ۔ یہ شخص محکمہ صحت اور حکومت کو بددعا دیے رہا تھا ۔کچھ لوگ اور نوجوان اسکو سمجھانے کی کوشش کررہے تھے ۔جب میں نے بھی غور سے ان کی جانب دیکھا تو ایک جانے والے کہا کہ بابا آپ اپنی بات ان کو بتاو یہ اخبار میں خبر دینے والا ہے ۔ اس شخص کی عمر کم سے کم 65 برس تھی انہوں نے اپنا نام حنان خان بتایا اور کہا کہ میں جگلوٹ بالا سے آیا ہو ڈاکٹر سے علاج کرانے آیا تھا ۔ڈاکٹر نے دوائی لکھ دیا ہے اب ہسپتال میں ایک ڈسپرین کی گولی بھی دستیاب نہیں ۔ مارکیٹ میں اس دوائی کی قیمت 1250 روپے بنتے ہیں ۔ میرے پاس پانچ سو روپے ہیں کیا میں گھر کی واپسی کا کرایہ ادا کروں یا دوائی خریدوں ۔ ساتھ حنان خان نے یہ بھی بتایا کہ ایک زمانہ ہوتا تھا کہ ہر شخص کے لئے سرکاری ہسپتال میں علاج مفت میں ہوتا تھا دوائی بھی اس ایجنسی اسپتال سے فری میں ملتی تھی ۔ اب ہم غریب لوگ کیا بغیر علاج کے مرجائے کیا دوائی لیں تو کہاں سے لینگے ۔

خیراس دوران میرے دل و دماغ میں لمحوں میں بہت ساری باتیں گردش کرتی رہی ۔کبھی ہسپتالوں میں دوائی مفت اور وافر مقدار میں دستیاب ہوتی تھی اب انسانی آبادی کے بڑھنے کیساتھ یہ دوائی نایاب ہوئی بلکہ انتہائی کم مقدار میں دستیاب ہیں ۔پھر یہ بھی سوچتا رہا کہ ایک غریب چھوٹی بیماری کی ادویات خر یدنہیں سکتا تو کسی خطرناک بیماری جس کا علاج معالجہ انتہائی مہنگا ہوتا ہے وہ ایسی صورت میں اپنا علاج کیسے کرائے گا ۔میں نے بھی بابا حنان خان کی باتیں سنتا رہا اور ہاں میں ہاں ملاتا رہا ۔ ساتھ یہ بھی خیال آیا کہ مجھ اپنے بچے کی دوائی بھی باہر مارکیٹ سے لینی ہیں پتہ نہیں اس کی کیا قیمت ہوگی ۔ خیر ہمارے معاشرے میں اچھے لوگوں کی کمی نہیں جتنے لوگ تھے سب مشہورے دیتے رہے کہ ان کو ایم ایس کے پاس لے جاتے ہیں اور لوکل پرچیز کے بجٹ سے دوائی دلانے کی درخواست کرتے ہیں ۔ تاہم وہاں سے گزرنے والا ایک شخص نے کہا بابا یہ اپنی دوائی لو کہہ کر ایک ہزار روپے کا نوٹ بابا حنان خان کو زبردستی تھمادیا تو وہی پر میرے جانے والے ایک نوجوان نے کہ آپ لوگ بھی اسکو کچھ پیسے دو تو کسی نے دو سو کسی نے سو دیے تو بابا حنان خان کے پاس سولہ سو روپے دوائی کے جمع ہوئے اور وہ دعائیں دیتا اپنی دوائی خرید کر وہاں سے اپنے گاوں کی جانب روانہ ہوا ۔

میں بھی اسکو ایک غریب کی کہانی قرار دیکر خاموش ہوگیا ۔لیکن اب غریبوں کے لئے پچیس ہزار تک کی صوبائی حکومت کی صحت انشورنس سکیم کی تقریر سننے کے بعد احساس ہوا کہ اب کوئی بھی حنان بابا جیسا غریب شخص کم سے کم علاج کے لئے ہسپتال میں موجود لوگوں سے فریاد نہیں کریگا اور نہ ہی محکمہ صحت کے آفیسران اور حکومت کے خلاف بولے گا کیونکہ ہیلتھ انشورنس سکیم سے وہ اپنے خاندان کے افراد کے لئے سالانہ175000 کا علاج کا پیسہ ہروقت حکومت کی جانب سے اس کے پاس موجود ہوگا ۔گلگت بلتستان پہلا صوبہ ہے جس نے صوبائی سطع پر 19 کروڑ روپے سے اس منصوبے کا آغاز کیا ہے ۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بابا حنان خان جوکہ 1250 روپے کی دوائی کیلئے چیختا رہا کیا اس کا نام بھی وزیراعلٰی صحت انشورنس سکیم میں شامل ہیں یا نہیں ۔ اللہ کریں حنان بابا کا نام بھی اس صحت انشورنس سکیم میں شامل ہو ۔کیونکہ یہ انشورنس سکیم ان لوگوں کو دی گئی ہے ۔جوکہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے مستفید ہورہے ہیں اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا سرویے غلط ہونے اور اس میں غریبوں کی بجائے ایک ادارے نے سروے کرنے کے ٹھیکے کے پیسے بٹورنے کے لئے گھروں میں بیٹھ کر مکمل کیا ۔ اس سروے کے غلط ہونے سے متعلق نہ صرف عوامی سطع پر انگلیاں اٹھتی رہی بلکہ مسلم لیگ ن کی حکومت میں شامل بے نظیرانکم سپورٹ کی چیرپرسن ماروی میمن بھی گلگت بلتستان کے عام انتخابات میں انتخابی مہم کے دوران چیخ چیخ کربولتی رہی ہیں کہ بی آئی ایس پی کا سروے غلط ہوا اور اسکا سروے ازسرنو کرانا ہوگا ۔ لیکن ماروی میمن کا یہ بیان شاید الیکشن مہم تک محدود تھا ۔

خیر وزیراعلٰی ہیلتھ انشورنس سکیم میں وزیراعلٰی کی آمد سے کچھ دیر قبل ڈپٹی سپیکر جعفراللہ خان کیساتھ محو گفتگو تھے تو انکا بھی یہی کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی کا سرویے غلط ہے اس پر ہیلتھ انشورنس کا فائدہ بھی ضرورت مند افراد کی بجائے دوسرے لوگوں کو ہوگا ۔جیسے بھی ہوا بنیادی صحت کے حوالے سے صوبائی حکومت نے جرمنی کے حکومت کے تعاون سے آئیندہ پانچ سال کے لئے ایک اچھی سکیم سامنے لائی ۔لیکن جب وزیراعلٰی نے اس سکیم کا باضابطہ افتتاح کیا اور تقریب اختتام پزیر ہوئی تو حنان بابا کی طرح کا ایک غریب نوجوان سے اس تقریب میں ایک ساتھی رپورٹر معراج عالم کی وساطت سے ملاقات ہوئی ۔ جس کا والد محکمہ پی ڈبلیوڈی سے ایک چھوٹا ملازم ریٹائرڈ ہوا ہے ۔

علی احمدجان کنوداس کا رہائیشی ہیں ۔ انکا کہنا ہے کہ انکی والدہ اور بہن دونوں سخت بیماری کیوجہ سے معذور ہیں بلکہ دونوں کی ٹانگیں مکمل خراب ہوچکی ہے ۔ نہ علاج کے لئے پیسہ ہیں اور والد کے پانچ سے چھ ہزار کی ماہانہ پینشن کی رقم سے ماں اور بہن کی اس مہلک بیماری کا علاج ممکن نہیں ۔بی آئی ایس پی کے دفتر میں کئی درخواستیں ہمارے گھر کی غربت اور مجبوریوں کا سرویے کے لئے دیے چکا ہوں لیکن کہیں سے کوئی شنوائی نہیں ہوئی ۔ مفت علاج تو میری ماں اور بہن کی اولین ضرورت ہے لیکن ہم جیسے غریبوں سے کوئی نہیں پوچھتا ہے ، نہ بی آئی ایس پی کے امدادی رقم ملتی ہے اور نہ ہی اب وزیراعلٰی ہیلتھ انشورنس سکیم سے میری ماں اور بہن کا کوئی علاج ہوسکا ۔

وزیراعلٰی صاحب یہ بدقسمتی رہی ہے کہ یہاں کوئی اقتدار میں ہو یا اپوزیشن میں ایک دوسرے پر فرقہ واریت کا الزام لگاتا رہے گا کیونکہ ہمارے ماضی کی سیاست کی بنیادی ہی فرقہ واریت سے شروع ہوئی اب اسکے علاج کے لئے بھی انشورنس سکیم متعارف کراکے ختم کی جاسکتی ہے ۔لیکن اقتدار میں بیٹھ کر حنان بابا اور علی احمدجان جیسے حقدار خاندانوں کی دعائیں لینا مت بھولنا کیونکہ حقدار کو اسکا حق نہیں ملے گا تو آپ سے بھی قیامت کے دن آپ کے اقتدار کے دوران ہونے والے آپ کے حلف کے بارے میں ضرور پوچھا جائے گا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔