تحفظ بندوبستی حقوق اہالیان گلگت کے نو منتخب عہدیدارن کی حلف برداری کی تقریب منعقد

تحفظ بندوبستی حقوق اہالیان گلگت کے نو منتخب عہدیدارن کی حلف برداری کی تقریب منعقد

9 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت (پ ر) آج بتاریخ 13 نومبر 2016 بمقامِ سٹی پارک گلگت تنظیم تحفظ بندوبستی حقوق اہالیان گلگت (کشروٹ، مجینی محلہ و امپھری) کے نو منتخب عہدیدارن کی حلف برداری کی تقریب منعقد ہوئی۔ جس میں گلگت کے تینوں محلوں سے تعلق رکھنے والے معززین و نوجوانان کی ایک کثیر تعدادنے شرکت کی۔نومنتخب کابینہ سے سعید اقبال ایڈوکیٹ، چیف کورٹ گلگت بلتستان نے حلف لیا۔ مذکورہ تقریب میں عمائدینِ گلگت اور نومنتخب صدر مشتاق احمد نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ مذکورہ محلہ جات کے بندوبستی حقوق کا بھر پور تحفظ کریں گے۔ اور گلگت شہر میں دیرپا قیام امن کیلئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر کاکاجان نے کہا کہ ہمیں ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر اپنے حقوق کے حصول کی قانونی جنگ لڑنی ہوگی۔ جبکہ معروف سیاسی شخصیت عبدالواحد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپنے حقوق کے لئے ہمیں عملی میدان میں اترنا ہوگا۔ جبکہ معروف سیاسی شخصیت سنبل شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ قیام امن کے لئے ہمیں بیرونی عناصر سے خود کو محفوظ رکھنا ہوگا۔

نو منتخب صدر مشتاق احمد و سابق اسسٹنٹ کمشنر نے اپنے خطاب میں کہا کہ ناتوڑ روولز 1975-80اہالیانِ گلگت کے حقوق کے منافی ہے اور مذکورہ روولز میں نظر ثانی عمل میں لائی جائے۔ نو منتخب صدر نے مذید کہا کہ شاملاتِ اراضیات اور چراگاہ کارگاہ تا چھلمس داس تک کی اراضیات کوفی الفور اہالیان گلگت کیلئے واگزار کرایا جائے۔ اور دیگر تمام غیر مقامی افراد کے نام جعلی انتقالات کو فی الفور منسوخ کیا جائے۔ اور اہالیان گلگت کو ان کے بندوبستی حقوق سے محروم نہ رکھا جائے۔ انہوں نے حکومت وقت سے BISP اور Health Cards کی غیر منصفانہ تقسیم پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ محکموں کے آفیسران کے خلاف فی الفور قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے۔اور مطالبہ کیا کہ گلگت کے کوٹے سے تمام غیر مقامی مستحقین کو نکالا جائے۔

انہوں نے مذید کہا کہ حکومت گلگت بلتستان نے گلگت کے جو اراضیات محتلف دفاترکے نام پر حاصل کیا ہے ان کا معاوضہ حقیقی مالکان یعنی گلگت کے پشتنی باشندوں کو دیاجائے جو ان کا قانونی حق ہے۔ اور دیگر افراد کے نام مرتب شدہ معاوضہ جات کو فی الفور منسوخ کیا جائے اور اہالیان گلگت کے نام مرتب کیا جائے۔

pic-2

اس کے ساتھ ساتھ شرکاء نے اظہارخیال کیا کہ ضلع گلگت کیلئے مخصوص گریڈ ون سے گریڈ نو تک کی آسامیوں پر دیگر ضلعوں کے لوگوں کو بھرتی کیا گیا ہے جو کہ گلگت کے باشندوں کے ساتھ سراسر زیادتی ہے اور حکومت وقت سے مطالبہ کیا کہ ایسے تمام ملازمین کو اپنے اپنے ضلعوں کو بیجھا جائے اور ان تمام آسامیوں پر گلگت کے پشتنی باشندوں کو تعینات کیا جائے تاکہ ماضی میں ان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا ازالہ ہو سکے۔

اجلاس کے آخر میں اختر نسیم جنرل سیکریٹری گلگت تنظیم تحفظ بندوبستی حقوق اہالیان گلگت (کشروٹ، مجینی محلہ و امپھری) نے متفقہ قراردار پیش کی جسکو اجتماع نے متفقہ طور پر منظور کیا

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔