قاسم شیرالیاٹ – ایک تعارف

قاسم شیرالیاٹ – ایک تعارف

9 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تعارف حسین

 گلگت بلتستان کی پہلی قوم پرست جماعت قراقرم نیشنل مومنٹ کے بانی قاید تحریک قاسم شیرالیاٹ ہیں۔آپ نے کے۔این۔ایم اور کے۔ایس۔او کی بنیاد ۱۹۸۴ میں بولان میڈیکل کالج میں رکھی۔آپ کا تعلق خطہ قراقرم میں نگر سے ہے۔آپ کے والد محترم نگر میں راجگیری نظام کے خلاف جد وجہد اور مزاحمتی تحریک کے رہنما تھے اور بغاوت کر کے بلوچستان جا کر آباد ہویے۔اور مرتے وقت اپنے بیٹے قاسم شیرالیاٹ کو وصیت کیا کہ اگر آپ کو زندگی میں موقع ملے تو خطہ قراقرم کے عوام کے حقوق کے لیے صدائے حق بلند کرنا۔قاسم شیرالیاٹ اسی کی دھائی سے پہلے صوبہ سندھ اور بلوچستان میں باییں بازو کی ترقی پسند جماعتوں کے سرکردہ رہنماوں میں شامل تھے اور کئی سیاسی شاگرد پیدا کیے جن میں ایم۔کیو۔ایم کے بانی الطاف حسین بھی شامل ہیں۔

آپ کی وفات پر الطاف حسین نے تعزیتی الفاظ ادا کرتے ہویے کہا کہ آج میں اپنے سیاسی استاد سے محروم ہو گیا۔جب ضیاالحق کے مارشل لاء کے دور میں بایئں بازوں کی جماعتوں کے خلاف کریک ڈاون ہوا تو آپ ہی کے مشورہ پر عمل کرتے ہوے صوبہ سندھ اور بلوچستان میں علاقائی قوم پرست جماعتوں کی بنیاد رکھی گئ اور آپ نے خود بھی خطہ قراقرم کے قومی حقوق کے لیے کے۔ایس۔او اور کے۔این۔ایم کی بنیاد رکھی۔اور کراچی میں خطہ قراقرم کی ۱۴ طلبہ جماعتوں کو یکجا کر کے کے۔ایس۔او کی بنیاد رکھی جسکا ابتدایئ منشور اور مقاصد درج ذیل تھے۔خطہ قراقرم میں بسنے والے لوگ ایک قوم ہیں جن کے مشترکہ فواید اور نقصانات ہیں۔شمالی علاقہ جات کے بجایے علاقے کو قراقرم کے نام سے پکارا اور لکھا جایے جو قومی شناخت کو ظاہر کرتا ہے۔ سٹیٹ سبجیکٹ رول کو بحال کیا جایے۔پاکستان کی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں خطہ قراقرم کے طلبہ کا کوٹہ بڑھایا جاے۔اور نصاب میں خطہ قراقرم کی تاریخ،جغرافیہ،کلچر اور ثقافت کو شامل کیا جایے۔خطہ قراقرم کی آئنی حیثیت کو واضح کیا جایے۔یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا جایے۔کے۔این۔ایم اور کے ۔ایس۔او کی بنیاد خطے کی نوجوانو کے اندر سیاسی شعور اجاگر کرنے کی وجہ بنی۔اور پہلی بار۱۹۸۹ کو گلگت میں شاہی پولو گراونڈ کے مقام پر کنونشن کا انعقاد کیا جس میں پاکستان سے بھی قوم پرست جماعتوں کے قایدین نے شرکت کی۔اور مختلف کانفرنسس،سیمینارز،کنونشنس اور ورکشاپس کے ذریعے قومی شعور کو فروغ دیا۔اور کارکنوں کی ایسی تربیت کی جنھوں نے قومی حقوق کے حصول کے لیے کسی طرح کی قربانی سے گریزنہیں کیا۔

آپ ۲۰۰۵ کو آخری بار کراچی میں کے۔این۔ایم کی طرف سے منعقدہ امن کانفرنس میں شرکت کر کے گھر پنچے تو دل کا دورہ پڑنے سے دار فانی سے رخصت کر گیے۔آپ کی وفات کے بعد بھی کے۔این۔ایم اور کے۔ایس۔او کے سفر میں کئ بار اتار چڑھاو آیا مگر آپ کے تربیت یافتہ کارکن ہمیشہ ثابت قدم رہے اور آج بھی بے پناہ مشکلات کے باوجود منزل کی طرف سفر رواں دواں ہے۔اور آج خطہ میں آپ کے دیے گیے نظریے کے مطابق کئں قوم پرست تحریکوں نے جنم لیا ہے جو قومی خودمختاری اور آزادی کلیے جد وجہد میں مصروف ہیں۔اور کے۔این۔ایم کا ان تمام جماعتوں کے ساتھ بہتر ورکنگ رلیشنشپ ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔