شیر اور سفیدہا تھیاں۔۔ پہلی قسط

شیر اور سفیدہا تھیاں۔۔ پہلی قسط

13 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

’’ بدلتا ہے رنگ آسمان کیسے کیسے‘‘ کے مصداق سیا سی میدان بھی رنگ بدلتا رہتا ہے، جب رنگ جب بدل جا تا ہے تو رنگا رنگ رو نقیں بھی سیا سی اُفق کے نصیب کے حصے میں آجاتیں ہیں۔۔۔ سر زمین گلگت بلتستان آئینی صوبہ نہ سہی لیکن آئین کی موج مستیوں کی بدو لت سیا سی منظر غیر آ ئینی رو نقوں اور رنگوں سے پُر ضرور ہے۔ سات برس پہلے سیا سی مجبو ریوں کی بدو لت صدراتی حکم نا مے کے تحت وجود میں آ نے والا صوبہ( جس کو آئین پا کستان میں کو ئی حثیت حا صل نہیں) میں سیا سی منظر نا مے پر آنے والے چہروں کے لئے عین آئینی درجات اور آئینی مفا دات حا صل ہیں جن کی بدو لت وہ قومی خزا نے پر ’’دل بے رحم ‘‘بن کر ٹو ٹ پڑتے ہیں اور عوام کے حق مفادات، احساسات اور جذ بات سب پاوں تلے روند کرمجرو ح کر دیتے ہیں ۔ مہدی سر کار کا سورج غروب ہو ئے ابھی تھو ڑا عرصہ گزرا ہے لیکن ان کی غیر آ ئینی، غیر شرعی، غیر دستوری اور غیر اخلا قی بد عنوا نیوں کا قصہ بھی پا رینہ ہوچکا ہے اورلوٹ مار کے ما سٹر ما ئنڈز آج بھی سر زمین گلگت بلتستان میں دندناتے پھر رہے ہیں اور قانون بے بس، مجبور اور محکوم بن کر اُن کے ناز اور ادا ئیں دیکھ رہا ہے ۔نو زائیدہ غیر آئینی صوبے میں جب تیر کا زمانہ اپنے تمام زوال پزیر دا ستانوں مگر تر قی یافتہ، ما ل و متاع سے پُر وزیروں کے کا ر ستا نیوں کے ہمراہ غروب ہوا تو گلگت بلتستان میں ’’ بھو رے شیر ‘‘ ( ن لیگ ) کی حکومت تیر کے ڈھا ئے گئے مظالم، لوٹ کھسوٹ اور چو ر چکار کے عوامی جواب کے طور پرآگئی جو اپنے دورِ حزب اختلاف میں شاہ اور شاہ کے وفادار وزیروں کی کا ر ستا نیوں کے خلاف نہ صرف آواز اٹھا یا کر تی تھی بلکہ ان کے سیاہ کا ر نا موں کے داستان وائٹ پیپر میں جا ری کی تھی اور مزے کی بات یہ ہے کہ ان چوروں کے احتساب کا صرف مطا لبہ نہیں بلکہ حا فظ حفیظ الر حمن نے ان کو لٹکا نے کی نوید سنا چکے تھے ۔ لیکن آج گلگت بلتستان پر بھو رے شیر (ن لیگ ) کی حکو مت کے 889دن پورے ہو چکے ہیں اور936 دن ابھی با قی ہیں گو یا حفیظ سر کار کا دور بھی اپنے منزل مقصود کی جانب بڑھ رہا ہے اور چور لٹکا نے کا وعدہ ایفا ہو تا دیکھا ئی نہیں دیتا ۔۔۔

اُنہوں ایک ماہ پہلے کر پشن کے سر دار کے آبائی گاوں میں ایک اجتماع سے خطاب کر تے ہو ئے اُس وقت لو گوں کو ور طہ حیرت میں ڈال دیا ’’ ان چوروں کو سڑک پر گھسیٹنا چا ہئے ‘‘ بس مجھے تب یقین ہو گیا کہ حفیظ کا مشورہ نیک ہے لیکن قابل عمل نہیں کیو نکہ یہ بات اور مشورہ تو ہر وہ شخص دیتا ہے جس کے ہاتھ میں اقتدار ہے اور نہ ہی اقتدار کے کر سیوں پر براجمان کرا نے کا ہنر۔۔ البتہ ووٹ نا می ایک طاقت جوانگو ٹھے کی زینت سمجھی جا تی ہے مو جود ہے لیکن دینے کے بعد ایک بے ابرو مہرے کی صورت اختیار کرکے ٹیبل پر ہو تاہے اور نہ ہی دفتر میں۔۔بس اپنے گھر کے آنگن میں کسی غیر اہم کام میں مگن ہو نے کیساتھ کیساتھ اہم سیا سی معا ملات میں خواہ مخواہ اُلجھ کر اپنا ذہن خراب کر دیتا ہے۔۔

889 دنوں پر محیط گزرے حکو متی وقت کا جا ئز ہ لیتے ہو ئے اگر غیر جا نبداری کا مظا ہر ہ کیا جا ئے تو محکمہ تعلیم پر ہو نے والے مظالم کا جواب شیر نے 95% میرٹ کی بحا لی کا انتظام کر کے دے دیا جس کے لئے ہم شیر کے مشکور ہے۔۔مشکو ر ہو نے کے ساتھ ساتھ ایک درخواست بھی کر دیتے ہیں کہ ہو سکتا ہے ہمارے دوست اور حکو متی تر جمان فیض اللہ فراق کی نظر اس کالم پر پڑے اور اُن سے ہو تی ہو ئی بات وزیر اعلیٰ کے کانوں تک پہنچ سکے اور کیا پتہ کہ میرٹ کی بحالی 100%تک پہنچ پا ئے جو معذوروں کے کو ٹوں میں نو ٹوں اور اقربا پرستی کی قدموں کے اثرات سے متا ثر ہو نے کی غیر مصدقہ خبروں کہ وجہ سے% 95 سمجھا جا تاہے ۔۔۔حکو مت اس 5% پر آخر کیوں بد نام ہو اس لئے انکو ا ئری ضروری ہے تا کہ اس پاک مشن سے کر پشن اور سفا رش کا مکمل خا تمہ ممکن ہو اور اس کا پورہ کر یڈٹ شیر کو مل سکے کیو نکہ وقت کیساتھ حر کت میں ہی بر کت ہے۔۔۔وقت کا کو ئی پتہ نہیں کہاں سے آتا ہے اور کدھر چلا جا تا ہے ۔۔۔ وقت کا دریا بغیر کسی رکاوٹ بہتا ہے اور یہ دریا بھی عام دریا کی طرح چیزوں کو ساتھ بہا کر لے جا تا ہے لیکن اس کے کئی کمالات بھی ہیں۔۔ زخموں پر مر ہم رکھتا ہے، اپنے ساتھ چلنے والوں کو بہا کر نقصان نہیں پہنچا تا بلکہ معیار کے منزل میں ڈراپ کر دیتا ہے جس کا جو معیار ہے اُدھر پہنچا کر دم لیتا ہے۔۔وقت ایک ایسا جگت گُروہے جو امتحان لے کر سبق سیکھا تاہے جس کے رو برو جگت بازی شاید زندگی کے لئے جگ ہنسا ئی کا مو جب بنے ۔اگر شیر اپنے حصے کے سیا سی وقت کو مغل با دشا ہ بہادر شاہ ظفر بن کر گزرا تو پھر کسی دن فر صت کے لمحوں میں یوں کہنے پر مجبور ہو

جا ئے گا؛

عمر دراز ما نگ کر لا ئے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں

اس شعر کے خا لق کی ذا تی اور نجی زندگی سے مبرا ہو کر سو چی جا ئے تو اُن صاحب کی سیاسی زندگی سے وقت کی سیا سی قیادت کے لئے سبق ضرور ہے کہ اگر قیادت وقت سے پہلے اپنے آپ کو اور اپنے عوام کو طرززندگی ، مستقبل کے مشکلات، حال کے حالات اور ما ضی کے روایات کے بارے آگا ہی نہ دے سکی تو آخر میں اُن کے پاس جو تا پہنانے کے لئے کو ئی نہیں بچتا ہے اور 90برس کی زندگی بھی چار دن کے قصے میں مُک جا تی ہے۔ ہمارے سیاست دانوں اور حکمرانوں کی خصلت اور طرز حکمرا نی بھی طرزِ اکبری اور شا ہ ظفری سے مشا بہت رکھتی جا رہی ہے اس لئے اپنے حصے کے قیمتی سیا سی وقت کا ادراک ، ان کے تقا ضوں اور ضرو ریات کو مد نظر رکھ کر مغل شہنشا ہی والی عادات کو اُگال دان کی نذر کرنا نہ صرف وقت کی ضرورت ہے بلکہ سیا سی بقا کا راز بھی اسی میں چھپا ہے۔حیرت تب ہو تی ہے جب اہل اقتدار خواب خر گوش کے مزے لینے کے بعد پا نچ سال کے قیمتی لمحات کو چار دن قرار دیتے ہیں توہم جیسے فارغ اذہان سو چنے پر مجبور ہو جا تے ہیں کہ عوام کے 1825دن ان کے لئے چار دن کیسے بنتے ہیں؟ اگردو آرزو اور دو انتظار کے لئے درکار ہیں تو 1821دن آخر جا تے کہاں ہیں اور حکمران کر تے کیا ہیں؟

’’ بر ملا اظہار ‘ ‘ کی نظر بھی حفیظ سر کار کے چار دنوں پر اٹکی ہو ئی ہے یہ چار دن اُن کے لئے شاید چار ہی ہوں مجھ سمیت دو ملین اہل گلگت بلتستان کے لئے 1825ایام ہیں جو بہت کچھ کر نے کے لئے کا فی ہیں۔۔۔ ان ہی چار دنوں میں اُنہوں نے بہت کچھ کر نے کا وعدہ کیا ہوا ہے اور مجھ جیسے لو گ حا فظ حفیظ الر حمن کی خداداد صلا حیتوں اور خطے کے لئے نیک خو اہشوں سے واقف ہیں اور عملاً کچھ کر تا ہوا اور کچھ ہو تا ہوا دیکھنے کے آرزو مند ہیں۔۔۔ تیر والوں کا زمانہ تو ختم ہوا لیکن شیر والوں کاسیا سی وقت ختم ہو نے سے پہلے ہم بھی انہیں اُن کا جاری کر دہ وائٹ پیپر کے 34صفحات یاد دلا تے ہیں جہاں اُنہوں نے مہدی سر کار کے کا ر سیاہ اور دورِ ظلمات کا پردہ چاک کر نے کیساتھ ساتھ طرز حکمرا نی درست کر نے اور چند سر کاری اداروں کو سفید ہا تھی قرار دیا تھا۔۔اب وہ سفید ہا تھیاں اُن کے اپنے کے پا س ہیں لیکن دیکھنا ضروری ہے کہ کس حالت میں ہیں، وہ اُن سفید ہا تھیوں کو کیا اور کیوں کھلا تے ہیں اور ہا تھیاں بھی کچھ بہتری کی جانب گا مزن ہیں یا صورت حال دگر گوں ہے ، کیا ہا تھیاں سات ہی ہیں یا بڑھ گئیں ہیں؟۔ یہ تحریر چند اقسام پر مشتمل ہو گی اور آج پہلی قسط اس اُمید کیساتھ پیش کی جا تی ہے کہ نہ صرف عوامی حلقوں کے زیر نظر رہے گی بلکہ حکو متی حلقوں تک پہنچ پا ئے گی ۔۔ ( جا ری ہے)

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔