بگروٹ ہاسٹل گلگت

بگروٹ ہاسٹل گلگت

98 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

از تحریر : امیر حیدر بگورو

بگروٹ ہاسٹل   گلگت  میں  کنوداس کے  مقام پر بنایا گیا   جیسا کہ اس کے نام سے ہی اندازہ ہوتا ہے کہ اس کو اُسی وقت طالبعلموں کے  رہائش کے  مسلے اور مثائل  کو مد نطر رکھ  کر بنایا گیا تھا۔  مجھ یاد ہے میٹرک کا طالب علم تھا گلگت میں معروف  ً شاہ کوچنگ سنٹر ًمیں  ٹیوشن کی کلاسیں لے رہا تھا۔ ایک دن تعرفی نشت  میں اصغر شاہ  استاد جو کیمسٹری کے معروف ٹیچزر میں  شمار ہوتا ہے میرا تعرف کروانے بعد  کسی بات بات پر کہا کہ اپ جانتے ہیں بگروٹ ہاسٹل کنوداس کے بارے میں ، جب میں نے نفی  میں سر ہلایا تو ٹھنڈی آہ لینے کے بعد بولا  کہ اس ہاسٹل کو بڑی پلانگ کے تحت کھنڈرات میں تبدیل کروایا۔ جس میں  اُس زمانے کے اعلٰی گورنمنٹ کے افسران کا ذکر کیا تھا جن کی بدولت بگروٹ ہاسٹل کو ویرانے میں تبدیل کیا۔ اس زمانے میں طالب علم تھے تو کچھ خاص اندازہ نہیں ہوا لیکن ابھی سمجھ میں اتا ہے ۔ خیر دوئم ذکر ایک دفعہ جب میں قراقرم یونیورسٹی میں بگروٹ اسٹوڈنٹ ارگنائزیشن کا صدر  نشین تھا   کسی تنظیمی  معاملے میں بگروٹ سے تعلق رکھنے  والے  گلگت بلتستان کے معروف ڈاکٹر حسین علی صاحب کی کلینگ میں ان سے ٹائم لینے کے بعد ملاقات کا موقعہ  بخشا۔ موصوف کے ساتھ ملاقات میں کچھ دوسرے احباب بھی شامل تھے باتوں باتوں  میں بگروٹ ہاسٹل  کا ذکر ایا۔اور موصوف فرما رہے تھے کہ  اس ہاسٹل سے مستفید ہونے والوں  میں وہ خود بھی شامل تھے اور بہت سارے احباب کا ذکر بھی کیا  جنہوں نے اس ہاسٹل میں رہ علم کی دولت حاصل کی ۔ اور موصوف بتا رہا تھا  کہ اس ہاسٹل سے نکلنے والے طلبہ اب  اچھے  گورنمنٹ کے عہدوں میں فائز ہیں۔

عزیز دوستوں بگروٹ ہاسٹل کی تاریخ کافی پرانی ہے    اس ہاسٹل نے بڑے نشیب و فراز دیکھے ہیں۔ کبھی وقت تھا کہ  یہ ایک روشن مستقبل کی علامت سمجھا جا رہا تھا لیکن اس قوم کی بدقسمتی ایک وقت آیا  کہ اس کی رینوویشن کے غرض  سے  ایک شخص نے  اس ہاسٹل کو گرایا اور  رینویشن کے مد  میں دیے جاتے والے پیسوں کو لے کر غائب ہو گیا یوں ایک لمبے عرصے تک ہاسٹل  کھنڈرات میں تبدیل ہو گیا۔  مجھ یاد 2004-5 میں جلال اباد سے تعلق رکھنے والے  کچھ احباب کراچی تشریف فرما تھے جو ہاسٹل کے دوبارہ تعمیر کے لیے چندہ اکھٹا کرنے ائے تھے۔ اس کے  بعد انہوں نے شیخ ناصر زمانی  کے ساتھ مل کر ہاسٹل کر 2010 میں ایک دفعہ پھر  چلنے کے قابل بنایا۔ اُسی دوران   ایک تنازعہ بھی چلا بگروٹ ہیراموش کے لوگوں کے درمیان اور معملہ کورٹ تک جا پہنچا۔ خیر میرا مقصد تنازعہ  کا بیان کرنا نہیں ہے ۔ اخر میں بگروٹ سے تعلق رکھنے   لوگوں نے  کورٹ میں بریت کے بعد ہاسٹل سے ہیراموش کے طلبہ کو  فارغ کروایا۔

یوں ایک بڑے تنازعے کے بعد ہاسٹل  کو ایک غیر مقامی  ارارہ غازی فونڈیشن کو کرایہ پر دے دیا۔  جہاں پر تقریبا تین چار سال تک اسکول اور کالج کی کلاسیں چل رہی تھی۔ اللہ  اللہ خیر صلح    کر کے ایک تنازعے سے فارغ ہونے کے بعد لوگوں نے سکھ کا سانس لیا ہو ا تھا اور کسی کو پتا تک نہیں تھا کیا ہو رہا ہے    شاید پس پردہ کچھ  سین چل رہا تھا لیکن دو تین دن پہلے  اچانک  نظر سوشل میڈیا  کے کسی پیج میں  پڑی جب دیکھا تو ایک شور پرپا تھا۔ پھر جب تفصیلات  دیکھی  انذازہ ہوا  کہ  بگروٹ کے تعلق رکھنے  کچھ احباب ایک گروں مخالفت میں اور دوسرا گرو اس کی حمایت میں  لہو گرما دینے والی بحث کر رہے تھے۔  چونکہ سوشل میڈیا اج کل ایک ایسا فورم بن گیا ہے جہاں معمولی  سے معمولی اور  بڑی بڑی چیزیں   زیر بحث آتی ہیں جن کے مخالفت اور حق میں دلائیل دیے جاتے ہیں۔ ہمیں اس کو منفی نہیں لینا چاہیے سماجیات کے حساب سے کنفلیکٹ اچھا ہے جس کی وجہ سے  مس انڈسٹینڈک ختم ہوتی ہیں اور یوں کمیونیکشن کا خلاء پر ہو جاتا ہے۔   خیر جب احباب کے دلائیل کو اور ان  کی کفتگوں کو دیکھا تو     اس بنیادی ایشو کو سمجھنے کی کوشش کی۔ جس کے لیے کافی احباب سے رابطے بھی کیے۔  تا کہ اس ایشو کی جڑ تک پہنچ سکوں۔   کچھ دوستوں سے اس سلسلے میں رابطہ ہوا  لیکن کچھ دوستوں سے  بات نہیں ہو سکی ۔ ویسے بھی تمام  احباب کی رائی قدرے دشوار کام ہے ۔ بہت احباب   سے پوچھا بھی کہ  اصل مسلہ کیا ہے۔ تو   ناظرین  اس مسلے کو میں جیسے سمجھا  ویسے ہی لکھنے کی کوشش کی ہے۔ امید ہے کمی کوتائیوں کو معاف کرینگے۔ جیسے اوپر بیان ہوا ہے غازی فونڈیشن نامی ایک پرائیوٹ ادارے کا اسکول ختم ہونے کے کافی ٹائم بعد  جو رجسڑ تنظیم (انجمن امدالمسلمین) ہے جس نے  مختلف لوگوں سے چندے  جن میں بگروٹ، شروٹ اور  ہیراموش  قابل ذکر ہے  کے تعاون سے   بنایا گیا یہ ہوسٹل  اور اس کی انتظامیہ نے  ایک  تعلیمی ادارے کا قیام عمل میں  لایا جس کا نام  بگروٹ بورڈنگ  انسٹیٹوٹ اف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی  (بی بی آئی ایس ٹی ) رکھا۔  اور فیصلہ کیا کہ موجودہ بگروٹ ہاسٹل میں  اس  ادارے کی کلاسیں چلانے کا پروگرام کیا۔  جس کا سوشل میڈیا میں تصویر بھی آویزاہ کیا گیا ہے۔   یہ سن کر نہایت خوشی ہوئی  کہ اب ایک ادار بنایا جا رہا ہے جس  میں بگروٹ سے تعلق رکھنے والے نہایت ہی  قابل  سپوت  جن  کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں  وہ خدمات انجام دینگے  جب ڈاکٹر شبیر جو حال ہی کیمسٹری میں پی ایچ ڈی کی ڈگری لی ہے  اور ڈاکٹر شمشیر  جو پی ایچ ڈی کررہا ہے اور قراقرم یونیورسٹی  سے وابستہ ہے  کا نام  سنا تو  نہایت مسرت ہوئی۔  ایسے پڑھے لکھے لوگوں کا یہ  اقدام نہایت ہی قابل تعریف ہے اور قابل تحسین ہے۔  لیکن حالیہ دونوں  میں جو حالات سوشل میڈیا میں پیدا ہوئے ہیں  ان کے پیش نظر کچھ پیش بندی کے اقدامات کی ضرورت ہے۔ تا کہ یہ مسلہ احسن طریقے سے حل ہو سکے ۔  میں ذاتی طور پر دیکھ رہا تھا سوشل میڈیا میں فریقین ایک الجھن کا شکار تھے   جب میں نے ان ایشو کا حل طلب کیا تو  ان کے پاس شاید کوئی  حل نہیں تھا۔   ان  کی آئیں بائیں شائیں دیکھ کر سوچا کیوں نہ اس مسلے پر سوچا جائے    اور اس کا حل بتا دیا جائے  لہذا قارئین ملا حظہ کرے میری ناکس عقل کے مطابق  اس مسلئے کو اس   طرح حل کر سکتے ہیں

ایک تو بہت سارے ناقدین  اس ادارے کے نام  پر نام پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس سے علاقے کو کیا فائدہ ہو گا۔   دوئم وہ ادارے کی حق ملکیت کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔ یہ تو  روز روشن کی طرح عیاں ہیں  کہ کوئی بھی غیر منافہ بخش ادارے کے اپنے حدود قیود ہوتے ہیں   اول :انجمن امداد المسلمین  ایک   غیر منافہ بخش  ادارہ ہے  اور ایک غیر منافہ بخش  ادارہ  کا اپنا ایک مخصوص دائرہ کار ہوتا ہے جو کہ مندرجہ ذیل ہیں ۔   کوئی بھی غیر منافہ بخش ادارہ کی جرنل باڈی ہوتی ہے جسکو بنیفشریز بھی کہا جاتا ہے۔ اب یہی جرنل باڈی  بورڈ  آف گورنسس کا انتخاب کرتے  ہیں  جو تعدادمیں چھےسے اوپر ہوتے ہیں جن کو جرنل  باڈی منتخب کرتی ہے  اور ان کا  ٹنیور ایک سے چار سال تک  ہوتا ہے۔ اس کے بعد جرنل باڑی نئے چیرمین کو منتخب کرتی ہے یوں چیرمین اپنی ٹیم بناتا ہے  اب  بگروٹ ہاسٹل کی انتظامیہ کو چاہیے کہ اس ادارے کو جدید بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے    اس  کے انتظامی امور کو احسن طریقے سے نبھانے کے لیے  جرنل باڈی الیکشن کروائے جو  ایک پڑھے لکھے شخص کو چیرمین منتخب کرے  اور چرمین اپنی ٹیم کا انتخاب کرے گا ۔  جس کا سالانہ باقائدہ ایک  غیر جانب دار ادارہ  ایوالوشن کرے اور اس کی باقائدہ رپورٹ عام کیجائے۔ دوئم :چونکہ ادارے کے قیام میں مختلف لوگوں نے   اس ادارے کے لیے فنڈنگ کی ہے جیسے کہ اوپر  ذکر ہو چکا ہے ان علاقوں کے طالب علموں کو  باقائدہ فیس میں رعایت دی جائے۔  اور چونکہ ادارہ  خاص کر بگروٹ ہاسٹل کے نام  مشہور ہے  بگروٹ سے تعلق رکھنے والے کم از کم ہر کلاس میں پانچ ہونہار بچوں کو  ممکن ہو فری اگر ممکن نہیں ہے کم ازکم آسی فیصد فیس کی رعایت کے ساتھ   جدید زیور تعلیم سے آراستہ کیا جائے۔ سوئم :بگروٹ ہاسٹل کی بلڈنگ کافی وسیع و عریض رقبے پر پھیلی ہوئی ہے   جس کے ایک حصے میں  اسکول کی مد میں پیدا ہونے والی آمدنی سے باقائدہ  شاہ کریم ہاسٹل طرز کا جدید ہاسٹل بمعہ لائبریری قائم کیا جائے۔ تاکہ  اسکول اور کالج کے طالب علم جو  پس ماندہ علاقوں  سے ہیں، وہ با آسانی  کتابوں اور رسالوں تک رسائی حاصل کرے۔  چہارم  :ادارے کے نگران  کو چاہئے کی تعلیم کے ادارے کے بہترین مفاد کو مد نطر رکھتے ہوئے کسی قسم کی سفارش، سیاست اور اقربہ پروری سے  پاک کر ٹیسٹ انٹریوز کی بنیاد پر بہترین اساتذہ کا انتخاب کرے اور سکول کے بہترین مفاد میں  ان کی تنخواہوں کا بندوبست کرے۔  تاکہ وہاں پڑھانے والے اساتذہ  کسی بھی مالی پریشانی سے نکل کر ادارے کی بہتری کا سوچیں۔  پنجم :ادارے  اور عوام کے بہترین مفاد کو مدنظر رکھ کر   بگروٹ سے تعلق رکھنے والے  پڑھے لکھے جوان جو علاقے میں موجود  ہیں ان کے ساتھ  مختلف پرگرامز کر کے ان سے وولنٹیرز کا کام لیا جائے تاکہ   کمیونیکشن کا خلا پُر ہو۔ اور ایک دوسروں کے خلاف پائی جانے والی بدگمانیوں کا بھی خاتمہ ہو۔  اور مختلف سماجی تنطیموں  کے ساتھ تعلقات اور جدید طرز ہا سٹل کے قیام کے لیے انہی وولنٹیرز کے ساتھ  پروپوزلس لکھوا  کر  مختلف اداروں میں جمع کرایا جائے تاکہ مستقبل میں ادارے کو جدی خظوط پر استوار کیا جائے۔  ششم    :انجمن امداد المسلمین  چونکہ ایک لمبے عرصے تک غیر فعال رہی ہے  اس کو کمیونٹی میں اپنی جڑیں  مظبوط کرنے کے لیے  بگروٹ کے مختلف گاؤں   میں جا کر لوگوں  کے ساتھ ادارہ اور تنظیم کی بہتری  کے باقائدہ بات چیت کا سلسلہ شروع کرے۔  ا س سے لوگوں میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ ہوگا یوں ادارے کی بہتری  کے لیے راہیں ہموار ہونگی۔   چونکہ ہاسٹل کو  جانے انجانے میں لوگ   بورڈ اف گورنسس کی ذاتی ملکیت سمجھتے ہیں   یہ دنیا  کی کسی بھی تنظیموں میں ایسا نہیں ہوتا ہے  کہ اس ادارے کے اثاثے کسی کا ذاتی سرمایہ ہوتا ہے     کسی بھی تنظیم کے دو قسم کے اثاثے ہوتے ہیں  ایک کو فیکس  اثاثے کہا جاتا ہے  جس میں اس ادارے میں موجود جائداد ، گاڑی وغیرہ شا مل ہیں   جبکہ دوسرے  کرنٹ اثاثے کہا جاتا ہے   جس میں تنظیم کے سٹاک میں موجود اشیاء شامل ہیں  ان  اثاثہ جات کو مزید جسمانی لحاظ سے تین حصوں میں تقسیم کرتے ہیں ایک کو ًٹینجبل ًنظر آنے والے اثاثہ جات کہتے ہیں  جن  میں شامل وہ تمام اثاثہ جات ہیں  جو کو اپ چھو سکتے ہو دیکھ سکتے ہو جیسے لیپ ٹاپ ، کمپیوٹر،  پرنٹر وغیرہ شامل ہے  دوئم  ًاینٹینجبلً اثاثے  جن کو اپ دیکھ نہیں سکتے ہو ان میں اپ کی تنظیم کا نام، گُڈ دل  کاپی رائٹ شامل ہے  اس میں تیسر ے قسم کو  اپریٹنگ ایسڈذ کہتے ہیں  جس میں ادارے کو اپریٹ کرنے والی چیزیں شامل ہیں   یہ تمام اثاثہ جات کسی کسی بندے کا ذاتی سرمایہ نہیں ہوتا ہے  بلکہ وہ تمام ادارے کے سرمایے ہوتے ہیں اب اس طرح انجمن امدادالمسلمین  کو بھی اپنے اثاثے اس طرح جدید خطوط پر استوار کرنا چاہیے۔  ہفتم:   کسی بھی ادارے کے بورڈ اف گورنسس کے ممبرز  اس ادارے کے نان بنیفشریز ہوتے ہیں جو بلواسطہ ہا بلاواستہ  ادارے سے کوئی مالی مفاد نہیں لے سکتے ہیں لہذا  ادارے کو  بہترین انداز میں چلانے کے لیے بورڈ اف گورنسس کو چاہیے کہ   تجربہ کار  افراد پر مشتمل  ایک ٹیم بنائے   جو انجمن کے تمام امور کو نبھائے  ہشتم   : ادارے کو کسی بھی قسم کے ذاتی پسند ناپسند، اقربہ پروری اور سیاست سے دور رکھے تاکہ ادارہ بلا تفریق  علاقے کے لوگوں کی خدمت کرتے ہوئے مستقبل قریب اور بعید میں  گلگت بلتستان کا بہترین ادارہ بن سکے۔

مضمون نگار فورم فار لنگویج انشیٹیوز اسلام آباد میں بطور ٹرینگ کوآرڈینیٹر خدمات سرانجام دے رہاہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔