کام کے دوران زخمی ہونے والے ملازم کو محکمہ برقیات نے ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود علاج معالجے کے اخراجات ادا نہیں کئے

کام کے دوران زخمی ہونے والے ملازم کو محکمہ برقیات نے ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود علاج معالجے کے اخراجات ادا نہیں کئے

10 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

شگر(عابد شگری)محکمہ برقیات بلتستان کی بے حسی کی انتہاء۔محکمے کی مجرمانہ غفلت کا شکار زخمی ملازم کوڈیڑھ سال گزرجانے کے باؤجود محکمہ برقیات کی جانب سے علاج و معالجے کیلئے محکمے کی جانب سے اخراجات کا بل منظور نہ ہوسکا۔محکمہ برقیات کے ملازم محمد علی گذشتہ سال پول کر ریڑھ کی ہڈی ٹوٹنے سے بستر علالت پر ہیں۔اب تک چودہ لاکھ علاج پر خرچ آیا ہے۔تفصیلات کیمطابق محکمہ برقیات شگر کے ملازم محمد علی جو کہ جولائی 2015میں یونو کے مقام پر بجلی کی پر کراس ٹھیک کراتے ہوئے گرنے کی وجہ سے ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گیا تھا۔جس کی علاج کیلئے کئی دفعہ اسلام آباد لے جاچکے ہیں۔اور اب بھی گھر پر بستر علالت پر موجود ہیں۔ علاج کی تمام تر اخراجات گھر والوں نے خود کیا ہے۔ جبکہ محکمے کی جانب سے صرف پچاس ہزار روپے حادثے کی روز منہ بند رکھنے کیلئے دیا گیا تھا۔اس کے بعد سے کسی بھی اہلکار یا آفیسر نے زخمی ملازم کی عیادت کرنا بھی توہین سمجھا ہوا ہے۔جبکہ بلوں پر اعتراضات لگا کر واپس کیا جارہا ہے۔ ان کے بھائی کے مطابق انہوں نے مایوس ہوکر اب محکمے کو دوائیوں کی بلز دیا ہی چھوڑ دیا ہے۔ان کی مطابق ان کے بھائی کا حادثہ محکمے کی جانب سے مبینہ غفلت کی وجہ سے پیش آیا ۔ اتنے خطرنات پول پر چڑھنے کیلئے سب انجینئر کی جانب سے شدید دباؤ تھا جبکہ حفاظتی یونیفارم اور آلات نہیں دیا گیا۔ لیکن حادثے کے اگلے روز بعد ہارنس سمیت تمام آلات فوری پہنچا دیا گیا تھا۔ اگر حادثے سے پہلے یہ سامان مہیا کیا جاتا تو ان کے بھائی اس حادثے سے بچ سکتا تھا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ انہیں علاج کے اخراجات اور بھائی کی زخمی ہونے سے زیادہ مایوسی محکمے کی حکام کے روئے سے ہوتا ہے۔انہوں نے گلگت بلتستان کے اعلی ٰ عدلیہ کے ججز سے اپیل کی ہے کہ وہ محکمے اس مجرمانہ واقعے کی جوڈیشل انکوائری کریں اور انہیں انصاف دلایا جائے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔