کیو با اور کا سترو 

کیو با اور کا سترو 

14 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ٹوپی ،سگار ،کیوبا اور کاسترو اخباری دنیا کے لئے جا نے پہچانے نام ہیں کیو با کے مرد آہن فید ل کاسترو نے عمر بھر ایک ہی طرز کی ٹوپی پہنی ایک طرز کا سگار پیا اور اس نے کیوبا جیسے چھوٹے ساحلی ملک کو امریکہ جیسی بڑی طاقت کے لئے سانپ کے منہ میں چھچھوندر بنا دیا جسے نہ نگلا جا سکتا تھا نہ اگلا جا سکتا تھا نصف صدی تک وہ غریبوں ،کسانوں ،مزدوروں اور بے کسوں کے رہنما کی حیثیت سے جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے لئے خوف اور دہشت کی علامت بن کر دکھا یا انہوں نے غیر ترقی یافتہ اور کم ترقی یافتہ مما لک کے لئے سرد جنگ کے زمانے میں تیسری دنیا کی اصطلا ح وضع کی اور سرد جنگ کے زمانے میں تیسری دنیا کی الگ تنظیم بنا کر امریکہ اور سویت یونین کے دائیں اور با ئیں بازو الے دونوں گروہوں سے الگ شنا خت دیدی اُس کو افتدار سے ہٹانے کے لئے امریکی حکومتوں نے 4بار افغانستان کی طرح کیوبا پر بڑے فضائی اور زمینی حملے کئے مگر ناکام ہوئے سی آئی اے اور ایف بی آئی نے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے اُن پر 634 بار قاتلانہ حملے کروائے مگر اُن کو قتل کرنے میں ناکا م ہوئے افغانستان کے ساتھ ان کے نام کا ایک اور تعلق بنتا ہے افغان جنگ دراصل 1959 ؁ء میں کیوبا سے شروع ہوئی امریکہ نے کیوبا میں شکست کا بدلہ لینے کے لئے ویٹ نام پر حملہ کیا ،ویٹ نام میں شکست کا بدلہ لینے کے لئے افغانستان کے اندر خانہ جنگی کروائی اس خانہ جنگی میں دونوں جنگوں کو شکستوں کا بدلہ لے لیا فیڈل کاسترو کی کہانی ایک جاگیر دار کے مزدور بیٹے کی کہانی ہے جس طرح مارٹن لوتھر پادری کا بیٹا تھا پاپا ئیت کے خلاف بغاوت کا ہیرو بن گیا اسی طرح فید ل کا سترو جاگیردار گھرانے میں پیدا ہوا 1926 ؁ ء سے 2016 ؁ ء تک 90 بر س کی عمر پائی ،8سال گوریلا جنگ لڑی ،6 سال قید بند میں گزارے دو سال کی جلا وطنی کاٹی ۔موت سے 8سال پہلے اقتدار سے رضا کارانہ علحیدگی اختیار کر کے گوشہ نشینی کی زندگی اختیار کی یہ ان کی زندگی کا خلاصہ ہے مگر یہ ایسا خلاصہ نہیں جس کو بھلا یا جا سکے جو لوگ 1960 ؁ء کے عشرے میں اخبار پڑھتے اور خبر یں سنتے تھے ان کو یاد ہوگا اُس دور میں تین بڑے نام تھے جو امریکہ کی نظروں میں کھٹکتے تھے فیڈ ل کا سترو ،چی گوہرا ،یا سر عرفات یہ تین نام دنیا بھر میں انقلابی نو جوانوں کے لئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتے تھے سویت یونین اور امریکہ کے درمیان سر د جنگ میں کیوبا کی بڑی اہمیت تھی امریکہ مشرقی یورپ میں اپنے دفا عی نظام ،میزائل کے تنصیبات اور دفاعی معاہدوں کے ذریعے سویت یونین پر وار کرنا چاہتا تھا 1961 ؁ء میں جنگ نے اُس وقت پلٹا کھایا جب فیدل کا سترو نے امریکہ کے بغل میں کیوبا کی ساحل پر راتوں رات سویت یونین کو اپنے بیلسٹک میزائل نصب کرنے کی سہولت دے کر سویت یونین کی فوجی طاقت کو امریکہ کے سرپر لا کر بٹھادیا اور شمالی امریکہ کا یہ چھوٹا ملک سپر طاقت کے لئے چیلنج بن گیا اب تک ایک چیلنج کی صورت میں موجود ہے ۔

فیدل کاسترو نے 13 اگست 1926 ؁ء کو بیران نامی گاوں میں آنکھ کھولی ان کا والد اینجل کاسترو جا گیر دار تھے 1950 ؁ء میں انہوں نے ہوانا یونیورسٹی کے لاء سکول سے قانون کی اعلیٰ ڈگری حاصل کی یہ دور کیو با میں امریکی ظلم و ستم کا دور تھا کسان ،مزدور اور غریب طبقہ پر زندگی تنگ کر دی گئی تھی زمانہ طالب علمی میں کاسترو امریکہ مخالف طلبہ تنظیم کے سرگرم رکن تھے وکالت کا پیشہ اختیار کرنے کے بعد وہ کیوبا کی کمیو نسٹ پا رٹی کے رکن بن گئے 1953 ء ؁ میں انہیں انتخابات میں پارلیمنٹ کی رکنیت کا ٹکٹ ملا مگر امریکہ جنرل بالستا (Gen.Balista) کے ذریعے مارشل لاء لگا کر انتخابات نہیں ہونے دیا آئین معطل ہوا شہری حقوق سلب کئے گئے فیدل کاسترو اور ان کے ساتھیوں نے بغاوت کا علم بلند کیا اور گوریلا جنگ کا آغاز کیا 1959 ؁ء با لستا حکومت کا تختہ اُلٹ کر فید ل کا سترو اقتدار میں آئے اقتدار میںآکر انہوں نے امریکہ کو زچ کرنے کے لئے چار بڑے کام کئے غریبوں کے لئے مکانات کے کرائے 50 فیصد کم کروائے ۔اپنی زمینوں کے ساتھ تمام جا گیرداروں کی زمینیں کسانوں میں تقسیم کئے جنرل بالستا اور ان کے وزراء کی جائیداد وں کو ضبط کر کے قومی ملکیت قراردیا گوروں اور کالوں کو مساوی حقوق دیدئے کالوں کے لئے الگ پارک،الگ سکول ،الگ بس ،الگ کلب ،الگ قبرستان کا سسٹم ختم کر دیا ان چاراقدامات نے فیڈل کا سترو کو کیوبا کا ہر دلعزیز عوامی لیڈر بنا دیا پہلے ہی سال عوام کو تبدیلی نظر آگئی اس کے بعد امریکہ کے خلاف فیدل کا سترو کی کھلی جنگ شروع ہوئی امریکی صدر آئزن ہاور نے مارچ 1960 ؁ ء میں فیدل کا سترو کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے 13ملین ڈالر جاری کر دیے جان ایف کینڈی صدر بن گئے تو انہوں نے B-26 طیاروں کے ذریعے ہوانا پر فضائی حملے کا حکم دیا چار بڑے حملوں میں امریکی فضائیہ کو کامیابی نہیں ملی فیدل کاسترو اپنی بے سروسامنی کے باوجود کامیاب رہے اُس دور میں سی آئی اے کے ایجنٹوں نے ان کے خلاف کئی مضحکہ خیز منصوبے بنائے ایک منصوبہ یہ تھا کہ ٹیلی وژن پر قوم سے خطاب کے لئے جس سٹوڈیومیں جاتے ہیں اُس سٹوڈیومیں زہریلے گیس کے ذریعے فیدل کاسترو کو ہلاک کیا جائے ایک منصوبہ ایسابھی تھا کہ فیدل کا سترو کے جوتوں میں تحصیلئیم گیس کا چھر کا ؤ کیا جائے تاکہ پاوں کے ذریعے ان کے جسم میں زہرداخل کیا جاسکے مگر جسے خدا رکھے اسے کون چکھے فیدل کاسترو نے آئزن ہاور سے لیکر جا رج ڈبلیوپُش تک 10امریکی صدور کو اپنے جوتوں کی نوک پر رکھا امریکی فوج اور فضائیہ کو ناکوں چنے چبوائے 82سال کی عمر میں جب صحت مند اور چاق و چوبند تھے اقتدارسے علحیدگی اختیارکر لی وہ 1959 ؁ء سے 1976 ؁ء تک کیوبا کے وزیر اعظم اور 1976 ؁ء سے 2008 ؁ء تک ملک کا صدر رہے کمیونسٹ پارٹی آف کیوبا نے ان کے چھوٹے بھائی اور 1953 ؁ء سے ان کے جدو جہد کے قریبی ساتھی رافل کا سترو کو صدارت کے منصب پر فائز کیا فیدل کا سترو نے کیوبا کو چار حوالوں سے دنیا میں شہرت دی کیوبا میں میڈیکل کی تعلیم اور صحت کا نظام دنیا میں پہلے نمبر پر ہے 2005 ؁ء کے زلزلے کے موقع پر ہزار ہ اور کشمیر میں سب سے پہلے کیوبا کے ڈاکٹروں کی ٹیم پہنچ گئی تھی اور فیڈل کاسترو نے پاکستان کے 5 ہزار نو جوانوں کو کیوبا میں میڈیکل کی تعلیم دلوانے کی پیش کش کی تھی دوسری اہم بات یہ ہے کہ کیو با کو معاشی لحاظ سے مستحکم ملک بنا دیا اور معاشی فوائد میں عوام کو برابرکا حصہ دار بنایا تیسری اہم بات یہ ہے کہ کیوبا کو فوجی طاقت اور دفا عی لحاظ سے ناقابل تسخیر ملک کا درجہ دیا اور چوتھی قابل ذکر بات یہ ہے کہ کیوبا کو سیاسی استحکام دیا کمیونسٹ پارٹی آف کیوبا نے ملک میں عوامی حقوق ،شہری آزادی ،سماجی مساوات اور معاشرتی انصاف کا قابل تقلید ماڈل پیش کیا ہے اور یہ فیدل کاسترو کی سب سے بڑی کامیابی ہے فیض نے ایسے ہی لوگوں کی موت پر کہاتھا ۔

کر و کج جبیں پر سر کفن ،میر ے قاتلوں کو گما ں نہ ہو
کہ غرورِ عشق کا با نکپن ،پس مر گ ہم نے بھلا دیا

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔