آئینی اصلاحات اور پانچواں صوبہ

تحریر: فہیم اختر

گلگت بلتستان کی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کرنے اور کسی بھی قسم کی اصلاحاتی کوشش پر مقامی سٹیک ہولڈرز کی جانب سے اس پر ردعمل سے اس نتیجہ پر پہنچا جاسکتا ہے کہ گلگت بلتستان کے لوگ بنیادی حقوق پر بھی ایک نظریاتی وابستگی کا ’ٹھپہ ‘ اور ’لیبل‘کے ساتھ اس کو قبول یا مسترد کرتے ہیں۔کثیرالخیالی معاشروں میں اس بات کی گنجائش رکھی جاتی ہے کہ آپ اپنے خیال کو حاوی قرار دیکر دوسرے کی رائے اور خیال کو ختم نہ کردیں ۔ گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کا مقدمہ بھی اسی صورتحال سے دوچار ہے ۔ 1947میں بغیر بیرونی امداد کے ڈوگرہ راج سے آزادی حاصل کرنے کے بعد اس خطے کا سفر بے سمت رہا ہے ۔ گلگت بلتستان ریاست کشمیر کا حصہ ہے، اپنا الگ حیثیت اور مقام رکھتا ہے یا پھر مکمل طور پر پاکستان کا آئینی علاقہ ہے ، یہ بحث 70سالوں سے ختم نہیں ہورہی ہے اور آئندہ بھی یہ بحث ختم ہوتی فی الحال نظر نہیں آرہی ہے ۔

حکمران جماعت مسلم لیگ ن نے نازک موقع پر موجودہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں توقع سے زیادہ پھرتی دکھاتے ہوئے نیا اصلاحاتی پیکج تیار کردیا ہے کیونکہ حکمران جماعت اپنے سیاسی سفر کے انتہائی حساس اور تاریخی موڑ پر کھڑا ہے جہاں ایک طر ف پارٹی قائد کو وزارت عظمیٰ سے نااہل قرار دیکر گھر بھیج دیا گیا وہی پر انہیں سیاسی عہدے سے بھی نااہل قرار دیدیا گیا ہے ۔ وزیراعظم نوازشریف ہونے اور شاہد خاقان عباسی کے ہونے میں عمومی لحاظ سے بہت فرق ہے ۔لیکن شاہد خاقان عباسی نے چند مہینوں کے اندر ہی سفارشات اور اصلاحات مکمل کرلیا جس کا چند دنوں میں نوٹیفکیشن یا باضابطہ اعلان متوقع ہے ۔ یقیناًاس ’پھرتی ‘ پر حکمران جماعت خراج تحسین کی مستحق ہے ۔اس اصلاحاتی پیکج کی تفصیلات اور ڈاکومنٹس اب تک سامنے نہیں آسکے ہیں تاہم حکمران جماعت کے رہنماؤں اور دیگر زریعوں سے ملنے والی معلومات کے مطابق اصلاحاتی پیکج میں گلگت بلتستان کونسل ختم کرنے کی سفارش کردی گئی ہے ، گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کو ’اپ گریڈ ‘کرکے گلگت بلتستان اسمبلی بنائی گئی ہے جس کے پاس ’آئین پاکستان کے شیڈول IV ‘‘(جس میں صوبوں کے اختیارات کا ذکر ہے )کے مطابق وسیع اور کسی حد تک لامحدود معاملات پر قانون سازی کرنے کے اختیارات ہونگے ۔ تمام معاملات وفاق اور گلگت بلتستان کے مابین بغیر کسی واسطے کے طے پائے جائیں گے اور کشمیر افیئرز کا کردار بالکل محدود کردیا گیا ہے ۔ گلگت بلتستان کے شہری آئین پاکستان کے ایکٹ آف سٹیزن 1951 کے تحت پاکستان کے شہری کہلائے جائیں گے ۔گلگت بلتستان کو مالیاتی اداروں میں بھی نمائندگی ملے گی۔ اس کے علاوہ دیگر معاملات جنہیں صوبائی حکومت کے زمہ داران وقتا فوقتاً سامنے لاتے رہے ہیں۔یہاں ان کی معلومات پر بحث کرنا مقصود نہیں ۔لیکن زمہ دار حلقوں کی جانب سے اٹھنے والے مبینہ خدشات، تحفظات اور آدھے سچ پر چند معاملات سامنے لانے ہیں۔

صوبائی وزیر ڈاکٹر محمد اقبال نے چوتھی مرتبہ مبینہ طور پر اپنی پارٹی پالیسیوں سے منحرف ہوتے ہوئے ’پانچویں‘صوبے کا مطالبہ کردیا ۔ جبکہ اسلامی تحریک کے جنرل سیکریٹری محترم شیخ مرزا علی صاحب نے بھی گزشتہ روز آئینی حیثیت کے معاملے میں اپنی پارٹی پالیسی پر جامع تحریر رقم کرکے ایک صحت مندانہ بحث کا آغاز کردیا ہے ۔ صوبائی وزیر اور جنرل سیکریٹری اسلامی تحریک کا موقف معمولی ردو بدل کے ساتھ یکساں ہے باربار ایک موقف کو دہرانے سے ان کے اس نعرے کے ساتھ محبت اور خلوص بھی صاف ظاہر ہورہی ہے ۔ اور پانچویں آئینی صوبے کے لئے دلائل سامنے لانے کا اپنا انداز اور نظریہ ہے ۔ بنیادی طور پر تقسیم برصغیر سے پہلے اور بعد میں تین بڑے واقعات رونما ہوئے ہیں۔ پہلا واقعہ گلگت بلتستان کو واپس مہاراجہ کشمیر کے حوالے کرنے کا تھا۔ دوسرا فیصلہ 31اکتوبر کی رات ہونے والی بغاوت تھی جس نے گلگت بلتستان کو برصغیر کے تقسیم کے تناظر میں ایک الگ مقام دلایا اور گلگت بلتستان میں مقامی حکومت قائم ہوئی اس حکومت کی مصدقہ معلومات کہیں بھی دستیاب نہیں کہ کون کون حکومتی عہدیدار تھے اور کیا تھا۔ یہی سے گلگت بلتستان کے آئینی حیثیت کی بحث شروع ہوجاتی ہے کرنل حسن مرحوم کے بارے میں کتابوں میں درج ہے کہ وہ بلامشروط الحا ق کے مخالف تھے بلکہ سیاسی اور آئینی حیثیت کے تعین کے ساتھ الحاق کے حامی تھے لیکن خاموش ہوگئے کیوں؟ یہ خاموشی بعض دوستوں کی نظر میں 70سالہ محرومی ہے۔ آزادی گلگت کے بعد اگلا جو مرحلہ آیا جس کے بنیاد پر گلگت بلتستان 16روزہ تفریق اور ’چار دنوں کی چاندنی ‘کے بعد دوبارہ ریاست کشمیر کا حصہ قرارپایا۔ اور اقوام متحدہ کے قراردادوں کے مطابق ’حق خودارادیت‘ اور استصواب رائے کے تلوار تلے آگیا۔ یہ حقیقت جتنی بھی تلخ ہی کیوں نہ ہوں دیسی ادویات کی طرح ایک گلاس پانی کے ساتھ پینا ہی پڑے گا کہ جہاں ہم آزادی گلگت ، الحاق پاکستان کو تاریخ کا حصہ قرار دے رہے ہیں وہی پر دوبارہ ریاست کشمیر کا حصہ ہونا بھی تاریخی حقیقت ہے۔ مگرسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان ایک ساتھ اس تلوا ر کے نیچے آگئے ہیں مگر آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے درمیان اب اتنی دوریاں کیوں پیدا ہورہی ہے؟آزاد کشمیر کے سیاستدانوں کا بعض معاملات پر ہتک آمیز رویہ اپنی جگہ لیکن آزاد کشمیر میں بنیادی سہولیات اور ریاستی حقوق وافر مقدار میں مل رہے ہیں گلگت بلتستان میں وہ میسر نہیں ہیں۔ آزاد کشمیر میں ریاستی باشندگان کا قانون محفوظ ہے گلگت بلتستان میں ہر ہجرت کرنے والاباشندہ قرار پایا ہے ۔ وہاں کا سیاسی اور انتظامی نظام گلگت بلتستان سے مضبوط ہے ۔وہاں جنگلات، پانی سمیت زمینوں پر صرف ریاستی شہریوں کا حق ہے جبکہ گلگت بلتستان میں مقامی لوگوں سے زیادہ زمینیں اب سینیٹر طلحہ محمود کی ہے۔وہاں پر پانی اور دیگر معاملات پر سڑکوں پر آنے کی نوبت نہیںآتی ، وہاں پر ٹیکسز کے حوالے سے نظام بلوغت کو پہنچ گیا ہے جبکہ گلگت بلتستان میں اب بھی دھرنوں کی تیاری ہے ۔یہ فرق شاید گلگت بلتستان میں کشمیر کے ساتھ اجنبیت جیسی صورتحال پیدا کررہا ہے ؟لیکن سوالات کا جواب ہم نے مانگنا نہیں ہے اپنی گریبانوں میں جھانکتے ہوئے خود سے پوچھنا ہے۔

گلگت بلتستان کا کشمیر پر اخلاقی برتری ہے کہ استصواب رائے کا حصہ بن گیا ہے جو کشمیر اور کشمیریوں کا بنیادی مطالبہ ہے۔ لیکن اس اخلاقی برتری کو ایک مشہور طعنے کی شکل میں یوں دریا برد کیا جاتا ہے کہ گلگت بلتستان 70سالوں سے کشمیر کی وجہ سے حقوق سے محروم ہیں۔ یہ موقف بھی صوبائی وزیر نے تقریر اور محترم شیخ صاحب نے تحریر میں دہرایا ہے۔ اقوام متحدہ کے قراردادوں کی روشنی میں گلگت بلتستان میں ’مقامی حکومت’ قائم ہونی چاہئے ۔ مگر پہلی بار جماعتی سطح پر انتخابات کا انعقاد ہوا تو اسلامی تحریک واضح نشستوں کے ساتھ جیت گئی جو کسی سطح پر مقامی جماعت نہیں تھی۔ بقول شیخ صاحب 1994سے ہی ہم نے پانچویں نعرے کی بنیاد رکھی جس پر کوئی شک نہیں۔ گویا گلگت بلتستان نے سیاسی سفر کا آغاز ہی اس بات کی نفی سے کردیا کہ ان کا ریاست کشمیر سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اب دوبارہ یہ نعرہ ’کہ 70سالوں سے کشمیر کی وجہ سے حقوق سے محروم رہے ہیں‘ دہرانا کھلا تضاد نہیں؟ دوسری اہم بات یہ کہ ریاست پاکستان کا موقف ہی واضح یہی ہے کہ گلگت بلتستان کشمیر یا مسئلہ کشمیر کا حصہ ہے تو ریاست کو بار باریہ کہنے کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے کہ جی بی کو صوبہ بنانا پاکستان کے مفاد میں ہے ۔ نئے متعارف کردہ اصلاحات میں بھی یہ بات قابل زکر ہے کہ 1951کے سٹیزن ایکٹ کے تحت جی بی کا ہر شہری پاکستان کا شہری کہلائے گا تو استصواب رائے میں حصہ کون لے گا؟ جبکہ ریاست کشمیر کے دونوں حصوں میں شہریوں کے پاس دوہری شہریت ہے ۔ میں نے گزشتہ تحریر میں بھی گزارش کی تھی کہ مطالبات اور ضروریات کو فرق کرنے کی ضرورت ہے ؟ مطالبہ تو جلاوطن کردہ بی این ایف کے رہنما کا بھی تھا لیکن ریاست پاکستان کے پالیسی کے تناظر میں ضروریات مختلف چیز ہے ان ضروریات میں بڑی حد تک چیزیں نئی متعارف کردہ اصلاحات میں موجود ہیں۔

میں محترم شیخ صاحب کے تحریر کا جواب دینے کی غرض سے نہیں لکھ رہا ہوں صرف اس سوال کو اٹھارہاہوں کہ کشمیر کو ’اچھوت ‘سمجھ کر اس سے دور بھاگتے ہوئے پانچواں صوبہ ہی کیوں؟ حالانکہ تاریخی حقائق موجود ہیں ۔ موجودہ اصلاحات سوائے آئین پاکستان کے آرٹیکل 1 کے علاوہ ہر زاویہ سے صوبہ کی شکل میں ہے اور صوبوں کے تمام معاملات اور اختیارات گلگت بلتستان کو منتقل کردئے گئے ہیں۔ موجودہ سیاسی صورتحال میں ریاست شاید عوام کے مطالبے پر اس سے بہتر کوئی قدم نہیں اٹھاسکتی تھی۔صوبائی حکومت جلد از جلد اصلاحات کی تفصیلات کو عوام کے سامنے لائیں تاکہ تنقیدی جائزہ لیا جاسکے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments