’’گلگت بلتستان اخلاقی پستی کے دہانے پر‘‘

’’گلگت بلتستان اخلاقی پستی کے دہانے پر‘‘

12 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر:عقیل نواز

گلگت بلتستان پاکستان کے شمال میں واقع ایک دور افتادہ اور پسماندہ علاقہ ہے۔اگرچہ اس علاقے میں تعلیم اور صنعت کے حوالے سے کوئی خاطر خواہ ترقی نہیں ہوئی لیکن یہاں کی بودوباش اور تہذیب و تمدن اپنی مثال آپ ہے۔اپنی منفرد خوبصورتی کی وجہ سے یہ خطہ سیرو سیاحت کے وسیع مواقع فراہم کرتا ہے اور یہاں کی حسین و دلکش وادیوں کو دیکھنے کیلئے ہر سال ملکی و غیر سیاحوں کی ایک بڑی تعداد اس علاقے کا رُخ کرتی ہے۔یہاں آنے والا ہر سیاح مقامی لوگوں کی شرافت، مہمانوازی اور تہذیب سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ کرسٹ ایسٹروفر(crist Astrofer) کا تعلق لاطینی امریکہ سے ہے۔وہ 2011ء میں اپنے چند دوستوں کے ساتھ گلگت بلتستان آئے تھے۔واپس اپنے ملک جاکر کرسٹ نے’’Land of Humanity‘‘کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے،جس میں انہوں نے پاکستان کی سیاحت کے دوران پیش آنے والے اہم واقعات اور خوبصوت علاقوں کا ذکر کیا ہے۔اس کتاب میں وہ لکھتے ہیں کہ ’’پاکستان کے انتہائی شمال میں ایک بے حد خوبصورت خطہ ہے جہاں کی بودوباش اور رہن سہن کا طریقہ نہایت عمدہ ہے۔یہاں کے لوگوں کی شرافت اور باہمی تعاون سے زندگی گزارنے کے طریقے کو دیکھ کر ہم متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔‘‘

المختصر انہوں نے خلاصہ کے طور پر لکھا ہے کہ اس علاقے میں بالکل وہی حالات ہیں جو ایک تہذیب یافتہ اور باضمیر دنیا میں ہونے چاہیے۔میں نے مسیح کے زمانے کے مثالی اقدار کو دنیا کے ہر کونے میں تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن مجھے کامیابی نہیں ملی۔ مگر اس خطے (گلگت بلتستان) کو دیکھنے کے بعد مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ مسیح کی عظیم تعلیمات کی عملی جھلک یہاں موجود ہے۔

بات صرف کرسٹ کی حد تک محدود نہیں ۔یہاں آنے والا ہر سیاح مقامی لوگوں کے طرز زندگی کو دیکھ کر متاثر ہوتا ہے۔اس علاقے سے تعلق ہمارے لئے فخر کی بات ہے۔ہم عظیم روایات کے امین ہیں۔ہماری تاریخ شرافت اور تمیز سے مزین ہے۔مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہماری سوہنی دھرتی کو بھی شرارت اور بدتمیزی کی ہوا لگ رہی ہے۔آہستہ آہستہ اخلاقی اقدار کا خاتمہ ہورہا ہے اور غیر اخلاقی اور مکروہ سرگرمیوں کو فروغ مل رہا ہے۔گذشتہ سال پولیس کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ گلگت بلتستان خصوصاً سکردو شہر میں جوان لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد منشیات کی عادی ہوچکی ہے۔ اور یہ مرض معاشرے میں ایک ناسور کی طرح پھیلا جارہا ہے۔اس رپورٹ کے متن کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ صرف لڑکیاں ہی اس غیر اخلاقی عمل کا ارتکاب کررہی ہیں ، بلکہ لڑکوں کی حالت اس سے بھی زیادہ بدتر ہے۔

اس خبر کو پڑھنے اور سُننے کے بعد ہر باضمیر شخص کے رونگٹے کھڑے ہوگئے تھے۔ہر طرف سے تشویش کا اظہار کیا گیا۔حکومتی نمائندوں کی جانب سے روایتی انداز میں سختی سے نوٹس لیا گیا مگر قوم دیکھ رہی کہ نوجوان نسل کو برباد کرنے والوں کے خلاف کسی طرح کی کوئی کاروائی نہیں ہوئی اور وہ آج بھی بلا روک ٹوک ان ناجائز سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔یقیناًیہ ایک انتہائی تشویش ناک امر ہے۔اس سے بھی زیادہ تشویشناک امریہ ہے کہ بات منشیات فروشی سے بڑھ کر جسم فروشی تک پہنچ چکی ہے۔ گذشتہ دنوں ایک قومی اخبار’’The Daily Times‘‘نے ایک لرزہ خیز انکشاف کیا۔مذکورہ اخبار کے ایک صحافی نے وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں ہونے والی جسم فروشی کے حوالے سے ایک آرٹیکل لکھا ہے۔نہایت افسوس کی بات یہ ہے کہ اس رپورٹ میں برملا یہ کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میں جسم فروشی کے دھندے میں ملوث عناصر کو گلگت بلتستان کے اراکین اسمبلی کی حمایت اور تعاون حاصل ہے۔یہ انکشاف یقیناًایک چونکا دینے والی خبر ہے۔یہ محض ایک خبر نہیں ایک حقیقت ہے۔جس کے بارے میں گلگت بلتستان کے اکثر لوگ باخبر ہیں۔لیکن کسی نہ کسی وجہ سے اس کے خلاف جانے سے قاصر ہیں۔ کسی کی سیاسی مجبوری ہے تو کسی کی مذہبی، کسی کی رشتہ داری مجبوری بن رہی ہے تو کوئی ان نامرادوں سے فیض حاصل کررہا ہے۔ اب مفادات کے تلے دبنے کا وقت نہیں۔ہر قسم کی تفریق اور مفاد سے بالاتر ہوکر ایسے عناصر کے خلاف جدوجہد کی ضرورت ہے۔

دو سال قبل بھی اس طرح کی خبریں گردش کرنے لگیں تھیں جب ایک مقامی صحافی نے نے انکشاف کیا تھا کہ وفاق سے گلگت بلتستان آنے والے آفیسروں اور مہمانوں کی تواضع نوجوان لڑکیوں کی عصمت فروشی سے کی جاتی ہے۔اب ایک مرتبہ پھر گردش کرتی یہ خبریں اس بات کی متقاضی ہیں کہ اس حرام فعل میں ملوث عناصر کو بے نقاب کر کے قرار واقع سزا دی جائے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان مکروہ سیاست دانوں کے علاوہ عوام کی ایک بڑی تعداد بھی اس جرم میں شریک ہے۔سکردو اورگلگت میں جاری یہ بدترین فعل مقامی لوگوں کے تعاون سے ہی انجام پاتاہے۔ ایسے تمام عناصر کی بھی حوصلہ شکنی کی ضرورت ہے۔ سول سوسائٹی کے نام پر موم بتیاں جلانے والوں کو چاہیے کہ ایسے سنگین ایشوز کے خلاف بھی آواز اُٹھائیں۔ اگر کہیں سے اس امر کے خلاف آواز اٹھے گی تو مجھے یقین ہے کہ ہر باضمیر شخص اس تحریک کا حصہ بنے گا۔

معاشرے کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے لوگوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں ۔اب بھی دیر نہیں ہوئی۔اگر یہ آگ نہ روکی گئی تو پھر یہ گاؤں گاؤں بلکہ گھر گھر پہنچ سکتی ہے۔لہٰذا اس مسئلے کو بیانات کی حد تک رکھنے کے بجائے عملی اقدامات کی ضرورت ہے اوراس ضمن میں تعلیم یافتہ طبقے کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہوگا۔

آخر میں ایک بات لاطینی سیاح کرسٹ کے حوالے سے کرنی ہے ۔ کرسٹ آج سے تقریباً چھے سال قبل گلگت بلتستان آئے تھے۔اگر وہ آج ایک مرتبہ پھر یہاں آئیں تو انہیں یقین نہیں ہوگا کہ یہ وہی خطہ ہے جو انہوں نے چھ سال قبل دیکھا تھا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔