گورنمنٹ ہائی سکول بمبوریت 

16 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

وادی بمبوریت کو پسماندہ کہنے والے بھول جاتے ہیں ۔کہ اس پسماندہ وادی میں ذہنیں ،سوچیں ،تہذیب و تمدن اور کردار بلند ہیں ۔۔گھروں کا کیا گھر چھوٹے سائز کے چوبی کیبن نما ہیں ۔۔مگر وہاں سے اٹھنے والے بلند مقام ہیں ۔۔آنکھوں میں روشنی ،دل میں خلوص اور باتوں میں خوشبو ہے ۔۔تمدن نرالی ہے ۔اس لئے ساری دنیا کی توجہ اس طرف ہے ۔لوگ آتے ہیں اور مدہوش ہو جاتے ہیں ۔۔گورنمنٹ ہائی سکول بمبوریت ان لوگوں کے کردار اور شرافت میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔یہاں پہ پڑھانے والے اساتذہ ان بچوں کو مستقبل کے شاہین بنانے میں کوشان ہیں ۔۔یہاں پہ چاند آتے ہیں یہاں پہ پھول کھلتے ہیں ۔یہ سکول پھولوں کا باغ ہے ۔۔یہاں پہ پیار کی خوشبو بسی رہتی ہے ۔اساتذہ سے پیار ،بچوں سے پیار ،تعلیم سے پیار ،شرافت اخلاق سے پیار ،سچائی سے پیار،اپنی مٹی سے پیار اور پیار سے پیار اس دیار کی پہچان ہے ۔۔صبح سلام اور اشپاتا سر سے ادارے کی درو دیوار گونجتے ہیں ۔یہ درو دیوار صبح سے شام تک تعلیم و تربیت کے اماجگاہ رہتے ہیں ۔۔سکول میں بچے اور بچیاں اکھٹے پڑھتے ہیں ۔سکول کے اندر بچوں اور بچیوں کے لئے الگ الگ پورشنیں ہیں ۔سکول میں اساتذہ کی تعداد ۱۷ ہے ۔۔نوجوان انچارج ہیڈ ماسٹر محمد وسیم کی رہنمائی میں کام ہورہا ہے ۔۔دوڑ دھوب ہے خلوص ہے ۔تربیت ہے ۔دلچسپی ہے مقابلہ ہے ۔نوجوان اساتذہ دل سوزی سے کام کرتے ہیں ۔سینئرز کا احترام ہے گاؤں کے لوگ مطمین ہیں ۔بچے خوش ہیں ۔اپنے اساتذہ کو دیکھ کر ان کی انکھوں میں چمک اتر آتی ہے ۔روشن مستقبل ان کو پکار رہا ہے ۔۔بچیوں کے لئے الگ ہائی سکول تیار ہورہا ہے ۔۔ہائر سکنڈری سکول کی تعمیر ہو رہی ہے ۔بچیوں کے لئے ہوسٹل بن رہا ہے ۔۔آ ج کا بمبوریت کل کا تعلیم یافتہ بمبوریت بن جائے گا ۔۔

۲۲ اکتوبر کو جی ایچ ایس بمبوریت میں یوم والدین تقریب بڑی دھوم دھام سے منائی گئی ۔بچوں میں جوش و خروش دیکھی گئی ۔لوکل کونسل کے سارے ممبران چیر مین رفیع الدین ایڈوکیٹ کے ساتھ تشریف لائے ۔۔اے وی ڈی پی کے منیجر وزیرزادہ اپنے عملے کے ساتھ آئے ۔۔ڈی ای او میل جناب حاجی حنیف اللہ تشریف لائے معروف صحافی جناب محکم الدین صاحب آئے ۔پی ٹی سی کے چیر مین عبدالاجبار دوسرے ممبروں کے ساتھ تشریف لائے ۔۔علاقے کے معززین خواتیں و حضرات بڑی تعداد میں شریک ہوئے ۔۔سکول کے ہیڈماسٹر محمد وسیم اپنے عملے اور طلباء کے ساتھ مہمانوں کو خوش آمدید کہنے کے لئے موجود تھے ۔۔پروگرام میں بچوں کی شرکت دیدنی تھی ۔جس بچے کو ائٹم دیا گیا تھا اس کو خوب نبھایا ۔۔سکول کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا ۔۔پروگرام میں بچوں نے حمد نعت ،نغموں ٹیبلوں اور خاکوں سے مہمانوں کو بہت محظوظ کیا ۔۔پروگرام میں کھوار، اردو،انگریزی،کلاشوا ر اور شیخوار میں ائٹمز پیش کئے گئے جن کو حاضرین نے بہت سراہا ۔ایک خاکے میں بمبوریت کا مستقبل ایک خوبرو بچے کی صورت میں پیش کیا گیا جسے حاضرین نے بہت سراہا اور اساتذہ کے وژن کو افرین کہا ۔۔بچہ سفید کپڑوں میں ملبو س تھا کالی جیکٹ سر پہ سفید ٹوپی تھی جس میں پر لگے ہوئے تھے ۔۔اس کی آنکھوں میں چمک تھی دیکھنے والے حیران تھے کہ واقعی بمبوریت کا مستقبل آنے والے وقت میں اتنا خوبصورت ہوگا ۔۔اس سال جی ایچ ایس بمبوریت اپنی بہترین کارکردگی کی بنیاد پر ضلعے میں انعام کا حقدار قرار دیا گیا تھا ۔۔ہیڈماسٹر اور اساتذہ کو چار لاکھ پچاس ہزار روپے کا انعام ملا تھا ۔والدین کو اساتذہ پہ اعتماد تھا ۔۔۔ خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے ہیڈ ماسٹر محمد وسیم نے کہا ۔۔معزز حضرات میں آپ کی وساطت سے ڈی ای او صاحب، سیاسی عمایدین اور اپنے عملے کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آج آپ سب کے سامنے بات کرتے ہوئے میرا سر فخر سے بلند ہوتا ہے ۔۔یہ میرا اور میرے عملے کا فرض ہے کہ اس قوم کے نونہالوں کو تعلیم و تربیت کے زیور سے آراستہ کریں لیکن میری اور میرے عملے کی خدمت کا صلہ آج آپ کے اعتماد کی صورت ہمیں مل رہا ہے ۔۔میرا ادارہ انعام کا مستحق ٹھہرا ہے اس میں آپ برابر کے شریک ہیں ۔۔آپ نے اپنے بچوں کو سکول بھیجا غیر حاضر نہیں کیا ۔اساتذہ سے تعاؤن کیا ۔۔بچوں کی تعلیم و تربیت میں اپنا کردار ادا کیا ۔۔معزز حاضرین میں سوچتا ہوں ۔کہ تم اپنے دل ،اپنی زندگیاں اور اپنی روحیں اس ادارے میں ہمارے حوالے کر تے ہو ۔۔اور وہ کون فرد ہوگا جو اپنی جان کسی کے حوالہ کرکے پھر اس کا پوچتا نہیں ۔۔اپنی زندگیوں کے بارے ہم سے پوچھا کرو ۔ہم سے دریافت کیا کرو ۔کہ تمہارے دل ہمارے پاس ہیں ۔۔کیا ہم تمہارے دلوں کی حفاظت کر سکتے ہیں ۔۔معزز حضرات تعلیم و تربیت کے اس عمل میں استاد کے پاس ایک چھوٹاسا ڈندا ہوا کرتا تھا آج وہ والدین کے پاس ہے ۔۔تربیت پیار اور ڈر کے درمیان ہوتی ہے ۔۔ہمارے پاس پیار اور احترام ہے۔ ان بچوں کے پل پل پہ نظر رکھو ۔یہ پر اشوپ دور ہے ۔ان کی راتیں اور ان کے دن تمہارے قبضے میں ہوں ۔۔ان کے لمحے لمحے تمہاری نگرانی میں ہوں ۔۔تمہارے مستقبل ،تمہاری زندگیاں تمہاری دنیا یہ ہیں ۔۔ان کے لئے خواب دیکھا کرو ۔ان خوابوں کی تعبیر ڈھونڈا کرو ۔۔انھوں نے اپنے اساتذہ پر اعتماد کا اظہار کیا ۔۔انھوں نے بہترین پروگرام ترتیب دینے پرپروگرام انچارج قاری شیر جمیل کی تعریف کی ۔۔کونسلر قاری خلیل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ کل کا بمبوریت ایک تعلیم یافتہ بمبوریت ہوگا انھوں نے ہیڈ ماسٹر اساتذہ پی ٹی سی کونسل کے چیرمین اور ممبران کی کارکردگی کو سراہا ۔۔منیجر اے وی ڈی پی وزیرزادہ نے علاقے میں اپنی کوششوں کا ذکر کیا ۔انھوں نے بچوں پر زور دیا کہ مقابلے کے اس دور میں اپنے آپ کو تیار کرنا ہوگا ۔۔انھوں نے اساتذہ کی محنت کو سراہا ۔۔ پی ٹی سی کونسل کی خاتوں ممبر شاہی گل نے اپنی تقریر میں اساتذہ اورڈی ای او کو خراج تحسین پیش کیا انھوں نے ۱۰۰۰ روپے بچوں کو انعام دیا ۔۔زاہد عالم نے پروگرام کی بہت تعریف کی ۔۔پی ٹی سی کونسل کے چیرمین نے سکول میں تعلیمی عمل پر بہت اعتماد کا اظہار کیا ۔۔انھوں نے وزیرزادہ اور سکول کے استاد محمد جاوید حیات کو گل دستہ پیش کیا ۔۔انھوں نے ڈی ای او صاحب کا شکریہ ادا کیا ۔انھوں نے بچوں کو پھول اور اساتذہ کو باغ بان کہا ۔۔ڈی ای او صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وادی میں قدم رکھتے ہی مجھے اس کے بہترین مستقبل کی خوشبو آتی ہے ۔۔اس میں میرے اساتذہ کی محنت کی خوشبوبھی شامل ہے ۔۔انھوں نے سکول کا انعام لینے پر ہیڈ ماسٹر اور اساتذہ کو مبارک باد دی ۔۔انھوں نے کہا کہ اگلے سال یہ انعام سی ایم ہاؤس جا کر لے آئیں ۔۔انھوں نے کوالئٹی پر زور دیا ۔۔انھوں نے بہترین پروگرام پیش کرنے پر ہیڈماسٹر اساتذہ اور طلباء کو مبارک باد دی ۔۔مہمان خصوصی چیرمین رفیع ایڈوکیٹ نے خطاب کرتے ہوئے بمبوریت کے ساتھ محکمہ تعلیم کی محنت کی تعریف کی ۔۔انھوں نے ڈائریکٹر ایجوکیشن ڈی ای او ایجوکیشن سب کا شکریہ ادا کیا ۔۔انھوں نے کہا کہ آج یہاں کے بچوں کی کارکردگی دیکھ کر مجھے مستقبل میں ایک تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ بمبوریت نظر آرہا ہے ۔۔بچے بچیا ں جب تقریر کر رہے تھے تو مجھے لگ رہا تھا کہ کوئی انگریز سکالر بول رہا ہے یا کوئی اردو کا بڑا ادیب بول رہا ہے ۔۔انھوں نے ڈی ای او صاحب کی تعریف کی اور کہا کہ ان کی رہنمائی میں معماران قوم قوم کی بہترین تربیت کر رہے ہیں ۔۔انھوں نے پی ٹی سی کونسل کے چیرمین اور ممبروں کی خدمات کو سراہا انھوں نے بچوں کو ۱۳۰۰۰ روپے دئے ۔۔کونسلر حنیف نے ۴۰۰۰ روپے ،قاری خلیل نے ۳۰۰۰ روپے ،ایران بی بی نے ۲۰۰۰ روپے ،شاہی گل نے ۱۰۰۰ روپے ،منیجر اے وی ڈی پی نے ۱۵۰۰۰ روپے بچوں کو دئے ۔۔۔مہمان خصوصی اور صدر محفل کے علاوہ دوسرے معززین نے بچوں میں انعامات تقسیم کئے ۔دعا اور چائے کے ساتھ یہ تقریب اختتام پذیر ہوئی۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔