صحافت اور ہماری ذمہ داریاں

59 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+
صحافت جسے ذرائع ابلاغ کہا جاتا ہے انگریزی زبان میں اس شعبے کو میڈیا کے نام سے پُکارتے ہیں۔میڈیا کی دو قسمیں ہے ایک الیکٹرونک میڈیا اور دوسرا پرنٹ میڈیاہے. صحافت کا پیشہ اپنے مفہوم کے اعتبار سے مقدس شعبہ ہے ۔ ایک بڑی طاقت بھی ہے مضر بھی فائدہ مند بھی اور نقصان دہ بھی ہے۔باالفاظ دیگر صحافت دراصل حقیقت ایک انکشاف کا نام ہے۔ معاشرے کو ظلمت تاریکی سے نکال کر نور اور روشنی میں لانے کا اہم ذریعہ بھی ہے۔صحافت ایک اعلیٰ بلند بالا انقلابی مقصد کی تیاری کا نام بھی ہے اور قوموں کی فطری اور نظریاتی تبدیلی کا عمدہ وسیلہ بھی ہے۔
صحافت ذہنیت سازی کا قابل قدر طریقہ اور ملک و ملت کو مستحکم بنانے میں کلیدی کردار ادا کرنے کا نام بھی ہے۔آج گلگت بلتستان کی صحافت پر کچھ روشنی ڈالنے کے حوالے سے قلم اُٹھایا ہے عین ممکن ہے کہ کچھ حضرات کو ناگوار گزرے جس کیلئے پیشگی معذرت خواہ ہوں۔گلگت بلتستان کے حوالے سے اگر بات کریں تو جس طرح زندگی کے تمام معاملات میں بیگاڑ پیدا ہوتا گیا بلکل اسی طرح اس شعبے میں بھی بہتر پرورش کے بجائے بگاڑ پیدا ہوگئی ہے آج صورت حال یہ ہے کہ صحافت حقیقی معنوں سے بے نیاز اور ضابطہ اخلاق کی پابندی دور سے نظر آتا ہے ۔صحافت اب ایک مقدس مشن نہیں بلکہ ایک کمرشل پیشہ بن گیا ہے۔یہ مقدس پیشہ ملت کی خدمت کے بجائے مال دولت کے حصول کا ذریعہ بن کرحق اور باطل کے درمیان فرق واضح کرنے کے بجائے منافقانہ رویے کے ذریعے معاشرتی انتشار کا باعث بن رہے ہیں۔
یہ باتیں ایک حقیقت پر مبنی چند مشاہدات ہے لہذا کوئی یہ نہ سوچے کہ کسی خاص شخص یا ادارے کی دل آزاری کرنا مقصودہو۔بلکہ صحافت کے حوالے سے کچھ اجتماعی مسائل پر اور خطے کی معاشرتی ضروت کے مطابق اس شعبے کو سمجھنے اور لاگو کرنے کیلئے آواز بلند کرنے کی ادنا سی کوشش ہے۔ ہم اپنے روز مرہ کی زندگی میں دیکھتے پڑھتے اور سُنتے ہیں کہخطے کی ضروریات کیا ہے اور مجبوریاں کیا ہے اور ان اسباب کے پیچھے کون سی کوتاہی کارفرما ہے وغیرہ وغیرہ۔لیکن بدقسمتی سے خطے کی صحافت میں کہیں نہ کہیں کچھ جگہ کچھ اخبارات اور اہل قلم میں وفاقی آمیزش نظر آتی ہے تنقیدی خبریں اور مقالات صرف مخالف سمت کو زیر کرنے کے حوالے سے ہوتا ہے جو کہ صحافتی اصول کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ذاتی حوالے عرض کرتا چلوں کہ کالم نگاری چونکہ میرا پیشہ نہیں ایک قومی جذبہ ہے اور میں یہ سوچ کر اپنے ہر کالم کو رزہ مرہ کی زندگی کے معاملات سے وقت نکال کر لکھتا ہوں کیونکہ اس خطے کے مسائل اتنے ہیں کہ سب ملکر روازنہ بھی لکھیں تو کم ہے۔لیکن بد قسمتی ہے کہ اس خطے کے داخلی مسائل کی موضعات پر لکھنے والوں کو پاکستان اور بین الاقوامی سیاست پر لکھنے والوں کی نسبت ہمارے پرنٹ میڈیا کم توجہ دیتے ہیں۔اس کے علاوہ کچھ قلم کار حضرات بھی بدقسمتی سے دوسرے تمام سرکاری اور نجی اداروں کے ملازمین کی طرح فرقے اور ذاتی مفاد کیلئے کام کرتے ہیں جسکا ادراک ہونا ضروری ہے کیونکہ یہ عمل خطے کی مستقبل کیلئے نیک شگون نہیں ہے۔ آج اس خطے میں ایک درجن سے ذیادہ اخبارات شائع ہوتے ہیں اس کے علاوہ کئی آن لائن بلاک اور اخبارات بھی ہے جو کسی نہ کسی حوالے سے گلگت بلتستان کی ترجمان بننے کی کوشش میں مگن ہے۔ مگر گنتی کے لوگ ہے جو نظام کی خرابی پر لکھتے ہیں اور گنتی کے اخبارات ہے جو اس طرح کے قومی اہم ایشو پر لکھنے والوں کو پلیٹ فارم مہیا کرتے ہیں ۔
اس حوالے سے جب مختلف اہل قلم سے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ گلگت بلتستان کے بنیادی مسائل اور یہاں کی حکومت کے خلاف کالم لکھنے کا مطلب اپنے لئے اخبارات کا دروازہ بند کردینا ہے۔ کیونکہ اس خطے کے بہت سے اخبارات ہماری اطلاع کے مطابق صرف اس وجہ سے تنقیدی کالمز شائع نہیں کرتے کہ کہیں اُنہیں اشتہارات کا ملنا بند نہ ہوجائے یعنی اشتہارات کی حصول کا بھی کوئی ضابطہ بھی ابھی تک طے نہیں ہوا حالانکہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اشتہارات متوازن طریقے سے تمام اخبارت کو دیئے جائیں لیکن اس خطے میں جس طرح ہر کام انوکھی ہے بلکل اسی طرح اخبارات کی اشتہارات کا حصول بھی کرم نوازی سے ہی ممکن ہوتی ہے کیونکہ ابھی تک خطے میں کوئی میڈیا پالیسی مرتب نہیں ہو پایاجو اس عمل کو برابری کے بنیاد پر یقینی بنائیں۔یہی سبب ہے کوئی قلم کار اہم قومی ایشو پر قلم نہیں اُٹھاتے کیونکہ شائع ہونے میں بڑا مسلہ درپیش آتا ہے۔ہم نے کچھ اہل قلم اور زندگی کے مختلف امور سے تعلق رکھنے والے چند دانشور حضرات سے تجزیہ لیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ کونسے ایسے اخبارات ہیں جو بغیر کسی لالچ اور خوف کے حقیقی صحافتی ذمہ داری ادا کررہے ہیں۔
معلوم ہوا کہ گنتی کے اخبارات ہیں جو خطے سے تعلق رکھنے والے اہل قلم حضرات کو موقع فراہم کرتے ہیں لہذا اُن اخبارات کے مالکان اور ایڈیٹر صاحبان کو خراج تحسین پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں جو معاشی مسائل کے باوجود اپنی صحافتی ذمہ داری کو نباتے ہوئے قومی ضرورت کے حوالے سے لکھی جانے والی ہر کالم کو اپنے اخبارات کا حصہ بنا تے ہیں جس میں روزنامہ سلام گلگت بلتستان روزنامہ بیدار گلگت بلتستان اور روزنامہ بانگ سحر گلگت بلتستان سمیت چند ہفت روزہ شمارے اور ماہنامہ میگزین خاص الذکر ہے جنہوں نے ہر وقت گلگت بلتستان کے بڑے مسائل سے لیکر گاوں کی سطح کے مسائل کو سرورق کا حصہ بنا کر اس دھرتی کا اصل نمائندہ ہونے کی ذمہ داری نبا کر صحافتی اصول پر عملی طور پر عمل کرکے دوسرں کیلئے مشعل راہ بن رہے ہیں ۔ورنہ اس خطے سے بھی اخبارات شائع ہوتے ہیں جہاں خبر بھی سفارش اور سرکاری ایماء پر شائع ہوتے ہیں اور ایسے بھی اخبارات ہیں جو دعویٰ تو عوام کی ترجمانی کرتے ہیں لیکن حقیقت میں سرکار اور بیوروکریسی کے ترجمانی کرتے ہیں۔یوں اپنے گھر کے مسائل کو نظر انداز کر کے کوا کی چال کے مصداق اپنی چال بھول کر ریٹینگ میں ایسا گم ہوا ہوتا ہے کہ کچھ اخبارات کو انڈیا کی فلم انڈسٹری کا برہنہ تصویر اور بیہودہ خبر لگانے سے بھی نہیں کتراتے لیکن ایک ایسے خطے کا جس کے نام پر آپ صحافتی کاروبار کررہے ہیں یہاں مسائل کی انبار ہے یہاں پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کی کمی ہے اور یہاں کی صحافت کو بہتر بنانے کیلئے کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔مگر اُنہیں گلگت بلتستان میں سب کچھ اچھا نظر آتا ہے کیونکہ اسی کے عوض انہیں اچھے اشتہارات ملتے ہیں ان اشتہارات پر ٹیکس بھی نہیں لگتا کیونکہ گلگت بلتستان کے نام سے منسوب ہے ۔اس کے علاوہ ایک طبقہ یہاں کے ہر مسائل کا ذمہ دار وفاق کو ٹھراکر ذمہ داریوں سے بری الذمہ ہونے کی کوشش کرتے ہیں یہ نہیں سوچتے ہم اس دھرتی کے ساتھ کتنا مخلص ہے اور ہم نے دھرتی کے مسائل کی حل کے حوالے سے کیا خدمات سرانجام دیے؟ہماری پرنٹ میڈیا نے اب تک وہ کو نسا کارنامہ انجام دیا جس سے دھرتی کے حقیقی مسائل کی ترجمانی کی ہو ؟ کیا گلگت بلتستان کے آئینی ایشو کو کسی بین الاقوامی فورم میں اُٹھانے کیلئے کوئی کوشش کی گئی؟۔ ہمارے سیاست دانوں نے کونسا کارنامہ انجام دیا سوائے الیکشن میں عوام کو لڑانے اور حصول کرسی تک جھوٹے وعدے کرنے کے؟اسی لئے حبیب جالب نے کہا تھا ۔ہر شاخ پہ اُلو بیٹھا ہے انجام گلستان کیا ہوگا۔مجھ سمیت بہت سے صحافی بھائیوں کو صحافتی ذمہ داری کیا ہوتا ہے نہیں معلوم کیونکہ ہمارے ہاں کچھ لوگ صحافت کو ذریعہ معاش کی پہلی سیڑھی سمجھ کر استعمال کرتے ہیں اور دوسرا تربیت کا فقدان ہے۔سوشل میڈیا پر نظر کریں تو ایک صحافی فرقے کا نمائندہ بھی ہوتا ہے اور صحافت کا بھی حالانکہ کہتے ہیں کہ صحافی خبر اور حالات حضرات کے واقعات کو سچ اور حقیقت ثابت ہونے کے بعد ہی تشیہر کرتے ہیں لیکن ہم نے گزشتہ ہفتوں میں ہم نے پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا سے تعلق رکھنے والے ہمارے کچھ صحافی کچھ میڈیا رپورٹر حضرات سوشل میڈیا پر جھوٹ کو پھیلانے میں بڑے مصروف عمل دیکھے جو کہ قلم کاری اور صحافتی شعبے سے وابستہ لوگوں کیلئے زیب نہیں دیتا ۔لہذا اصلاح معاشرہ کیلئے اصلاح صحافت کی ضرورت ہے اللہ صحافیوں کو نیک سمجھ عطا کرے اورصحافت کو مقدس مشن بنا دے آمین۔
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔