داریل کی چار طالبات کو پیپرز چیک کئے بغیر فیل قرار دینے کا الزام، والدین سراپا احتجاج

داریل کی چار طالبات کو پیپرز چیک کئے بغیر فیل قرار دینے کا الزام، والدین سراپا احتجاج

7 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چلاس(بیورورپورٹ)داریل گیال گرلز امتحانی سینٹرمیں 2016کے سالانہ امتحانات دینے والی چار طالبات کا پیپر چیک کئے بغیرقراقرم بورڈ نے طالبات کو مارک شیٹس جاری کرتے ہوئے فیل قرار دے دیا ،جس پر متاثرہ طالبات کے والدین اور رشتہ دار سراپا احتجاج بن گئے ،اور طالبات کے تمام مضامین کے پیپرز دوبارہ چیک کرنے کا مطالبہ کر دیا۔قراقرم بورڈانتظامیہ کی تعلیم کش پالیسی اور تعلیمی زیادتی کا نشانہ بننے والی متاثرہ طالبات میں سترجان ولدعبدالروف،سفینہ ولد گلیت خان،شفیقت ولد شہزاد ولی اور بی بی جان ولد سردار خان شامل ہیں ۔

چلاس میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے متاثرہ طالبات کے والدین نمبردار حاجی عبداللہ خان،نمبردار عبدالرقیب،نمبرداررحمت غنی،نمبردارعبدالوہاب اور نمبردار شفع اللہ نے کہا کہ داریل کے عوام نے قبائیلی ماحول کے اندر اپنی بچیوں کو تعلیم دلایا ،اور علماء کی طرف سے رکاوٹوں کے باوجود اپنی زندگیوں کو داو پر لگا کر لڑکیوں کو سکول بھیجا اور بڑی جدو جہد کے بعد داریل میں لڑکیوں کا امتحانی سینٹر قائم کرایا اور اپنی بچیوں کو میٹرک کا امتحان دلایا ،محکمہ تعلیم کے ممتحن نے بچیوں کا امتحان لیا اور ہم نے پرامن طریقے سے داریل جیسے علاقے میں لڑکیوں کا امتحانی سینٹر قائم رکھنے میں کامیاب ہوگئے،لیکن قراقرم بورڈاور اس کے انتظامیہ نے ہماری طالبات کا پیپر چیک تک نہیں کیا اور اوپر سے بچیوں کا امتحان لینے والے ممتحن کو کئی دفعہ گلگت بلا کر اس کی ایکسپلینیشن کیا گیا اور زبردستی سے طالبات پر نقل کرنے کی کیس کرانے کا دباو ڈالا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری بچیوں نے نمایا نمبروں سے میٹرک کا امتحان پاس کیا ہے،لیکن قراقرم بورڈ کی انتظامیہ جان بوجھ کر دیامر کے طالبات کے ساتھ زیادتی کررہے ہیں ،ایک طرف سے دیامر میں بچیوں کی تعلیم عام کرنے کا بلند و بانگ دعوے کیئے جارہے ہیں اور دوسری طرف تعلیم حاصل کرنے کا شوق رکھنی والی طالبات کیساتھ ظلم اور زیادتی کی جارہی اور ان کا حق تلفی ہورہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ہماری بچیوں کا پیپرز دوبارہ غیر جانبدار کمیٹی تشکیل دے کر ان کی نگرانی میں چیک کیا جائے،ورنہ دیامر کے عوام کے سے اپیل کرکے قراقرم بورڈ کے خلاف احتجاج پر مجبور ہونگے۔انہوں نے وزیر اعلی ،چیف سیکرٹری وزیر تعلیم۔صوبائی وزیر ثوبیہ مقدم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نوٹس لیکردیامر کے طالبات کے ساتھ امتحانی پیپرز میں ہونے والی زیادتیوں پرقراقرم بورڈ کے متعلقہ زمہ داروں کے خلاف کاروائی عمل میں لاکر متاثرہ بچیوں کا انصاف فراہم کیا جائے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔