طیارہ حادثہ پی آئی اے کی ناقص کارکردگی اور لاپرواہی کی وجہ سے پیش آیا، ایم پی اے سید سردارحسین

طیارہ حادثہ پی آئی اے کی ناقص کارکردگی اور لاپرواہی کی وجہ سے پیش آیا، ایم پی اے سید سردارحسین

11 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال ( نمائندہ خصوصی ) پی آئی اے کے چترال سے اسلام آباد جانے والی پروآز کو حویلیاں کے مقام پر پیش آنے والا حادثہ بہت بڑا قومی المیہ ہے جو کہ پی آئی اے کی ناقص کار گردگی اور لا پرواہی کی وجہ سے پیش آیا ہے ۔ یہ حادثہ پاکستان میں پہلی بار نہیں ہوا کہ بلکہ ہماری بے شمار قیمتی جانہیں اسی بے حس ادارے کی غیر زمہ دارانہ رویوں کی وجہ سے اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ ضائع ہوچکی ہیں ۔ اس ادرے ناقص کارکردگی کی وجہ سے نہ صرف ملک کو قومی نقصان کا سامنا ہوا ہے بلکہ ہماری قیمتی جانہیں بھی گئی ہیں جن کا اذالہ مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے ۔ اس بے حس ادارے کو چاہیئے کہ مسافروں کی جانوں سے کھیلنے سے باز رہے ۔ذرائع یہ بتاتی ہیں کہ ان جہازوں کی طبعی عمریں پوری چکی ہیں اور ادارہ محض پیسہ بٹور نے کے چکروں میں ہماری جانوں سے کھیل رہا ہے اس سے بڑھ کر بد عنوانی کی کوئی اور مثال دنیا میں کہیں بھی نہیں ملتی ۔ یہ باتیں اپر چترال کے ایم پی اے سید سردار حسیں شاہ صاحب نے ڈی ایچ کیو ہسپتال ایبٹ آباد سے ٹیلی فون پر ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوے کہی ۔ انہوں نے کہا کہ لاشوں کی شناخت اِس وقت ممکن نہیں تاہم سب ہماری لاشیں ہیں جن میں ضلعے کے زمہ دار افراد سے لیکر شعبہ تعلیم اور غیر سرکاری ادروں کے اعلی ٰ پیشہ وروں تک شامل ہیں ۔ انہوں نے پی آئی اے کے خلاف سخت احتجاج کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتسان اور چترال ایسے علاقے ہیں کہ جن کے لئے ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کا تانتا بندھا رہتا ہے لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ جن کی وجہ سے ملک میں بہترین رز مبادلہ اُن سیاحوں کی جانیں پی آئی اے جیسے بد عنوان ادارے کے ہاتھوں ہلاک ہو رہی ہیں ۔ انہوں نے غیر ملکی طویل فضائی اداروں ، اُن کے عملے اور جہازوں کا زکر کرتے ہوے کہا کہ دنیا اس حد تک ترقی کر چکی ہے کہ تہذہب یافتہ ممالک کی فضائی کمپنیاں دوران پرواز ہی اپنے جہازوں میں دوسرے جہازوں کے ذریعے تیل ڈال دیتے ہیں اور فضا ہی میں مرمت کرتے ہیں اور ہماری اس بے حس کمپنی کو یہ توفیق بھی نصیب نہیں کہ وہ صرف پینتالیس منٹ کی پرواز کو بہتر بنا سکے ۔ لاشوں کی شناخت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس وقت لاشوں کی شناخت مشکل جب تک کہ ڈی این اے چیک کر کے نہ بتایا جائے۔ تاہم بہت مشکل سے مرد اور عورت کی لاشوں میں فرق ممکن ہے ۔ انہوں نے پی آئی اے کو تنبیہ کی ہے کہ ہماری لاشوں کو عزت و احترام کے ساتھ بذریعہ ہیلی کاپٹر اُن کی آبائی جگہوں تک پہنچائی جائیں انہوں نے کہا کہ حکومت خاص کر حکومت خیبر پختون خواہ اور فوج کی ہر قسم کی خدمات تحسین کے قابل ہیں ۔ حکومت کے تمام اہل کار اور پاک فوج کے جوان حادثے کی شکار لاشوں کی برآمد گی میں محنت سے کام کررہے ہیں ۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں تمام متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ اُس وقت تک ایبٹ آباد ڈی ایج کیو اور جائے حادثہ میں رہیں گے جب تک تمام لاشیں بر آمد نہیں ہوں گی۔ انہوں نے کہا گہ اگرچہ اُن کا تعلق حسب اختلاف سے ہے تاہم حالیہ حادثے میں حکومت کی چترالیوں کے ساتھ ہمدردی معنی رکھتی ہے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔