چلاس شہر کے مسائل بے شمار، بجلی کے بعد پانی بھی غائب

چلاس(مجیب الرحمان)چلاس شہر میں بجلی لوڈشیڈنگ کے بعد پانی بھی غائب ہوگیا،عوام بوند بوند کو ترسنے لگے۔شہری دوردراز سے پانی لاکر استعمال کرنے پر مجبور ہوگئے۔ذرائع کے مطابق 1980میں چلاس شہرکو پانی فراہمی کے لئے بنائے گئے سٹرکچر کو اب بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔نئے منصوبوں کی تکمیل بھی محض خواب بن کر رہ گیا ہے۔موسم سرما میں بٹو گاہ کے نالے میں پانی کی کمی سے پانی کی مزیدقلت پیدا ہوگئی ہے۔جبکہ دریا میں آنے والے پانی کا رخ پن بجلی گھروں کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔واپڈا نے بھی ماڈل ویلیج کے لئے اسی دریا سے پانی کے حصول کے لئے کام شروع کر دیا ہے۔جبکہ شاہین گاؤں کے لئے پانی فراہمی منصوبے پر بھی کام جاری ہے۔جس کی وجہ سے نشیبی تمام علاقے مکمل طور پر خشک ہونے کا خدشہ ہے۔چلاس شہر کی زرعی اراضی سیراب کرنا بھی ناممکن ہو رہا ہے۔اب صورتحال یہ ہے کہ چلاس شہر کے ایک حصے کو پانی پورے دن میں صرف تین گھنٹے فراہم کیا جا رہا ہے۔جبکہ باقی شہر اس پانی سے بھی محروم ہے۔شہری اس صورتحال پر پریشان ہیں اور مطالبہ کیا ہے کہ واپڈا ماڈل ویلیجز کے لئے پانی تھک نیاٹ نالے سے لانے کے لئے اقدامات کرے ۔جبکہ پن بجلی گھروں کے بجائے پینے کے پانی کو ترجیح دی جائے۔تاکہ چلاس شہر کو پانی کی قلت نہ ہو۔کیونکہ پانی زندگی کی بنیادی اکائی ہے اور پانی کے بغیر زندگی ناممکن ہے۔عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ پانی بحران پر قابو پانے کے لئے دیر پا اور ہنگامی اقدامات کئے جائیں تاکہ پانی کی قلت پر قابو پایا جا سکے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments