تھک نیاٹ موومنٹ کے زیرِ اہتمام چلاس شہر میں احتجاجی مظاہرہ، ہزاروں افراد شریک ہوے

تھک نیاٹ موومنٹ کے زیرِ اہتمام چلاس شہر میں احتجاجی مظاہرہ، ہزاروں افراد شریک ہوے

15 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چلاس(بیورورپورٹ)عمائندین تھک نیاٹ بابوسر اور تھک نیاٹ یوتھ قومی مومنٹ کے زیر اہتمام چلاس شہر میں سخت احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔احتجاجی مظاہرے میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے تھک نیاٹ یوتھ قومی مومنٹ کے صدرضیاء اللہ تھکوی،نائب صدرعبداللہ،مولانا مطیع الحق،مولانا عبدالخالق،مولانا سجاء الحق، ثمیر خان،مشتاق و دیگر نے کہا کہ چلاس جچن چشمہ بالا اور چشمہ پائن تا ہلتشی دارتک تھک نیاٹ کا حدود ہے،مذکورہ علاقے کے اندر واقع تمام بنجرداسس کا ایوارڈتھک نیاٹ کے عوام کے نام پر بناکر معاضہ تھک کے عوام کو دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ تھک داس میں واپڈا کالونی کسی صورت نہیں بننا چاہے،کیونکہ وہاں پر پہلے سے تھک کے عوام رہائش پذیر ہیں۔انہوں نے کہا کہ دیامر ڈیم کے تمام متاثرین کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے،صرف ایک طبقے کو نوازنا سمجھ سے بالاتر ہے۔انہوں نے کہا کہ 2010سے پہلے چلاس کی تمام بنجر داسس خالصہ سرکار تھیں۔2010کے معاہدے کے تحت تمام بنجر ارضیات کو عوامی ملکیت قرار دے کر ہڈور،تھور اور دیگر علاقوں کے لوگوں کو معاوضاجات کی ادائیگی بھی کی جاچکی ہے۔انہوں نے کہا کہالتشی دارسے لیکرچلاس زیرو پوئنٹ تک بنجرارضیات تھک کی عوام کی ملکیت ہے،لہذا جلدی ہمیں پیمنٹ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ حکومت ریاستی املاک جلانیوالوں کو نوازتی ہے جبکہ دیامر ڈیم کے اصل متاثرین کو دیوار سے لگا کر ظلم و بربریت کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ تھک نیاٹ کے عوام شروع سے ریاست کے وفادار رہے ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے۔تھک نیاٹ کے عوام ریاست کے بلا تنخواہ ملازم ہیں اور ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والے عناصر کے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے،انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خلاف پاک فوج کے ساتھ مل کر ہر سازش کا مقابلہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ تھک نیاٹ کے عوام پرامن ہیں اور امن چاہتے ہیں،لیکن انتظامیہ یکطرفی فیصلوں سے باز رہے،صرف مٹھی بھر چند لوگوں کو نوازنے کے بھیانک نتایج برآمد ہونگے۔

چلاس تھک نیاٹ کے مشتعل مظاہر ین نے یشوکل داس میں پڑی جلانے کی لکڑی پر آگ لگا دیا،کئی ٹرک لکڑی جل کر خاکستر ہوگئی۔ہفتہ کے روز مشتعل مظاہرین نے احتجاج کرتے ہوئے یشوکل داس پہنچ گئے،اور وہاں پر موجود جلانے کی لکڑی پر آگ لگا دیا،جس کے نتیجے میں دو کمرے بھی آگ کی لپیٹ میں آکر راکھ بن گئے۔دیامر پولیس اور ضلعی انتظامیہ حالات کنٹرول کرنے کیلئے جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور مشتعل مظاہرین کو منتشر کر دیا،اور فائر برگیڈ کے زریعے لکڑیوں پر لگائے گئے آگ کو بجھا دیا گیا۔دیامر پولیس نے شاہ ناصرکی مدعیت میں متعدد افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے کارروائی شروع کر دیا،تاہم اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جاسکی ہے۔

چلاس یشوکل داس میں میرے کئی ٹرک جلانے کی لکڑی اور کمرے دن دیہاڑے جلا دئے گئے ہیں،لیکن انتظامیہ خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ان خیالات کا اظہارمتاثرہ شخص ارشاد نے اپنے ایک بیان میں کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے سٹی تھانہ چلاس میں نامزد کرکے لکڑی جلانے والوں پر مقدمہ درج کر لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ چیف سیکرٹری،ہوم سکرٹری اور دیگر اعلی حکام لکڑی جلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کریں،اور مجھے انصاف فراہم کیا جائے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔