پشاور ہائی کورٹ نے چترال کے 19افراد کو ملک بدر کرنے سے روک دیا

پشاور (نامہ نگار) پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس محمد ایوب پر مشتمل ڈویژن بنچ نے چترال سے تعلق رکھنے والے نامور قانون دان محب اللہ تریچوی ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائر کردہ رٹ پٹیشن کی سماعت کرتے ہوئے چترال گہیریت کے 19افراد کو ملک بدر کرنے سے روک دیا ۔ عدالت عالیہ نے جب غلام حیدر وغیرہ بنام حکومت پاکستان کے مقدمے کی سماعت کی تو درخواست گزار غلام حیدر وغیرہ کے وکیل محب اللہ تریچوی ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایاکہ درخواست گزار بنیادی طور پر چترال کے باشندہ گا ن تھے تاہم 1951 ء میں انہیں اس وقت کے ریاستی حکمران نے ضلع بدر کردیا تھا۔ اور یہ لوگ مجبوراً اپنے قریبی ملک افغان میں پناہ لے رکھے تھے تا ہم1982 ؁ء میں افغان جنگ کے دوران واپس چترال آکر اپنے آبائی گاؤں میں رہائش پذیر ہوئے ۔اور ان کو ان کے آبائی گاؤ ں سے ملک بدر کرنا غیر قانونی ہے ۔اور آئین کی خلاف ورزی ہے ۔جس کی آئین اور قانون اجازت نہیں دیتا۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد درخواست گزاروں کو ملک بدر ی سے روکنے کے احکامات جاری کر دئیے۔اور حکومت سے جواب طلب کر لیا۔

یاد رہے کہ درخواست گزاروں نے اپنے ملک بدر کرنے سے روکنے کیلئے (1)وزارت داخلہ حکومت پاکستان (2)سیکر ٹر ی ہومKPK (3) چیف سیکر ٹری KPK(4)ڈپٹی کمشنر چترال (5)کمشنر ملاکنڈ ڈویژن اور ڈسٹرکٹ ناظم چترال کو فریق بنا کر رٹ پٹیشن دائر کر رکھے تھے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments