ماحولیات – چوتھی قسط

ماحولیات – چوتھی قسط

55 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ماحول سے مراد وہ مقام جہاں بچے پرورش پاتے ہیں مثلاً گھر،اسکول،ہمسائیگی وسیع معنوں میں معاشرہ جہاں ہم رہتے ہیں۔ جس معاشرے میں ہم رہتے ہیں وہاں کے حالات وغیرہ ماحول کہلاتے ہیں ۔
ماحول کابچوں پر گہرا اثر پڑتا ہے۔

ہزہائنس کریم آغاخان فرماتے ہیں کہ
’’ہم یہاں پر ایک مسلمان کی زندگی کے ہر پہلو، جس میں مادی ماحول بھی شامل ہے، کے لئے مذہب کی اہمیت پر روشنی ڈالیں گے۔ سب جاندار اپنے اپنے ماحول سے مثبت یا منفی طور پر متاثر ہوتے ہیں لیکن مسلمانوں کے لئے یہ معاملہ خاص طور پر نازک ہے۔ تمام مسلمان فطرت اور انسان کی مکمل ہم آہنگی پر یقین رکھتے ہیں ۔ان کے نزدیک روحانیت اور مادیت کے درمیان کوئی بنیادی فرق یا تقسیم نہیں ہے ،جبکہ پوری دنیا ،چاہے وہ زمین ہو ،سمندر ہو ،ہوا ہو یا جاندار ہوں جو اس پر بستے ہیں، یہ تمام خداوندتعالیٰ کی قدرت کے مظاہر ہیں ہم جو ماحول میں جمالیاتی حُسن کی تعمیر کرتے ہیں اور جس قسم کے سماجی تعلقات اس ماحول میں پیدا ہوتے ہیں ، وہ ہماری زندگیوں پر دور رس اثرات مرتب کرتے ہیں اور بہترین اسلامی تعمیرات کیلئے ہمارے پاس واضح رہنما اخلاقیات موجود ہیں۔‘‘
Virginaia ,USA, April 13 ,1984.

جس دنیا میں ہمارے بچے پرورش پاتے ہیں وہ عجائبات سے بھری پڑی ہے مگر کبھی کبھار یہ خوفناک اور نہ سمجھ آنے والے حا دثات کی جگہ بن جاتی ہے اس لئے ہمیں اپنے بچوں کو اس ماحول کی جس میں وہ رہ رہے ہیں سمجھنے میں رہنمائی کر نی چاہیے۔یہ جاننا بے حد ضروری ہے کہ جس ماحول میں ہمارے بچے پرورش پاتے ہیں وہ ان کے کر دار اور نشوونما پر اثر انداز ہو تا ہے۔ بچوں کی نشوونما بے شمار اثر انداز ہو نے والی قوتوں کے اثرات کے تحت ہوتی ہے۔ یہ اندرونی اور بیرونی دونوں ہو سکتی ہیں۔ ذیل میں ان چند کی نشان دہی کی گئی ہے۔
بچوں کی نشوونم پر اثر انداز ہو نے والے عوامل
بیرونی                                                         اندرونی
والدین                                                            ضرورتیں
ہم عمر ساتھیوں کا گروہ                                          اقدار
مذہب                                                                ذہانت
بچوں کی نشوونما پر               اسکول کی تعلیم و تر بیت            شخصیت
صحت اور جسمانی ساخت          اثر انداز ہو نے والے                   رویے
جسمانی قبولیت                               عوامل                              کردار
گھریلو ماحول                                                               عادات
جماعتی عوامل                                                             دلچسپیاں
سیاسی حالات                                                                  ملنساری
فطرت اور ہماری زمین:۰

ہم زمین پر بستے ہیں جو کہ اب اربوں لوگوں کی رہنے کی جگہ ہے ۔ اللہ تحالٰی کی تخلیق کا ایک بہترین شاہکار ہے اور سائنسی معلوما ت کے حوالے سے صرف زمین ایک ایسا سیارہ ہے جہاں زندگی ہے ، اللہ تعلی نے انسان کو یہ ذمہ داری دیا ہے کہ وہ اپنی زمین کی حفاظت کریں اللہ تحالٰی نے انسان کو اپنا خلیفہ مقرر کر کے یہ ذمہ داری سو نپ دیا ہے لیکن یہ کرہ عرض انسان ہی کی کوتاہیوں ، سائنسی ایجادات، صنعتی ترقی اور بڑھتی ہو ئی آبادی سیاسی خانہ جنگی اور ہتھیاروں کی دوڑ کی وجہ سے اس کی فضا ء روز بروز آلو دہ ہو تا جا رہا ہے ان تمام وجوحا ت کی بنا پر ہمارے ارد گرد کا ماحول بھی تبدیل ہو گیا ہے۔ ان تمام باتوں کا بچوں پر بھی اثر ہو تا ہے اور زمین کی اس بگڑتی ہو ئی صورت حال کے پیش نظر اقوام متحدہ ن بھی کئی بین الاقوامی کانفرنسیں منعقد کر وا چکا ہے لیکن دنیا کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک امریکہ ہی سب سے زیادہ الو دگی کا سبب بنتا جا رہا ہے چونکہ سب سے زیادہ کارخانے اور انڈسٹری اس ملک میں ہیں اور آلودگی بھی سب سے زیادہ پھیلا رہا ہے ۔اس لئے ما حو ل کی اس بگڑتی ہو ئی صورت حال میں اگر ہم بے احتیات سے کام نہ لیں گے تو یہ اور بھی بگڑ جا ئے گا لہٰذا ہم سب کو اس فضا کو صاف رکھنے میں اپنا اپنا کر دار ادا کر نا ہے۔بنیا دی طور پر بچوں پر تین قسم کے ماحول اثر انداز ہو تے ہیں (الف ) گھر (ب) اسکول (ج) معاشرہ
(۱)گھر کا ماحول:۰
ماں کی گود بچے کا پہلا یونیورسٹی ہے ۔ یہ ایک مشہور مقولہ ہے۔ چونکہ بچہ ماں کی گود میں ایک یونیورسٹی میں داخل ہو تاہے اس سے بچے کی پرورش ہوتی ہے۔ بچہ جسمانی ، روحانی اور ذ ہنی طور پر بڑا ہوتا ہے ۔ پھر معاشرتی، سماجی اور دوسرے تمام اقدار اس میں شامل ہو تی ہیں ۔ اس طرح بچے پر سب سے پہلے جو ماحول کا اثر ہو تا ہے وہ گھر کا ماحول ہے۔ اس لئے ہمیں گھر کے ما حول کو خو شگوار ر کھنا ہو گا ۔ گھر بچوں کا پہلا درسگاہ ہے۔ یہاں ہی سے بچے کی جسمانی، ذ ہنی ، اخلاقی اور معاشر تی نشوونما شروع ہوتی ہے بچے کو گھر میں کیسا ماحول ملتا ہے یہ سب گھر کے افراد پر منحصر کر تاہے کہ گھر کا ماحول صاف ستھرا اور صحت بخش ہے ، کیا گھر والے کوڑا کرکٹ گھر کے کھڑکی سے ہی باہر تو نہیں پھینکتے ، اگرگھر کا ماحول صاف ستھرا ہے اور محلہ میں کوڑا کر کٹ کو ضائع کرنے کا صحیح انتظا م نہیں ہے تو پھر بھی ماحول بڑا گھمبیر ہو سکتا ہے ۔ کیا گھر میں متوازن غذا بچوں کو ملتا ہے ۔ کیا پانی ابال کر استعمال کیا جاتا ہے ۔ کیا نل کا پانی ہے یا ندی نالے کا پانی استعمال کیا جاتا ہے۔ گھر پر بچوں کو اخلاقی اور معا شرتی اقدار سکھاتے ہیں اگر گھر کے بڑے افراد ایک دوسرے کی عزت کر تے ہیں تو بچے بھی ان کا دیکھا دیکھی ایک دوسرے  عزت کریں گے ۔اس کا انحصا ر گھر کی ماحول پر ہے کہ اس گھر میں ایک دوسرے کے ساتھ کیسا سلوک کیا جاتا ہے ۔گھر میں ایکدوسرے سے کیسی باتیں کی جاتیں ہیں اگرگھر والے شائستہ الفاظ استعمال کرتے ہیں تو ظاہر ہے کہ بچے بھی وہی الفاظ گھر والوں سے سیکھے نگے ۔ اگر والدین اپنے ہمسایوں سے اور ارد گرد کے لوگوں سے اچھے تعلقات استوار کیا ہو ا ہے تو بچے بھی یہی کر یں گے ۔ اس طرح بہت سے اقدار جو بچے اپنے والدین یا گھر والوں سے سیکھتے ہیں تب وہ عملی زندگی میں ان کا استعمال کرتے ہیں۔
(۲)اسکول:۰ سکول گھر کے بعد دوسرا ہم عنصر ہے۔
سکول کس قسم کا ہونا چاہئے۔
(۱) سکول گھر سے زیا دہ دور نہیں ہونا چاہئے۔
(۲) تعلیمی معیار اچھا ہو۔
(۳) سکول کی فیس مناسب ہو۔
(۴) سکول کا ماحو ل صاف اور صحت بخش ہو۔
(۵) اساتذہ اور طلباء کے درمیان خوش گوار ماحول ہو۔
(۱)ماحول کی دیکھ بھال کے دوست بنیں:۔
(۱)ماحول کی دیکھ بھال کے دوست بنیں:۔
ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ ہم میں سے ہر ایک ذمہ داری کا مظاہرہ کرے ۔ہم میں سے ہر ایک کو جاننا چاہئے کہ ماحول کو بہتر بنانے کے لئے کس طرح کام کرنا چاہئے۔ ہم میں سے ہر ایک ماحول کی آلودگی کو کم کرنے کے لئے اپنا اپنا کردار ادا کریں تو آلودگی کم ہو گی اور ہمارے بچوں کو اچھا ماحول میسر آئے گا۔
کیا ہم ان آسان تکنیک کے ذریعے اپنا ماحول بہتر بنا سکتے ہیں۔
(۱) پلاسٹک کی تھیلوں کی استعمال سے گریز کریں ۔ان کو جلائے تو زہر یلا دھواں خارج کرتی ہیں۔گندے پانی کے نالوں کو بند کرتی ہیں ۔
(۲) کوڑا کر کٹ کاصحیح معنوں میں اخراج کا مقامی سطح پر بندوبست کیا جائے، کوڑا کرکٹ راستے میں نہ پھینکا جائے۔
(۳) گاڑیوں سے نکلنے والی دھویں کو کم سے کم کر نے کی کوشش کیا جائے ۔
(۴) ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے کیلئے زیادہ سے زیادہ درخت اگایا جائے ۔
(۵) گندے پانی کی وجہ سے پاکستان میں۶۰ فی صد بچے مر تے ہیں اس لئے پانی ابال کر ستعمال کریں ۔
(۶) دھواں سے زیادہ سے زیادہ بچا جائے ۔
(۲) صحت مندانہ طرز زندگی اپنائے
زندگی خد ا تعا لیٰ کی عطا کر دہ نعمت ہے اس لئے یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اسکی حفا ظت کریں ۔ بہت سی بیماریاں ہماری اپنی طرز زندگی کی وجہ سے ہوتی ہیں زندگی گذارنے کی طریقے میں تھوڑی سی ترمیم کر کے ہمیں بہت سی بیماریوں سے نجات مل سکتی ہے مثلاً پانی اگر ابال کر استعمال کیا جائے تو بہت سی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔
(۳) متوازن غذا :۔
متوازن غذا میں گندم سے بنی ہو ئی تما م غذا ئیں جس میں روٹی، چاول ، دلیا ، آلو ، تیل ، گوشت، مچھلی اور مختلف قسم کی دالیں اور سبزیاں شامل ہیں ۔ ایسے غذاؤں کو کم لینا چاہئے مثلاً گھی اور گھی میں تلی ہوئی غذا کم کھائیں جس میں سموسمہ ،کباب ،فرائی کیا ہوا گو شت یا چکن اور چربی میں پکی ہوئی غذائیں ،نمک اور چینی کا استعمال کم کریں۔
(۴) مستعد طرز زندگی:
چونکہ آج کل زیادہ تر کام مشینوں سے لیا جاتا ہے پیدل چلنا ختم ہوگیا ہے ا س لئے ہمیں زیادہ سے زیادہ پیدل چلنے کی عادت کواپنانا چاہئے۔ ورزش زیادہ سے زیادہ کیا جائے۔
(۵) محنت یادباؤ کا مثبت انداز میں سامنا کرنا:
دباؤ
منفی مثبت
رنج خوشی
تناؤکی علامات :۔
جسمانی جذباتی ذ ہنی
۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ َ ََ(۱) پیٹھ کا درد (۱) بد مزاجی (۱) یاداشت کا کمزور ہونا
(۲) سر کا درد (۲) نیند نہ آنا (۲) کام پوری توجہ سے نہ کرنا

(۳) نظام ہضم میں خلل (۳) پانی کا زیا دہ بہنا (۳) خود اعتمادی میں کمی
(۴) جلدی بیماری (۴)بے خبری (۴) منفی سوچ
(۵) وزن کا بڑھنا (۵) ڈپریشن (۵) بھول جانا
روحانی معاشرتی
(۱) با مقصدیت (۱) دوسروں کو الزام دینا
(۲) معاف نہ کرنا (۲) ہر وقت تنقید کرنا
(۳) ذا تی قوت میں کمی (۳) اپنے آپ میں مگن رہنا
(۴) غمگین رہنا (۴) دوسروں کی باتوں پر کم توجہ دینا
تناؤ کے ذرائع:
(۱) ذاتی اسباب اپنی ذات پر عدم اعتمادی۔
(۲)اجتماعی اسباب ۔ازدوجی زندگی ۔بچوں کے ساتھ جھگڑے۔ کوئی دائمی بیماری۔ جس میں جسمانی۔ روحانی ۔زہنی خاندانی کشیدگی ۔
(۳) کام ۔غیر موزوں ملازمت۔ کم آمدنی ۔ وقت کی قلت۔بھاری زمہ داریاں۔تنقید ۔ حوصلہ افزائی کی کمی ۔
(۴)ماحول ۔شور۔خراب کھانا۔ناخوشگوارماحول۔ غربت۔ غیر یقینی۔آبادکاری۔
(۵)سماجی تنہائی۔حوصلہ افزا نظام کی کمی ۔افراد کے آپس کے جھگڑ ے۔ تنازعے خاص طورپر دوسروں کے خیالات یا نظریات بدلنے کے سلسلے ہیں ۔
(۶)تباہ کن طرز زندگی بہت کھانا آرام طلبی وغیرہ۔
تناؤ کو قابو کرنا:
ایک مشہور سائنس دان نے کہا تھا کہ آپ لوگوں کو کچھ سیکھا نہیں سکتے بلکہ صرف ان کو اپنی ذات کو دریافت کرنے میں ان کی مدد کرسکتے ہیں ۔ تناؤ کے حوالے سے یہ بات بالکل صحیح ہے کیونکہ دباؤ کی شدت کو ماہرین کم نہیں کر سکتے بلکہ اس شدت کو ہم خود کم کرسکتے ہیں اس سلسلے میں بنیادی طریقے یہ ہیں ۔
(۱) مطابقت پیدا کرنا :
ہم حالات کو تبدیل نہیں کر سکتے مگر دباؤ کی شدت کو کم سے کم کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں ۔ اور اس طرح کم سے کم تکلیف ہوگی۔
(۲)تنظیم:
آپ اپنے کام کو ایک منظم طریقے سے کرسکتے ہیں ۔ ایک ضروری کام کو پہلے کرنا دوسرے کام کو بعد میں کر نا اس طرح ایک منظم طریقے سے کام چلانے سے آپ کے دباؤ کی شدت کم ہوگی۔
احتیاطی تدابیر:
آپ دباؤ سے بچنے کے لئے آپ ہر کام احتیاط سے کریں اس لئے کہا جاتا ہے کہ پرہیز علاج سے بہتر ہے۔
تناؤ سے بچنے کے طریقے :
(۱)تندرست رہئے:
جیسے کہ ایک صحت مند جسم میں صحت مند دماغ ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ ہماری کمزوری بھی تناؤ کا باعث بن سکتی ہے لہٰذا اپنے آپ کو تندرست رکھئے سونا اور ورزش وغیرہ جاری رکھیں۔
(۲)کفین کم کیجئے:
غذا میں کفین کی مقدار کو کم کیجئے تمباکو کا استعمال نہ کریں چائے ،کافی اور چاکلیٹ وغیرہ کا استعمال کم کیجئے۔
(۳)دعا و بندگی زیادہ سے زیادہ کریں:
دعا اور بندگی سے انسان رو حانی طور پر اور جسمانی طور پر بھی خوش رہتا ہے اور بندگی سکون قلب کا باعث بنتی ہے اور اعصابی تناؤ کم ہوتا ہے۔
(۴)ہنسئے اور مسکرایئے:
ہنسنا ایک بہترین دوا ہے۔ جو لوگ خوش رہتے ہیں ،زیا دہ ہنستے ہیں ان کو نفسیاتی انفیکشن کم ہوتی ہے۔زندگی کے مسائل کا ہنس کر مقابلہ کیجئے
(۵) اپنے آپ سے باتیں کیجئے:
منفی خود کلامی (میں کبھی بھی یہ کام نہیں کر سکتا یا کر سکتی)یا مجھے ھی اس کام کیلئے کیوں چنا گیا ہے ۔ اس قسم کی خود کلا می نہ کریں چونکہ ایسی چیز ناکامی کا باعث بنتا ہے بجائے اس کے آپ پر امید رہیئے اور مثبت عادات اپنائے کامیاب لوگ وہ ہو تے ہیں جو اپنی سوچ اور اپنے احساسات اور اپنے رویے کو اس طرح واضح کر تے ہیں جیسے کہ وہ پہلے سے ہی کامیاب ہو چکے ہوں ۔ تو یقین جانئے کامیابی آپ کی قدم چومے گی۔
(۶) وقت کا صحیح استعمال:۔
کام کے حوالے سے اپنے وقت کا موثر استعمال کیجئے۔ اور اس پر قائم رہئے جب آپ اپنے سر گرمیوں کو وقت کے مطابق تقسیم کرنے کیلئے احتیاط اور سمجھ سے کام لیں گے ، توآپ یہ دیکھ کر حیران رہ جائے نگے کہ ایسے کر نے سے آ پ زندگی اور وقت پر کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں۔
(۷)’’انکار‘‘ کر نے کی جرات پیدا کیجئے :۔
یہ ایک انسان کی زبر دست صلا حیت کہی جا سکتی ہے کہ کس قدر و ثوق سے اپنی بات کہہ سکتا ہے اور اپنی فکر اور احساسات کی قابلیت رکھتا ہے چونکہ ایک چیز اگر آپ کو پسند نہیں تو آ پ کسی کو منوا سکیں اور دلائل سے قائل کر سکیں۔
(۸) چیلنج :۔
اپنی ذاتی نشوو نما کیلئے ضروری خطرات مول لینے میں کوئی حرج نہیں تکلیفْ ْْاُ ٹھائے بغیر کچھ بھی حاصل نہیں کیا جا سکتا ۔پریشانیوں کو بحثیت ایک چیلنج کے دیکھئے نہ کہ انہیں اپنے لئے خطرہ سمجھئے ۔
ڈاکٹر ہینسن کہتے ہیں ’’تناؤ سے چیلنج کو اپنائے اور خوف کو پیچھے چھوڑ دیجئے ‘‘
(۹) اپنی پسند کا خیال رکھئے:۔اپنی ذاتی خوشی کیلئے بھی وقت نکالئے ۔ ایسے ماحول میں رہنے سے پر ہیز کیجئے جو آپ کے دباؤ کو بڑھا ئے اس کے بجائے ایسے سر گرمیوں میں حصہ لیں جو آ پ کو خوشی اور سکون دے۔
(۱۰) رضا کارانہ خدمت :۔ دوسروں کی بے غرض اور پر خلوص خدمت کیلئے وقت نکالئے یہ خدمت اس دائمی اصول کے تحت ہو نی چاہیے کہ جب ہم دوسروں کے کام آتے ہیں تو در حقیقت ہم اپنے آپ کے لئے خوشی کا سامان مہیا کر تے ہیں ۔ ہم اپنی پر یشانیوں کو کم کر تے ہیں ۔
(۱۱) برُ ی اور خطرناک عادتوں سے باز رہئے :۔ ہمارے معاشرے اور ثقافت میں بہت سی برُی عادتوں نے اپنی جڑیں مضبوت کر لی ہیں ۔ جیسا کہ سگریٹ نوشی ، شراپ، منشیات وغیرہ اور جس کی وجہ سے لوگوں کی صحت کو خطرہ لا حق ہو گیا ہے ۔ اس لئے بحثیت والدین ہمیں ان خطرناک اور غلبہ پانے والی عادتوں سے واقفیت ہو نی چاہئے جو ہمارے ماحول کو آلو دہ کر رہیہیںِ ہم ان سماجی برائیوں اور بری عادتوں سے دور رہیں کیونکہ یہ ہمارے جسم اور ذہن دونوں کو نقصان پہنچاتی ہیں ۔

(۱۲)تمباکو نوشی کے مضر اثرات:۔
تمباک نوشی ، سگرٹ، سگار ، اور حقہ کے ذریعے کی جاتی ہے ، اس کو چبایا بھی جاتاہے۔ جیسے نسوار اور تمباکو والے پان۔
تمبا کو میں شامل مضر صحت اجزا مندر جہ ذیل ہیں ۔
۰ نکو ٹین جو کہ ایک مہلک ذہر کی مانند ہے ،
تمبا کو کے دھوئیں میں ۱۲۰۰ کے قریب زہریلے کیمیائی اجزاء ہو تے ہیں جیسے امو نیا ، ھائیڈروجن، نائٹروجن آکسائڈ شامل ہیں۔ جس طرح کار سے خارج ہو نے والے دھوئیں میں کاربن مونو آکسائڈ موجود ہو تی ہے اس طرح سگرٹ نوشی کے دوران بھی خارج ہو تی ہے
۰ سگرٹ نوشی کی وجہ سے ، کینسر، دل کی بیماریاں ، دمہ، ورم نرخرہ، وغیرہ بیماریا ں پھیلتی ہیں۔
۰ کراچی میں کینسر میں مبتلا لوگوں کی ۶۰ فی صد تمباکو نوشی کی وجہ ہے ایسے لوگ پھیپھڑے کا کینسر، منہ کا کینسر، گلے کا کینسر، نرخرہ کا کینسراور گردے کا کینسر میں مبتلا ہو تے ہیں ۔
۰ سگرٹ پینے والے کے ساتھ ساتھ اس کے ساتھ بیٹھے ہو ے لوگ بھی سائڈ سٹر یم سموک کے ذریعے سگرٹ نو شی کر تے ہیں جو زیادہ خطر ناک ہے ۔ ایسا شخص پیسیو سمو کر (passive smoker ) بن جاتا ہے ۔
سگرٹ کی دھوئیں کی وجہ سے جو لوگ سگرٹ نوشی نہیں بھی کر تے ہیں انہیں آنکھوں کی جلن، سر درد، کھانسی، اور سخت الرجی کا سامنا کر نا پڑتا ہے
(۱۲) گھریلو ماحول کو صحت مند رکھنے کے طریقے :۔
(۱) صحت مند گھریلو ماحول:
اس سے مراد صحت کے لحاظ سے وہ عوامل جن کا اطلاق صحت پر اثر انداز ہو تے ہیں مثلاً
۰ صاف اور صحت مند پانی کی سپلائی
۰ گھر کو صاف ستھرا رکھنا
۰ کوڑا کر کٹ کے اتلاف کے محفوظ ذرایع
ان عوامل کا متعدی بیماریوں کے ساتھ قریبی تعلق ہو تا ہے جو فرد سے فرد تک کسی بھی ذریعے مثلاً پانی، خوراک ، یا دوسری چیزوں سے بلا واسطہ یا بالواسطہ پھیلنے کی طرف مائل ہو تی ہے۔
(۲)خوشگوار گھر یلو اور پر خلوص گھریلوماحول :

اللہ تعالیٰ نے ہمیں بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے ان میں سے ایک والدین ہیں جو ہر ایک کو پیارے لگتے ہیں اور جو بچوں کے لئے تحفظ اور سکون کے ذمہ دار ہیں ۔اس لئے والدین کو چاہئے کہ وہ بچو ں کو ایسا ماحول دیں کہ وہ بڑے ہو کر معاشرے کا ایک اہم رکن بنیں ۔ جیسا کہ ماحو ل وہ حالات ہو تے ہیں جن میں ہم اور ہمارے بچے زندگی گذارتے ہیں اس طرح گھر ماحول کا پہلا زینہ ہے اگر گھر کا ماحول خو شگوار اور پر سکون ہو گا اور اگر گھر میں تناوء کی کیفیت کم ہو اور خوشگوار ماحول ہو تو اسکا اچھا اثر ہمارے بچوں پر بھی مثبت طریقے سے ہو گا ۔ اور اگر گھر کا ماحول کشیدہ ہو گا اور والدین یا بہن بھائی آپس میں ہر وقت لڑائی جھگڑا کر تے ہو ں اور بچوں کے سامنے گھر کے بڑے افراد یا والدین بغیر سوچے اور سمجھے جو بھی بات منہ میں آے کہہ دیں تو اس کا بچوں پر منفی اثر ہو گا۔
اس لئے والدین اور گھر کے دوسرے افراد کو چاہئے کہ وہ گھر کے ماحول کو پر سکون اور خوشگوار بنانے کی کوشش کی جائے۔ بچوں کے ساتھ گھر میں رویہ ہی ہے جو ان کو مثبت یا منفی رویہ اپنانے کا باعث بنتا ہے۔ گھر کا ماحول ہی ہے جو بچوں کی نشوونما میں ان کو اخلاقی، معاشرتی ، سماجی اور دوسر ے اچھائیوں اور برائیوں میں تمیز کر نا سکھاتا ہے اگر بچوں کو اچھائی اور برائی میں تمیز ہی نہ ہو تو پھر وہ معاشرے میں کیسے اچھے یا بر ے میں تمیز کر سکتے ہیں اس لئے یہ والدین کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کو شروع دن سے ہی ایسا تربیت اور ماحو ل فراہم کریں کہ وہ بڑے ہو کر ایک اچھا انسان ایک اچھا مسلمان اور ایک اچھا شہری ہو نے کے ساتھ ساتھ ایک چھا ہمسایہ بن سکیں۔
عملی طور پر کوئی گھر مثالی نہیں جہاں سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہو لیکن تھوڑی سی کوشش سے گھر کے ماحول کو اچھا اور خوشگوار بنایا جا سکتا ہے ۔ بچوں کے ساتھ رویہ سر د اور نظر انداز کر نے کی بجائے پر جوش اور تر غیبی ہو تو بہتر طور پر ان کی پرورش ہو سکتی ہے اور نشوونما بچوں
کی ضرورت کا خیال رکھا جائے اگر بچوں کے سیکھنے ، برتاؤ کرنے ، دیکھنے ، محسوس اور تخلیق کر نے کی فطری ضرورت کی تشفی کرنے اور سمجھنے کی کوشش کی جائے تو ہمارے بچے بہت زیادہ خوش ہو ں گے
والدین کی حثیت سے یہ یاد رکھنا چاہئے کہ بچوں کے ساتھ زندگی بسر کرنا یک طرفہ معاملہ نہیں ہے ۔ بچوں سے ہمیں بے انتہا خوشیاں ملتی ہیں اس کے بدلے ہمیں ان کو خلوص اور ان کو سمجھنے کی کوشش کر نی چاہئے ۔ بحثیت والدین ہم اپنے بچوں کے ساتھ فراخدلی اور کشادہ دلی کے ساتھ ساتھ ان کے بارے میں حساس رہیں مگر رائی زنی نہ کریں بلکہ ان کی خود اعتمادی بحا ل رکھنے میں مدد دیں۔
بچوں سے پیا ر کریں :
انہیں پیار کریں ، بچے ہر وقت پیا ر کے بھوکے ہو تے ہیں اس لئے ہمیں ہر وقت ان سے پیار سے پیش آنا چاہئے اگر کسی گھر کے بچوں کو یہ احساس ہو کہ گھر میں ان سے پیار نہیں کیا جاتا تو وہ گھر سے بھاگنے ، خود کشی کرنے اور نشہ اور نشہ آور چیزوں کا استعمال جیسے بری عاد توں کے مر تکز ہو تے ہیں لیکن جس گھر میں بچوں سے پیار کیا جاتاہے وہا ں بچے اپنے آپ کو محفوظ تصور کرتے ہیں ۔
انہیں غور سے سنیں :

ہمیں اپنے بچوں کو غور اور توجہ سے سننا چاہئے وہ جب بات کر تے ہو ں تو ہمیں مکمل توجہ کے ساتھ ان کی باتوں پر دھیان دینا چاہئے ۔ اس طرح اگر ہمارے پاس کام کی کثرت یعنی کام اگر زیادہ ہو تو بچوں سے بات چیت کر نے کیلئے ایک خاص وقت مقرر کیا جانا چاہئے اور اس وقت ان کے ساتھ بات چیت کیا جائے۔
ان کی خود عتمادی کی تعمیر کریں :
جو بچے اپنے بارے میں خود عتمادی اور مثبت احساس رکھتے ہیں کہ وہ کون ہیں اور کیا ہیں ؟ وہ اپنے پاؤں پر کھڑا رہنے اور جس چیز میں وہ یقین رکھتے ہیں اس کے متعلق وہ بہتر سمجھ رکھنے کی پوزیشن میں ہوتے ہیں اپنے بارے میں مثبت احساسات کے بغیر بچے تعلیمی ، سماجی اور شخصیت کے لحاظ سے پروان نہیں چڑھتے ۔ اگر بچے یہ محسوس کر لیں کہ ہم (والدین) سمجھتے ہیں کہ وہ کوئی چیز صحیح نہیں کر سکتے ہیں تو وہ یہ یقین کر لیں گے اور کبھی کچھ نہیں کر یں گے ۔ خود عتمادی کے ذریعے وہ حیران کن کام کر سکتے ہیں ۔
آپ ہمیشہ میرے لئے قابل فخر ہیں :
یہ ایک ایسا لفظ ہے جو بچوں کی خود عتمادی میں اضافہ کر تاہے اگر بچے کچھ اچھا کام کریں تو ان کی حوصلہ افزائی کی جائے ااور انہیں ایسے الفاظ سے نوازنا ان کو ائندہ اچھے کام کرنے پر امادہ کر تاہے اور وہ ہمیشہ اچھائی کا سوچتے ہیں اور وہ جو بھی کام کریں گے عتماد کے ساتھ کریں گے اور عتماد سے کیا ہوا کام میں غلطی کا احتمال کم ہو تا ہے۔
غلطیاں کر نا کوئی برائی نہیں :
اپنے بچوں کو یہ جاننے میں مدد کر یں کہ ہر کوئی غلطیاں کرتا ہے اور یہی وہ اہم طریقہ ہے جس کے ذریعے ہم سب سیکھتے ہیں ۔ غلطیاں کر نا کوئی برائی نہیں ہے۔ جو کام کرے گا غلطی اسی سے ہو گا دوران نشوونما بچوں سے غلطیاں ہو تی ہیں ۔ جس کا بچوں کو علم ہو نا چاہئے ۔ ورنہ وہ غلطیاں کر نے سے اتنے خوف زدہ ہو ں گے کہ وہ کسی چیز کو کر نے کی کوشش ہی نہیں کر یں گے اس لئے بچوں کو اس بات کا احساس ہو کہ غلطی برائی نہیں بلکہ جھوٹ بولنا برائی ہے تو بچے ہر کا م کو عتماد سے کریں گے۔
کچھ باتیں جو بچوں سے نہیں کہنی چاہئے:
بعض اوقات والدین غصے پر قابو نہیں پاتے اور وہ بچوں کو برا بھلا کہتے ہیں اس لئے اپنے غصے پر قابو رکھنی چاہئے ۔ اور بچوں کو غصے سے ایسی بات نہ کہیں کہ ان کو اذیت پہنچے۔
(۱) نا معقول نام دینا یا رکھنا:
بچوں کو تم جھوٹے ہو ، بد تمیزہو ، سست ہو، اس طرح کے نا م نہیں دینا چاہئے ۔ اس سے بچو ں کی عتماد میں کمی آجا تی ہے ۔

(۲) بچوں کو دوسرے بچوں سے موازنہ کرنا:
(۳) کاش میر ے بچے ہی نہ ہو تے:
(۴) اختلاف رائے کا کھلے اظہار کرنا:
والدین اپنے ختلاف کا کھلے عام بچوں کے سامنے اظہا ر نہ کریں اس سے بچو ں میں بھی وہ عادتیں پڑ جاتی ہیں۔
اور بچو ں سے بھی کوئی اختلاف رائے ہو تو اس کو بھی کسی اچھے ا نداز میں بچو ں سے ڈسکس کیا جائے۔ تاکہ ان کو یہ احساس نہ ہو کہ گھر میں یا والدین کے سامنے انکی کوئی حثیت ہی نہیں ۔
(۵) انعاما ت کا غلط استعمال
بچوں کو کسی برُی عادت سے چھڑا نے کیلئے انعامات کی ترغیب نہیں دینا چاہئے ۔ مثلاً یہ کہنا کہ تم بھائی کو تنگ نہیں کرو گے تو تمہیں یہ چیز لا دوں گا۔ ایک ماہر نفسیات کے مطابق ’’ غیر مناسب رویے سے روکنے کیلئے انعام سے نوازنا در حقیقت رشوت دینا ہے۔ انعامات حو صلہ افزائی یا قدر دانی کیلئے دیا جائے نہ کہ رشوت کے احساس کے طور پر۔
(۶) سزا دینے سے گریز کریں:
(۷) برقیا تی دور کے ہمارے بچے:
موجودہ دور میں میڈیا کے بہت سارے سہولیات حاصل ہیں مثلاً ڈش انٹینا ،کیبل،انٹرنیٹ،سی ڈی رام، یہ تمام ایسے ذرائع ہیں جو بچوں کو بہت سارے معلومات فراہم کر تے ہیں یہ اچھے بھی ہوسکتے ہیں اور نہایت برے اور غلیظ بھی۔
اس سے بچے بگڑ بھی سکتے ہیں اور بہت سارا علم بھی حاصل کر سکتے ہیں ۔ اب یہ والدین پر منحصر ہے کہ وہ بچوں کو ایسی ترغیب دیں کہ وہ اچھے پروگرام دیکھیں سائنس کی دنیا ، ورلڈجغرافیک اس طرح خبریں اور ایسی چیزیں دیکھیں جس سے بچوں کی تعمیری علم میں اضافہ ہو ۔ اس لئے بچوں کی TV سے مدد دلایا جا ئے نہ کہ وہ ان کی بگاڑ کا باعث بنے ۔لہٰذا بچوں کو ان عادتوں سے محفوظ رکھنا والدین کا کام ہے۔ اگر ہم شروع سے ہی ان کو اچھے برُے میں تمیز سکھانے کی کوشش کریں تو بچے بگڑنے سے بچ سکتے ہے۔اس طرح اپنے بچے کی سوسائٹی کا بھی خیال رکھا جائے کہ آپ کے بچے کس قسم کے لوگوں کے ساتھ اُ ٹھتے بیٹھتے ہیں ۔ ان کے تعلقات کس کس کے ساتھ ہیں ۔ اس لئے ضروری ہے کہ بچو ں کی ہر تعمیری کام میں ان کی مدد کی جائے اور برائیوں سے ان کو دور رکھنے کی نہ صرف کوشش کی جائے بلکہ بچوں کو برائی اور اچھائی کا تمیز سکھائیں تاکہ وہ خود برُ ی چیزوں سے دور رہیں ۔

۰مذہبی تعلیم کیلئے بچوں کو وقت پر مکتب دینیہ بھیجا جائے اور خیال رکھا جائے کہ آ پ کے بچے دینی سکول ہی جاتے ۰بچوں کو جماعت کے ساتھ نماز کی حاضری کو ممکن حد تک یقینی بنائے
۰بڑوں کی ادب اور چھو ٹوں سے پیا ر کرنا سکھائے
۰معاشرتی ، سماجی اور اخلاقی برائیوں اور اچھائیوں کے بارے میں بچوں کو اگاہی حاصل ہو ، تاکہ وہ خود ہی برُ ی چیزوں سے دور رہیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔