ایک کتے کی کہانی

ایک کتے کی کہانی

33 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

(ایک ایرانی کہانی سے ماخوذ)

سبطِ حسن

لاہور کے لوہاری دروازے کے اندر ایک چوک میں نانبائی، قصاب، پرچون کی چند دوکانیں، ایک گرم حمام اور چائے کی دوکانیں تھیں۔ یہاں صرف روزمرہ کے استعمال کی عام اشیاء ہی دستیاب تھیں۔ چوک کی زمین گرمیوں کی سخت تیز دھوپ میں تپ رہی تھی اور یہاں سے گزرنے والا اکّا دکّا آدمی لُو میں جھلس رہے تھے۔ انسان، حیوان، پرندے سب ہلنے جلنے اور کام کرنے سے معذور تھے۔ وہ سایہ دار جگہوں میں دبکے، شام کا انتظار کر رہے تھے۔ فضا میں گرد و غبار کا ہلکا سا بادل تھا اور ہر گزرنے والی گاڑی دھول اڑا کر فضا کو مزید گندا کر رہی تھی۔

چوک کے ایک طرف بڑ کا ایک بوڑھا درخت تھا جو انسانوں کے دیے زخموں سے کھوکھلا ہو چکا تھا۔ اس کا تنا ایک طرف سے مفلوج ہو چکا تھا مگر تنے کا دوسرا حصہ زندہ تھا اور وہاں سونے کے رنگ جیسے نئے نویلے پتے نظر آرہے تھے۔ بقیہ پتے خاک ، پرندوں کی بیٹوں اور گاڑیوں کے دھوئیں کی سیاہی سے اَٹے تھے۔ ان پتوں کے سایے میں ایک سادہ سا تخت پوش پڑا تھا اور وہاں دو بچے میلی کچیلی سبزی فروخت کر رہے تھے۔ گرم حما م اور چائے کی دوکانوں کے سامنے ایک گندی نالی تھی۔ اس کا پانی گدلا تھا اور اس میں کوڑ ا کرکٹ اور انسانی فضلہ بھرا ہوا تھا۔ پانی بڑی کوشش سے اس میں سے راستہ بناپا رہا تھا۔

چوک سے ذرا ہٹ کر ایک تاریخی برج تھا۔ کبھی یہ ایک گنبداور خوبصورت محرابوں پر مشتمل ہو گا، مگر اب اس کے گنبد کا آدھے سے زیادہ حصہ ختم ہو چکا تھا۔ اس کو دیکھ کر ایسے محسوس ہوتا تھا کہ جیسے لکڑی کے ایک حصے کو دیمک نے کھا کر کھوکھلا کر دیا ہو۔ اینٹیں اکھڑنے سے بننے والے سوراخوں میں چڑیوں نے گھونسلے بنا رکھے تھے۔ وہ بھی شدید گرمی میں منہ کھولے سستا رہی تھیں۔ چاروں طرف مکمل خاموشی تھی۔ صرف کبھی کبھار ایک کتے کے بھونکنے کی آواز سنائی دیتی تھی۔

یہ کتا روسی نسل کا تھا۔ اس کا قد چھوٹا اور جسم پر لمبے لمبے بال تھے۔ کبھی اس کا رنگ دودھیا سفید ہوتا ہو گا مگر اب غلاظت اورمٹی سے خاکستری ہو چکا تھا۔ ٹانگوں پر غلاظت جم گئی تھی۔ چھوٹے چھوٹے کان اور چھوٹی سی دم، چمکتی براؤن آنکھیں اس کے لمبوترے منہ پر بڑی نمایاں تھیں۔ آنکھیں حیرت انگیز طور انسانی آنکھوں سے ملتی تھیں۔ جس طرح کسی بھی انسان کی آنکھیں ، دکھ، خوشی، محبت اور نجانے کیا کیا بتا دیتی ہیں، اسی طرح اس کتے کی آنکھوں میں عجیب سا احساس تھا جو تازہ تازہ یتیم ہونے والے بچے کی آنکھ میں جھلکتا ہے۔

کوئی بھی اس کی آنکھوں سے ظاہر ہونے والے غم اور التجا کو پڑھنے کی کوشش نہ کر رہا تھا۔ جب وہ نانبائی کی دوکان پر جاتا تو نانبائی کا لڑکا اس کو جوتے سے مارتا۔ گوشت کی دوکان پر جاتا تو قصاب مکھیاں اڑانے والے لمبے سے پنکھے سے اس کی پٹائی کرتا۔ وہ چوک میں کھڑی کسی کار کے نیچے سایے میں دبک جاتا تو گاڑی کا مالک اسے جوتے کی نوک سے مارتا۔ بڑ کے نیچے سبزی بیچنے والے لڑکے اس کتے کو مار کر عجیب لطف اٹھاتے تھے۔ کتابڑ کی کھوکھلی جڑوں میں پناہ لیتا تو یہ لڑکے گلاسڑا کدو اس پر پھینکتے ، کتا درد سے بلبلا اٹھتا۔ وہ باہر سڑک کی طرف بھاگتا مگر سڑک پر آتی جاتی گاڑیوں سے سہم کر سڑک پر لگے کسی کھمبے کے نیچے پناہ لینے کی کوشش کرتا۔ لڑکے اس کا پیچھا کرتے اور یہاں پھنسے اس کتے کو لکڑی کی نوک سے کچوکے دیتے۔ کتا تڑپتا اور تکلیف سے بلبلا اٹھتا۔ چوک کے سب لوگ کتے کو ناپاک سمجھتے تھے اور اسے تکلیف دے کر شاید خوش ہو رہے ہوتے تھے۔ کتا اب کھمبے کے نیچے تڑپتا اور کسی نہ کسی طریقے سے کھمبے کی لوہے کی چپٹیوں سے نکلنے میں کامیاب ہو جاتا۔ وہ خالی پیٹ، درد سے تلملاتا برج کی طرف بھاگتا اور برج کے پیچھے بڑے نالے کے ساتھ سرکنڈوں میں جا چھپتا۔ گرمی سے بدحال وہ آہستہ آہستہ رینگتا ہوا نالے کے ارد گرد کیچڑ میں جا بیٹھتا۔

کیچڑ میں گلی سڑی سبزیوں، کوڑے کرکٹ، ٹوٹے پھوٹے جوتوں اور زندہ و مردہ کیڑوں مکوڑوں کی ملی جلی بدبو پھیل رہی تھی۔ کتے نے اس غلیظ پانی میں ڈبکی لگائی ، سر پیروں پر رکھ لیا اور زبان نکال کر ہانپنے لگا۔ اسے غنودگی سی محسوس ہو رہی تھی جیسے کہ ایک بچے کو رات کے پچھلے پہر سردی لگنے سے نیند خراب ہونے پر محسوس ہوتی ہے۔۔۔ سوئے اور جاگے ہوئے کی درمیانی صورت۔ کتا اسی کیفیت میں دور تک پھیلے کھیتوں کو تکنے لگا۔ اس کا دل چاہتا کہ وہ کھیتوں میں جا کر اچھلے کودے اور زمین پر لوٹے۔ مگر وہ یہاں موجود لوگوں سے ڈرتا تھا۔ یہ لوگ اسے اینٹوں اور پتھروں سے مارتے اور اس کے جسم کا ہر حصہ درد سے دکھتا رہتا تھا۔ وہ یہاں دوڑنے کی خواہش کبھی بھی پوری نہ کر سکتا تھا۔

اسے اپنا پرانا زمانہ یاد آیا۔ اس میں چھوٹی چھوٹی خواہشیں جاگ اٹھیں۔ اسے یاد آیا کہ کبھی اس کا بھی ایک مالک ہوا کرتا تھا۔ وہ اس کے گھر کی رکھوالی کرتا تھا۔وہ اس کے بچوں کے ساتھ کھیلا کودا کرتا تھا۔ شام کو گاڑی میں بچوں کے ساتھ بیٹھ کر سیر کے لیے جاتا تھا۔ بچے ہر وقت اس سے پیار دلار کرتے۔ اسے وقت پر کھانا ملتا اور وہ وقت پر سو جاتا تھا لیکن یہ سب اس سے چھن چکا تھا۔ یہاں لوہاری دروازے میں غلاظت کے ڈھیر پر وہ ڈرتے ڈرتے جاتا اور ہڈیاں اور سوکھی روٹیاں ڈھونڈا کرتا۔ دن بھر لوگوں کی دھتکاریں اور مار پیٹ حد سے گزر جاتی تو وہ احتجاج کرتا۔۔۔ اس کے بھونکنے کی آواز ٹوئیں ٹوئیں میں بدل جاتی۔

اپنے مالک کے گھر میں وہ تندرست ، دلیر اور عزت والا تھا، مگر اب خارش زدہ، غلیظ ، ڈر پوک اور حد درجہ ذلیل۔ کہیں کوئی پتہ بھی سر کتا تو وہ ہل جاتا۔ کبھی کبھار تو اپنی ٹوئیں ٹوئیں سے ہی اس کا جسم لرز جاتا۔ اس میں اتنی ہمت نہ رہی تھی کہ وہ اپنی خوراک کہیں سے اچک لے۔ وہ غلاظت کے ڈھیر سے خوراک حاصل کرنے کا عادی ہو چکا تھا۔ قصاب، نانبائی اور چائے کی دوکانوں سے مایوس ہو کر وہ سیدھا وہیں جاتا بلکہ یوں کہئے کہ بھوک اسے کھینچ کر وہاں لے جاتی۔

اس حالت تک پہنچے دو سال گزر گئے تھے۔ اس مدت میں اس نے کبھی ایک وقت بھی پیٹ بھر کر نہیں کھایا تھا۔ ایک رات بھی وہ چین کی نیند نہیں سویا تھا۔ ایک آدمی بھی ایسا نہیں ملا تھا جو اس کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرتا۔ وہ کئی دفعہ سوچتا کہ اس دروازے کے لوگ بھی دیکھنے میں اس کے مالک جیسے ہی تھے مگر وہ اس سے پیار کیوں نہیں کرتے۔ اس کا مالک ا س سے کس قدر نرمی سے پیش آتا تھا۔ بیماری میں اس کا علاج کرواتا اور جب کبھی اسے کہیں سے خطرہ ہوتا تو فوراً مدد کے لیے پہنچ جاتا۔ اس دروازے کے لوگ نجانے کیوں اسے ہر وقت تکلیف ہی دیتے رہتے تھے۔۔۔! اس کا دل ڈوب جاتا اور اسے لگتا جیسے کہ وہ اجنبی جگہ پر بیٹھا ایک بچہ ہو جو اپنے پیارے ماں باپ اور بہن بھائیوں سے بچھڑ گیا ہو۔

حلوائی کی دوکان سے آنے والی بو سونگھ کر اسے اپنی ماں کی یاد آتی۔ اسے سخت بے چینی ہوتی۔ اس کے سامنے ایک منظر گھوم جاتا جب وہ چھوٹا سا بچہ تھا اور وہ ماں کی گرم گود میں اپنے دوسرے بہن بھائیوں کے ساتھ مل کر ماں کا دودھ پیا کرتا تھا۔ ماں کا دودھ کتنا مزیدار ہوتا تھا۔ اس کے پینے سے اس کے جسم میں ایک دم طاقت آجاتی اور وہ اپنے بہن بھائیوں سے لاڈدلار کرنے لگتا۔ اس کی ماں کیسے پیار سے دودھ پلاتے وقت، اپنی زبان سے اسے چاٹ چاٹ کر صاف کرتی رہتی تھی۔ ایسے میں اسے اتنا مزا آتا کہ اس کی آنکھیں خود بخود بند ہونے لگتیں اور وہ اپنے ننھے ننھے پنجے ماں کے پیٹ پر پھیرتے ہوئے مزے سے سوجاتا۔

اس کے مالک نے اپنے گھر کے پچھواڑے میں، باغیچے کے ساتھ، اس کے رہنے کے لیے ایک چھوٹا سا گھر بنایا ہوا تھا۔ اس کے اندر گھاس بچھی تھی اور اس پر لیٹنے میں بڑا مزا آتا تھا۔ یہ نرم تھا اور سردیوں میں بالکل سردی نہ لگتی تھی۔ اس کی ماں بھی اس کے ساتھ اسی گھر میں رہتی تھی۔ دوپہر کی دھوپ میں وہ تمام بہنبھائی اور ان کی ماں سب مل کر خوب کھیلتے تھے۔ اس کی ماں جھاڑیوں میں اپنا منہ اور اگلی ٹانگیں زمین پر ٹیک لیتی اور یہ سب بہن بھائی دوڑ کر اس کے سا تھ چمٹ جاتے۔ کوئی ٹانگ پکڑتا تو کوئی سر۔۔۔ ماں ان کو ہولے سے دھکا دیتی۔ کسی کی ٹانگ پکڑ لیتی اور اس کی گردن دبوچ لیتی۔ وہ سب ماں سے گتھم گتھا ہو جاتے۔ کبھی کسی بچے کو ہلکا سا دباؤ بھی آجاتا اور وہ ٹوئیں ٹوئیں کرتا ایک طرف بھاگ جاتا مگر فوراً ہی واپس لوٹ آتا اور دھینگا مشتی میں شامل ہو جاتا۔

شام کو کھیلنے کے لیے انہیں دو اور ساتھی مل جاتے۔ مالک کے دو بچے تھے ایک لڑکا اور ایک لڑکی ۔ وہ گھر واپس آتے تو ان کے ہاتھ میں بڑے بڑے بستے ہوتے۔ کتے کی ماں کلیل کرتی۔ ان کی طرف لپکتی اور ا ن کے بستوں کو منہ میں لے کر کھینچتی۔ اس کے پیچھے اس کے منے منے سے بچے دوڑتے آتے۔ وہ مالک کے بچوں کے پاؤں میں لوٹتے۔ بچے ، پلّوں کو اٹھا لیتے۔ انہیں پیار کرتے اور اپنے ہاتھ سے بسکٹ اور ٹافیاں کھلاتے۔ کچھ ماہ اسی خوشی میں گزرے اور پھر اس کی ماں اور دیگر بہن بھائی کہیں غائب ہوگئے۔ وہ انہیں ڈھونڈتا رہا مگر ان کا کچھ بھی پتہ نہ چلا۔ وہ گھر میں اکیلا رہ گیا۔ اسے یہ سب اچھا نہ لگتا تھا۔ وہ کئی دن چپ چاپ اپنی ماں اور بہن بھائیوں کو یاد کرتا رہا۔ اس کو کھیلنا اور گھاس پر لوٹنا بالکل اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ شام کو مالک کے بچے اس سے کھیلتے اور اسے بسکٹ بھی کھلاتے مگر ایک دن اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ اس کا دل چاہتا تھا کہ اپنی ماں اور بہن بھائیوں کے پاس چلا جائے۔ وہ یہ سب اپنے مالک کے بچوں سے کہنا چاہتا تھا۔ اسے یہ سب کہنا نہیں آرہا تھا۔ اس کے منہ سے صرف ایک ہو۔و۔و۔و کی لمبی سی آواز نکلی اور وہ چپ ہو گیا۔

آہستہ آہستہ وہ بڑا ہوتا گیا۔ اپنی ماں اور بہن بھائیوں کی یاد، اس کے ذہن میں دھندلی سی رہ گئی۔ اب وہ سیانا ہو گیا تھا۔ وہ اپنے گھر میں رہنے والے تما م لوگوں کی بوپا لیتا تھا۔ قدموں کی آہٹ سن کر ہی اسے پتہ چل جاتا کہ کون ہے۔ جب یہ لوگ کھانے کی میز پر بیٹھتے تو وہ کمرے کے چکر کاٹنے لگتا۔ اس کی مالکہ اسے وہیں کھانے کے لیے کچھ دے دیتی۔ اس کے مالک کو ایسا کرنا پسند نہ تھا۔ وہ بوڑھے ملازم کو کہتا کہ وہ اسے اس کے گھر میں کھانا دے۔ ملازم، کتے کے گھر کے پاس پڑے برتن میں ابلی ہوئی اوجڑی ڈال دیتا۔ اسے یہ کھانے میں بڑا مزا آتا۔ اکثر دوسرے مزیدار کھانے بھی ملتے جن میں قیمہ اور گوشت شامل ہوتے۔ اسے ہڈیاں کھانے میں خاص طور پر مزا آتا تھا۔

مالک اسے اکیلا گھر سے باہر نہیں نکلنے دیتا تھا۔ کئی بار اس کا دل چاہتا کہ ہمسایے میں رہنے والے دوسرے کتوں سے ملے اور ان سے جی بھر کے کھیلے مگر مالک اسے ایسا کرنے سے روکتا تھا۔ ایک دن مالک کے کچھ دوست آئے۔ وہ انہیں اچھی طرح پہچانتا تھا۔ وہ سب گاڑی میں بیٹھے اور مالک نے اسے سیٹی مار کر بلایا۔ یہ دوڑتا ہوا آیا اور گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ وہ اکثر مالک کے ساتھ سیر کرنے جایا کرتا تھا او راطمینان سے پچھلی سیٹ پر بیٹھا رہتا تھا۔ مگر اس شام وہ خاصا بے چین تھا۔

مالک کی گاڑی مختلف سڑکوں سے ہوتی ہوئی لوہاری دروازے کے چوک میں آرکی۔ سب لوگ نیچے اترے اور برج کی طرف بڑھے۔ وہ بھی ان کے پیچھے پیچھے تھا۔ برج کے پیچھے اسے کتوں کی آوازیں سنائی دیں۔ و ہ رک گیا اور کچھ دیر ا ن کی بو سونگھتا رہا۔ پھر گندے نالے میں سے گزر کر ان کے پاس جا پہنچا۔ اسے کئی دفعہ مالک کی آواز سنائی دی مگر وہ کتوں کے ساتھ کھیل میں ایسا محو ہوا کہ اس نے اس کی آواز کو سنی، ان سنی کر دیا۔ شام کے وقت دوسرے سارے کتے غائب ہو گئے اور وہ اکیلا رہ گیا۔

اچانک وہ سخت پریشان ہو گیا۔ اسے اپنے مالک کا خیال آیا۔ وہ برج کی طرف آیا اور اپنے مالک کی بو سونگھنے لگا۔ اس کا مالک وہاں موجود نہیں تھا۔ وہ واپس چوک میں آیا۔ یہاں اس کے مالک کی بو، طرح طرح کی دیگر اشیاء کی بو میں مل کر گم ہو گئی تھی۔ اس کو پسینہ آرہا تھا۔ اس کے جسم میں سخت کمزوری سی ہو رہی تھی اور آنکھوں کے سامنے سائے ہی سائے ابھرنے لگے۔ وہ سخت فکر مند تھا۔ کیا اس کا مالک اسے چھوڑ کر چلا گیا تھا؟ اب وہ مالک کے بغیر کہاں رہے گا؟ اب اسے کھانا کون دے گا؟

وہ رات دیر تک لوہاری دروازے کے ارد گرد گلیوں میں چکر کاٹتا رہا۔ آخر تھک ہار کر برج کے پیچھے، نالے کے پار آگیا۔ اسے کتوں کی بو آئی۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا مگر وہاں کوئی کتا موجود نہ تھا۔ وہ بھوکا پیاسا تھا۔ اس کا اونچی آوا زمیں رونے کو دل چاہ رہا تھا۔ اس نے بلند آواز نکالی۔ہو۔و۔و۔و۔یہ آواز بڑی درد ناک تھی کہ اس کو سننے والے کا دل ڈوب جاتا۔ اس نے اپنا سر اگلے پیروں پر رکھا اور آنکھیں بند کر لیں۔۔۔ خواب میں اسے لگا کہ جیسے کوئی اسے سیٹی بجا کر بلا رہا ہے۔ وہ ادھر اُدھر دیکھتا ہے۔ ہر طرف لوگوں کی بھیڑ ہے۔ اسے سیٹیوں کی آواز تو سنائی دی مگر اس کا مالک کہیں نظر نہیں آیا۔ وہ گھبراہٹ میں ادھر اُدھر بھاگتا ہے۔ وہ لوگوں کے پیروں میں سے گزرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسے رستہ نہیں ملتا۔ ایک شخص اسے جوتے سے مارتا ہے تو دوسرا اسے جوتے سے دوسری طرف دھکیل دیتا ہے۔ ایک آدمی اسے لاٹھی سے مارتا ہے تو ایک اونچی آواز میں اسے دھتکارتا ہے۔ اسی مصیبت میں اسے زور کا ایک پتھر لگتا ہے او راس کے منہ سے چیخ نکل آتی ہے۔ یہ چیخ خواب میں ہی نہیں، سچ مچ اس کے منہ سے نکل آتی ہے۔ وہ اٹھ جاتا ہے۔ اس کا جسم پسینے میں شرابور، خوف سے کانپ رہا تھا۔

وہ ایسے لیٹا ہوا تھا جیسے کہ اس کے جسم میں بالکل جان نہ ہو۔ کچھ دیر کے بعد اسے محسوس ہوا کہ اسے شدید بھوک لگی ہے۔ وہ اٹھا اور پھر گلی کوچوں میں پھرنے لگا۔ وہاں ہر طرف طرح طرح کی غذاؤں کی مہک آرہی تھی۔ نانبائی کی دوکان کھلی تھی اور وہاں سے تازہ تازہ روٹیوں کی خوشبو آرہی تھی۔ اس نے نانبائی کو حیرت سے دیکھا۔ نانبائی نے روٹی کا ایک ٹکڑا اس کی طرف پھینکا۔ اس نے وہ ٹکڑا کھا لیا اور دم بلانے لگا۔ نانبائی نے بقیہ روٹی دوکان کے سامنے چبوترے پر رکھ دی۔ وہ چبوترے کے پاس آکر روٹی کھانے لگا۔ نانبائی نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ جب اسے اطمینان ہو گیا کہ کتا کاٹے گا نہیں تو اس نے دونوں ہاتھوں سے اس کا پٹا اتار لیا۔ پتا اترتے ہی اس کی گردن سے بوجھ اتر گیا اور اسے آرام محسوس ہوا۔ اس نے نانبائی کو دیکھا اور قریب جا کر اس کا پاؤں چاٹنا چاہا۔ نانبائی نے نہایت بے رحمی سے اسے لات ماری اور ہاتھ دھونے کے لیے دوکان پر چڑھ گیا۔

وہ اب بھی اپنے پٹے کو پہچانتا تھا۔ یہ پرچون والے کی دوکان کے سامنے لٹکا ہوا تھا۔ نانبائی نے یہ پٹا اتار نے کے لیے اس پر ترس کھایا۔ مگر گردن میں پٹا نہ ہونے کی وجہ سے کوئی بھی ا س پرترس نہ کھا تا تھا۔ اس روز سے لے کر آج تک اسے دھتکار، اینٹوں اور پتھروں سے ملنے والے زخموں کے علاوہ کچھ نہ ملا تھا۔ اسے محسوس ہوتا تھا کہ وہ ایسی جگہ آگیا ہے جہاں کوئی بھی اس کا ساتھی اور ہمدرد نہیں۔ کسی کو اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ سب لوگ اس کے دشمن تھے اور اسے تکلیف دے کر خوش ہوتے تھے۔

مالک سے بچھڑنے کے بعد پہلے چند روز تو سخت مشکل میں گزرے۔ پھر وہ اس زندگی کا عادی ہو گیا۔ اسے معلوم تھا کہ اسے اپنے کھانے کے لیے غلاظت کے ڈھیروں کے علاوہ کسی اور جگہ سے کچھ نہیں ملنے والا۔ غلاظت کے ڈھیر پر ہڈیاں ، چھیچڑے ، چربی، مچھلی کا سر ، بکرے کی دم اور کچھ اور چیزیں جن کی بو وہ ابھی تک نہیں پہچان سکا تھا، مل جاتی تھیں۔ یوں وہ اب بھی کبھی قصاب اور نانبائی کی دوکان پر چلا جاتا تھا مگر وہاں دھتکار اور چوٹوں کے علاوہ کچھ نہ ملتا تھا۔

اگر کسی بچے کو اس کی امی سے مار پڑے تو وہ شام کا انتظار کرتا ہے کہ وہ ابو کو بتائے گا اور اس کے ابو اسے پیار کریں گے۔ اگر وہ شام کو ابو سے بات کرنا چاہے اور وہ بچے کو دھتکار دیں تو بچے کا دل بجھ جاتا ہے۔ اگر سکول میں بھی مار پیٹ اور بدتمیزی ہو تو بچہ سخت پریشان ہو جاتا ہے۔ بچہ اپنے دل کا دکھ اور تکلیف اپنے دوستوں کو سنائے گا اور اس طرح اس کا دکھ کم ہو جائے گا۔

اس کتے کی حالت اس بچے سے زیادہ تکلیف دہ تھی۔ وہ سارا دن تکلیفیں سہتا اور کسی کو کچھ کہے بغیر چپ چاپ برج کے پیچھے آکر لیٹ جاتا۔ اس کا کوئی دوست بھی تو نہیں تھا۔ وہ سب کو پیار سے دیکھتا ۔اگر کوئی اس کو صرف دیکھ ہی لیتا تو وہ دم ہلا کر اپنے پیار کا اظہار کرتا۔ اسے کوئی مارتا یا دھتکارتا تو وہ چپ چاپ سہہ لیتا۔ اس کو کبھی غصہ نہ آتا اور نہ ہی ان کے لیے اس کے دل میں نفرت کا جذبہ پیدا ہوتا۔ کبھی کبھار اگر وہ کسی کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے کوئی معصوم سی حرکت کر بھی لیتا تو اسے جواب میں غصہ ہی ملتا۔

ایک دن وہ نالے پر بیٹھا اونگھ رہا تھا کہ اچانک اسے کباب کی بو آئی۔ پہلے ہی بھوک سے اس کا دم نکل رہا تھا۔ وہ نالے سے نکلا اور ڈرتے ڈرتے چوک کی طرف بڑھا۔ کباب کی دوکان کے سامنے پہنچا ہی تھا کہ ایک کار دھول اڑاتی وہاں آن پہنچی۔ ایک آدمی باہر نکلا۔ اس کی نگاہ اس کتے پر پڑی۔ وہ اس کے قریب آیا اور اس کی پیٹھ تھپکائی۔ یہ آدمی اس کا مالک نہ تھا۔ اسے دھوکہ نہ ہوا کیونکہ وہ اپنے مالک کی بو اچھی طرح پہچانتا تھا۔ وہ حیران تھا کہ یہ شخص اس کا مالک نہ تھا پھر بھی اس نے اسے کیونکر چھوا۔ اب تو اس کی گردن میں پٹا بھی نہ تھا۔

وہ غور سے اس شخص کو دیکھتا رہا۔ کیا واقعی یہ شخص اس کا مالک نہ تھا؟ اسے دھوکہ نہیں ہو رہاتھا؟ وہ شخص دوبارہ اس کی طرف بڑھا اور اس کی پیٹھ تھپکائی۔ وہ اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔ وہ شخص کباب والے کی دوکان پر جا بیٹھا۔ کتا، اس دوکان کو اچھی طرح پہچانتا تھا۔ اس میں سے قسم قسم کے کھانوں کی مہک آرہی تھی۔ ایک لڑکا دوکان سے طرح طرح کے کباب ، دہی ، روٹی اور لسی لے کر آیا اور انہیں اس شخص کے سامنے رکھ دیا۔ اجنبی، روٹی کے لقمے لسی میں بھگو بھگو کر کتے کو ڈالنے لگا۔ کتا روٹی کے ٹکڑے کھا رہا تھا اور ساتھ ہی اس شخص کو دیکھتا جا رہا تھا جیسے اس کا شکریہ ادا کر رہا ہو۔ اسے حیرت بھی ہو رہی تھی کہ یہ شخص اسے مارنے یا دھتکارنے کی بجائے کھانا کیوں کھلا رہا تھا۔ اسے لگا شاید یہ خواب ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ اسے پیٹ بھر کر کھانا مل جائے۔ شاید اسے اس کا نیا مالک مل گیا ہو؟

اجنبی کھانا کھا کر اٹھا اور برج کی طرف بڑھا۔ وہ بھی اس کے پیچھے پیچھے ہو لیا۔ وہ شخص برج کے پاس رکا۔ اس کتے کا مالک بھی اس روز یہاں تک آیا تھا۔ کیا یہ لوگ بھی کتے کی طرح اپنے ساتھی لوگوں کو ڈھونڈنے یہاں آتے ہیں؟ اجنبی کھنڈر کے اندر گیا اور کچھ دیر کے بعد باہر نکل آیا۔ وہ دوسرے راستے سے واپس چوک میں آیا۔ وہ گاڑی کے دروازے کے پاس کھڑ ادم ہلاتا رہا۔ گاڑی چلی تو وہ اس کے پیچھے پیچھے بھاگنے لگا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اپنے نئے مالک کو بھی کھودے۔

اس کے جسم میں طاقت ختم ہو رہی تھی مگر پھر بھی وہ نہایت تیزی سے کا ر کا پیچھا کر رہا تھا۔ ایک دفعہ تو وہ کار کے بالکل قریب پہنچ گیا، لیکن کار کی رفتار تیز ہوئی اور وہ پیچھے رہ گیا۔ گاڑی آبادی سے دور نکل آئی تھی اور کھلے علاقے میں سے گزر رہی تھی۔ وہ اب بھی اس کے پیچھے تھا۔ اس کی سانس پھول رہی تھی۔ زبان باہر نکلی ہوئی تھی اور منہ سے جھاگ بہہ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا رہا تھا۔ اسے محسوس ہوا کہ وہ مزید بھاگ نہیں سکتا۔ وہ رک گیا۔ سانس لینے کی کوشش کرنے لگا۔ اس نے سوچا کہ اسے سڑک سے ہٹ جانا چاہیے۔ اس نے چلنے کی کوشش کی مگر اس سے چلا نہیں جا رہاتھا۔ وہ اپنے آپ کو گھسیٹنے لگا اور سڑک کے ساتھ ایک نالی میں گر پڑا۔ اس کے پیٹ میں درد ہو رہا تھا۔ وہ نالی کے گندے پانی میں ٹانگیں پھیلائے لیٹ گیا۔ اس کا دماغ پھٹا جا رہا تھا۔ اسے محسوس ہوا کہ کوئی چیز اس کے ناک میں سے آہستہ آہستہ بہہ رہی ہے۔ یہ چیز اس کی ٹانگ پر پڑی۔ یہ سرخ تھی۔ وہ نالی کے کیچڑ میں تڑپ رہا تھا۔ پھر اچانک اس کا جسم خاموش ہو گیا۔ اس کا جسم اکڑنے لگا۔ اس کی ٹانگیں بے حس ہو گئیں۔ اسے ایک دم سکون کا احساس ہوا۔ اس کے دماغ پر کسی دھتکار یا مار پیٹ کی کوئی یاد تھی اور نہ کوئی بوجھ۔

شام کے وقت تین گدھ اس پر منڈلا رہے تھے۔ انہوں نے دور سے اس کی بوپالی تھی۔ وہ لمبے لمبے پر پھیلاتی زمین پر اتریں۔ اسے دیکھتیں اور پھر اڑ جاتیں۔ پھر اس کے اوپر منڈلانے لگتیں۔ وہ اس کی بھوری آنکھوں کو نکالنا چاہتی تھیں جو ایک ننھے بچے کی آنکھوں جیسی دکھائی دیتی تھیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔