مغرب کے لئے لمحہ فکریہ

مغرب کے لئے لمحہ فکریہ

8 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

بلال اکبر قریشی

قرطبہ کے مسلمانوں کے مدرسہ سے فارغ التحصیل طالب علم نے آکسفورڈ کے دینی مدرسے کی بنیاد رکھی جو آج دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے۔جو پانچ سو سال پہلے تاریک دور میں رہ رہا تھااب اس کی چکا چوند سے آنکھیں خیرہ ہونے لگیں۔

یورپی اقوام کو بندوق سے گولی چلانا آیا تو انہوں نے پوری دنیا کو علمی طاقت اور اسلحے کی طاقت سے لیس ہو کر اپنی مرضی سے چلانا شروع کر دیا۔ممالک محروسہ کی آمدنی سے یورپ کی پژمردہ چہرے پر رونق آ گئی۔نت نئی ایجادات ہونے لگیں ۔مادی ترقی نے یورپ کو لا محدود کامیابیوں سے ہمکنار کیا۔اہل یورپ نے خطہ ارضی پر موجود علوم کو یکجا کیا اور تحقیق کے بند دروازے کھول دئے۔بجلی، ٹیلیفون، ریل اور جہاز نے انسان کو پر لگا دئے۔اب و ہ چاند اور ستاروں پر اپنے جھنڈے گاڑ رہا ہے۔ان کامیابیوں نے انسان کی زندگی میں انقلاب برپا کر دیا۔اس کے اندر غربت اور بیماری کے خلاف جنگ لڑنے کی سکت آ گئی انسانوں کی زندگی بہتر ہو گئی۔

انقلاب فرانس ایک ایسا بڑا واقعہ تھا جس نے یورپ کی سوچ کے دھارے تبدیل کر دئے۔یقیناًاس کے پیچھے اس وقت کے فلسفیوں کی سوچ کار فرما تھی۔سوچ کی تبدیلی سے یورپ کے عام آدمی کے گلے سے غلامی کا طوق اترنے لگا تو یورپ کے حکمرانوں نے انہیں نسلی تفاخر کی زنجیروں میں جکڑ دیا۔اسی وجہ سے پہلی جنگ عظیم جیسا سانحہ پیش آیا ۔ یورپ کے حکمرانوں کی توسیع پسندی کی ہوس نے انہیں ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑا کیا۔ اپنے آپ کو تہذیب یافتہ کہنے والوں نے انسانی لاشوں کے انبار لگا دئے۔ان کے سامنے چنگیز اور ہلاکو کے مظالم بھی ہیچ نظر آنے لگے۔ایکدوسرے کو نیچا دکھانے کی اس خواہش کی بطن سے دوسری جنگ عظیم نے جنم لیا۔

ان دو ہولناک جنگوں کے بعد امریکہ اور یورپ نے ملکرایک نئی بساط بچھائی،وقت کے ساتھ ساتھ روس اور امریکہ کی اہمیت باقی یورپی اقوام سے بڑھ گئی ، دنیا کو اس طرح تقسیم کیا گیا کہ کوئی بھی ملک اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کے قابل نہ رہا۔ ہر قوم امریکہ یا روس کی دست نگر ہو گیا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ان ممالک نے یہ اہمیت حاصل کرنے میں محنت،تخلیق، قانون اور ضابطوں پر بھی عمل کیا۔امریکہ نے آزاد دنیا کا راہنما بن کر اپنا اثر و رسوخ بڑھایااور روس نے انقلاب کے نام پر دنیا کواپنا محکوم بنایا۔یورپ کے دوسرے ممالک صدیوں کی لوٹی ہوئی دولت پر اکتفا کر گئے باقی دنیا کے ملک بظاہر آزاد کر دئے گئے مگر ان کی معیشت غلامی کے زنجیروں سے آزاد نہ ہو سکی۔

آج لا طینی امریکہ پر نظر ڈالیں یا افریقہ ، مشرق وسطیٰ، وسط ایشیاء یا مشرق بعید پر ، قومیں ایک دوسرے سے دست و گریبان ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شمالی کوریا، جنوبی کوریا اور جاپان کی کشیدگی کا اسلام سے کیا تعلق؟ویت نام اور کمبوڈیا ، تائیوان اور چین کے درمیان اختلاف کے بیچ کس نے بوئے؟ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشمیر کی تلوار کس نے رکھی؟ افغانستان اور ایران، کویت اور عراق میں مسائل کس نے پیدا کئے؟اسرائیل کا قیام کون عمل میں لایا؟افریقہ میں لاگوس،گنی بساؤ میں وینزویلا، چلی،کیوبااور برازیل میں کون سا اسلامی انقلاب آرہاَ کیا وہاں کے غیر مقبول حکمرانوں کو مغربی طاقتوں اور خاص طور پر امریکہ نے مسلط کیا ہوا ہے۔

امریکہ اور یورپ اگر جمہوریت پر ایمان رکھتے ہیں تو وہ پاکستان میں فوجی حکمرانوں کی حمایت کیوں کرتے ہیں؟وہ نائجیریا میں انتخابی نتائج کو تسلیم کیوں نہیں کرتے؟انہیں حماس کی جیت کیوں پریشان کر رہی ہے؟یہ قومیں جمہوریت اپنے لئے پسند کرتی ہیں۔ اہل مغرب آزاد معیشت کا نعرہ اپنے لئے پسند کرتے ہیں دوسرے ممالک کی درآ مدات پر کوٹا سسٹم نافذ کر کے معیشت کو پابند کر دیتے ہیں اب وہ ممالک میں کام کرنے والے مسلمانوں کو پابندیوں میں جکڑ رہے ہیں۔آزاد معیشت اور آزاد دنیاکے نعرے دم توڑ رہے ہیں، جب تک روس میدان میں موجود تھا مغربی تہذیب کے داغ دھبے چھپے ہوئے تھے۔ انہیں روس کے مقابلے میں آزاد معاشرے کا راہنما ہونے کا اعزاز حاصل تھا مگر ان کی خامیاں ظاہر ہونے لگی ہیں۔

دنیا کو تقسیم کرتے وقت امریکہ اور مغربی اقوام نے انتہائی سوچ بچار سے اپنے مفادات کا تحفظ کر لیا تھا مگر انہیں اندازہ نہیں تھا کہ قدرت کے پاس اس نظام کو کنٹرول میں رکھنے کے لئے کئی ظاہری اور خوابیدہ طاقتیں ہیں جس کا ادراک انسانی ذہن نہیں کر سکتا۔جو نئے عوامل ظاہر ہوئے ہیں انہوں نے طاقت کا توازن بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔کسے معلوم تھا کہ گزشتہ صدی کے آخر تک روس ، کرغزستان، صحرائے گوپی، افغانستان، ایران، پاکستان، سعودی عرب، وینز ویلا، نائجیریا، انڈونیشیا، عراق، آذربائیجان، تاجکستان، ابو ظہبی، کویت، ازبکستان اور تاتارستان کے تیل اور گیس کے ذخائر امریکہ اور یورپ کے کنٹرول میں نہیں رہیں گے ، اس کے حصول کے لئے جنگیں لڑنی پڑیں گی اور ان جنگوں کو دہشت گردی کا نام دینا پڑیگا،انہیں آزاد معیشت کا نعرہ لگاتے ہوئے اندازہ نہیں تھا کہ چین، بھارت، ملائشیاء اور برازیل سستی اشیاء پیدا کر کے انہیں عالمی تجارت میں بے دست و پا کر دیں گے۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور مغربی اقوام جمہوریت پر یقین رکھتی ہیں نہ آزاد معیشت پر اور نہ ہی سول سوسائٹی کی بالا دستی پر ، وقت نے ان کے چہروں سے نقاب اٹھا دیا ہے مغربی تہذیب ایک استحصال قوت تھی۔ اب اس کی بنیادیں ہل گئی ہیں مغربی ممالک کی تیز رفتار ترقی نے پوری دنیا کے ماحولیاتی نظام کو خراب کر دیا ہے۔ان کے صنعتی اور ایٹمی فضلے نے اوزوز کی تہوں میں سوراخ کر دیا ہے دنیا بھر میں آلودگی پھیلانے والے ممالک میں ستر فیصد حصہ ان ممالک کا ہے جس کی وجہ سے نئی نئی بیماریاں انسانوں کی ہلاکت کا باعث بن رہی ہیں۔یورپ اور امریکہ دنیا میں جمہوریت کو کامیاب نہ ہونے دیں اور اپنی جمہوریت پر فخر کریں ، دنیا کی غلط تقسیم کی وجہ سے جنگیں ہوتی رہیں ور کمزور ممالک غیر محفوظ ہو کر اپنا دفاع کے لئے ان سے ہتھیار خریدیں ۔ دنیا کے غلط تقسیم کی وجہ سے جنگیں ہوتی رہیں ہندوستان بھی دفاع کے لئے امریکہ کی تجوریاں بھرے اور پاکستان بھی، اسرائیل کو مضبوط کریں اور سعودی عرب کو دفاع کے نام پر لوٹیں، چین کے دروازے پر تائیوان میں ہتھیاروں کا ڈھیر لگا دیں، شمالی کوریا کا سامنے کرنے کے لئے جنوبی کوریا کی معیشت پر ہتھیاروں کا بوجھ لاد دیں۔

غیر منصفانہ معاشی تقسیم کی وجہ سے تیسری دنیا غربت ، بیماری اور جہالت کی سمندر میں ڈبکیاں کھا رہی ہے۔ستر فیصد قدرتی نظام وسائل کے مالک عوام قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ یورپ اور امریکہ کی صنعت کا پہیہ چلانے کے لئے تارکین وطن کی محنت بنیادی عامل کا کردار ادا کر رہی ہے۔اتنی غیر متوازن معیشت کب تک زندہ رہ سکتی ہے۔

تازہ ترین اہم پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ “مقبوضہ”تیسری دنیا اب دوسری دنیا بن گئی ہے۔اب ان میں مناقشہ کی جگہ مفاہمت کو اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔پاکستان، ہندوستان، چین، تائیوان مخالفت کے باوجود مل کر معاشی تعاون پر مبنی پروگرام کر رہے ہیں اسی طرح جنوبی کوریا کی ہمدردیاں شمالی کوریاکے بھوک سے بلکتے بچوں کے ساتھ ہیں۔نفرت کی دیواریں گر رہی ہیں تیسری دنیا کی معیشت اتنی تیزی سے ترقی کر رہی ہے کہ اگر اعتماد کی فضاء پیدا ہو جائے تو مغرب کی ایجادات پر انحصار کرنے کی ضرورت بھی باقی نہیں رہے گی۔مغرب کی پیداواری لاگت اسے آزاد مارکیٹ اکانومی میں سستی اشیاء کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں چھوڑے گی۔مغربی اقوام کو پہلے ہی بے روزگاری کا سامنا ہے۔اگر معاشی معاطعوں کا سلسلہ جاری ہوگا تو ایسی کساد بازاری پیدا ہو سکتی ہے جس کا مغربی اقوام نے کبھی تصور بھی نہ کیا ہوگا۔مغرب کی معیشت کا آخری سہارا ہتھیاروں کی فروخت ہے جب تیسری دنیا کی اقوام بالغ نظری سے اپنے اختلافات ختم کر دیں گی تو مغرب کا یہ سہارا بھی چھن جائیگا ۔

پانچ سو سال بعد تاریخ کروٹ لے رہی ہے۔جو ں جوں وقت گزرتا جائیگااس عمل میں تیزی آتی جائیگی۔ اگر ایسا ہوا تو یہ پہلی مرتبہ نہیں ہو رہاہوگا مگر جو بات پہلی مرتبہ ہو رہی ہے وہ زیادہ خوفناک ہے۔ وہ بات یہ ہے کہ گزشتہ پانچ صدیوں میں جن لوگوں کے پاس کرۂ ارض کو چلانے کا اختیار تھا انہوں نے ایک ایک جنگ میں لاکھوں انسان مارے، ایسے مہلک ہتھیار بنائے کہ جن کے استعمال سے بڑے بڑے شہر صفحہء ہستی سے مٹ گئے۔اب یہ خدشات حقیقت کا روپ دھار رہے ہیں کہ سمندر زمین پر چڑھ دوڑیں گے۔ پہاڑوں سے پانی کی آمدنی ختم ہو جائیگی۔اوزون میں سوراخ ہونے سے ہوائیں زہر آلود ہو جائیں گی، آکسیجن کی مقدار میں کمی ہو جائے گی اور اگر خدا نخواستہ ایٹمی جنگ چھڑ گئی تو میزائل ایٹموں کے ٹکراؤ سے کوئی ذی روح سطح زمین پر باقی نہ رہے گا۔

خطہ ارضی کو اتنے خطرات سے دوچار کر دینے والی تہذیب نہ صرف خود مٹ جائیگی بلکہ پورے انسانی تمدن کو مٹا کر رکھ دے گی۔تہذیبوں کا ٹکراؤ کا نظریہ پیش کرنے والے پہلے اسی تہذیبی ورثہ سے چھٹکارا حاصل کر لیں جو بنی نوع انسان کو ہمیشہ کے لئے صفحہ ہستی سے مٹانے پر تلا ہوا ہے۔اس خطرے سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ دنیا کی قیادت اب ان خطرناک لوگوں سے لے کر ذمہ دار لوگوں اور قوموں کو دی جائے جو انسانیت سے پیار کرنے والی ہوں ۔ فطری طور پر وہی قومیں انسانیت کو بچا سکتی ہیں جو انسان کی عظمت اور برابری میں یقین رکھتی ہیں ۔ تبدیلی کا یہ عمل تیزی سے جاری ہے۔اس کے راستے میں جو رکاوٹیں ، یادشواریاں آئیں گی وہ خودبخود دور ہوتی جائیں گی۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔