استور : محکمہ ہیلتھ میں ٹیسٹ انٹرویو شدید بدانتظامی کا شکار، اُمیدوار شدید سردی میں تین دن سے اپنی باری کے انتظار میں

استور : محکمہ ہیلتھ میں ٹیسٹ انٹرویو شدید بدانتظامی کا شکار، اُمیدوار شدید سردی میں تین دن سے اپنی باری کے انتظار میں

8 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

استور( بیورورپورٹ ) محکمہ ہیلتھ استور میں خالی آسامیوں پہ بھرتیاں امیدواروں کے لئے درد سر بن گیا ۔ منفی13 ٹمپریچرمیں صبح سے رات گئے تک ٹھٹھر تے ہوئے اپنی باری کے انتظار میں کئی امیدوار ہسپتال جا پہنچے۔ ستم ضرفی یہ ہے کہ محکمہ ہیلتھ استور میں خالی آسامیوں کی بھر تی ٹیم دن بھر ایک ہزار سے پندرہ سو کے قریب امیدواروں کا ٹیسٹ انٹرویو لے سکتے ہیں جبکہ 6000ہزار امیدوار انٹرویو کا شیڈول واضح نہ ہونے کی وجہ سے دن بھر انتظار میں کھڑے رہتے ہوے نمو نیہ کے مریض بن چکے ہیں جبکہ آفیسر شاہی کو گرم کمروں میں بیٹھے امیدواروں کی اس مصیبت اور پریشانی کا احسا س تک نہیں۔ اس موقعے پر استور کے بالائی علاقوں سے آنے والے امید واروں کی ایک بڑی تعداد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم آج تین دن سے اس شدید سردی میں نمونیہ کی بیماری کے ساتھ ساتھ ذہنی مریض بھی بن گئے ہیں۔ محکمہ ہیلتھ کی ٹیم کا ٹیسٹ انٹریو لینے کا طریقہ کار انتہائی غیر مناسب ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بالائی علاقوں کے نوجوانوں کے3ماہ پہلے نائب قاصد کی پوسٹ کے لئے کاغذات جمع کروائے گئے تھے اور سینکڑوں نوجوانوں نے نائب قاصد کی پوسٹ کے لئے اپنے کاغذات جمح کروانے کے بعد آج تین دن سے انٹر یو کے لئے اپنی باری کے انتظار میں کھڑے رہنے کے بعد بھی نائب قاصد کےلیے انٹریو کی باری آئی تو بھرتی ٹیم نے معذورت کر کے کہا کہ تحصیل شونٹر کے لئےنائب قاصد کی کوئی خالی آسامی نہیں ہے۔ اس موقعے پر امیدواروں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر محکمہ ہیلتھ کے اندر نائب قاصد کی تحصیل شونٹر کے لئے کوئی خالی آسامی نہیں تھی تو ہمارئے کاغذات کیو ں لئے گئے ۔اب گزشتہ3دنوں سے ہمیں سخت سردی میں بیٹھانے کے بعد آج ہمیں واپس گھر کا راستہ دکھانا محکمہ ہیلتھ گلگت بلتستان اور محکمہ ہیلتھ استور کی نا اہلی ہے یا اپنوں کو نوازنے کے لئے ہمیں گھر کا راستہ دیکھا رہے ہیں۔ محکمہ ہیلتھ استور میں ہونے والی بھر تیوں میں امیدواروں کا شدید احتجاج کے بعد صوبائی حکومت کے میرٹ کے دعوے پر سوالیہ نشان کھڑ ا ہوا ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔